سعودی عرب میں وزارتوں کے نام تبدیل ،اداروں میں اکھاڑ پچھاڑ ،شاہی فرمان جاری

سعودی عرب میں وزارتوں کے نام تبدیل ،اداروں میں اکھاڑ پچھاڑ ،شاہی فرمان جاری

جدہ (محمد اکرم اسد /بیورو چیف) خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بند عبدالعزیز نے شاہی فرمان جاری کرتے ہوئے متعدد وزارتوں اور ذیلی سرکاری اداروں کے ناموں کی تبدیلی کے علاوہ اُن کے کام اور اُن کے دائرہ کار میں تبدیلی کا فرمان جاری کیا ہے۔ شاہی فرمان میں بعض وزارتوں کے قلمدان نئے وزراء کوسونپے گئے ہیں ۔ شاہی فرمان میں کہا گیا ہے کہ وزارتوں اور ذیلی سرکاری اداروں میں تبدیلی وژن 2030 ء کے پیش نظر کی گئی ہے ۔ وژن 2030 ء کے اغراض و مقاصد اور اہداف سے ہم آہنگ کرنے کیلئے کابینہ کی تشکیل نو کا اعلان کیا گیا ہے۔ شاہی فرمان کے مطابق وزارت پانی و بجلی کو ختم کر دیا گیا ہے۔ وزارت تجارت و صنعت کا نام تبدیل کر کے وزارت تجارت و سرمایہ کاری رکھا گیا ہے۔ وزارت پیٹرول اور معدنی وسائل کا نام وزارتِ توانائی ۔ صنعت اور معدنی وسائل رکھا گیا ہے۔ وزارت اسلامی امورو اقاف دعوۃ و ارشاد کا نام تبدیل کر کے وزارت اسلامی امور اور دعوۃ وار شاد رکھا گیا ہے۔ وزارت حج کو وزارت حج و عمرہ کہا جائے گا۔ وزارت محنت و وزارت سماجی امور کو ضم کر دیا گیاکر دیا گیا ہے ۔ اب اسے وزارت محنت و سماجی ترقیات کہا جائے گا۔ شاہی فرمان کے مطابق وزیر پیٹرول اور معدنی وسائل انجینئر علی بن ابراہیم النیصی کو سبکدوش کر دیا گیا ۔ وزیر حج ڈاکٹر نبدر اسعد حجار کو منصب سے ہٹاد یا گیا ۔ اور وزارت حج و عمرہ کا قلمدان محمد بنتن کے سپرد کر دیا گیا ۔ وزیرتجارت و صنعت ڈاکٹر توفیق الربیعہ کو منصب سے سبکدوش کر کے وزارت صحت کا قلمدان دیا گیا گیا ہے۔ وزیر سماجی امور ڈاکٹر ماجد القصبی کو اس منصب سے سبکدوش کر کے تجارت و سرمایہ کاری کی وزارت دی گئی ہے۔ وزیرصحت انجینئر خالد الفالح کو وزارت سے ہٹاکر وزیر توانائی اور معدنی وسائل بنایا گیا ہے ۔ وزارتِ ٹرانسپورٹ کا منصب سلیمان بن عبداللہ الحمدان کو دیا گیا ہے ۔ شہزادہ خالد بن سعود بن خالد اَل سعود کو ایوان شاہی میں مشیر او ر شہزادہ محمد بند سعود بن خالد اَل سعود کو مجلس شوریٰ کا رکن مقرر کیا گیا ہے ۔ شہزادہ محمد بن عبدالعزیز اَل سعود ، انجینئر علی النعیمی اور شیخ ڈاکٹر اسد بن ناصر النشری کو ایوانِ شاہی میں مشیر کے طورپر مقرر کیا گیا ہے۔ شہزادہ ترکی بن محمد بن سعود الکبیر کو خادمِ حرمین شریفین کا مشیر مقرر کیا گیا ۔

مزید : علاقائی