پلوامہ، جھڑپ میں شہید ہونے والے تینوں مجاہدین سپرد خاک، وادی میں مکمل ہڑتال

پلوامہ، جھڑپ میں شہید ہونے والے تینوں مجاہدین سپرد خاک، وادی میں مکمل ہڑتال

سرینگر(اے این این) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہونے والے تینوں مجاہدین سپرد خاک،نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت،مختلف مقامات پر تشدد بھڑک اٹھا، وادی میں مکمل ہڑتال ، مشتعل مظاہرین کا بھارتی فورسز پر پتھراؤ،آنسو گیس اور لاٹھی چارج سے44افراد زخمی ہو گئے،متعدد گرفتار،وادی میں غیر اعلانیہ کرفیو کا نفاذ،کاروباری اور تجارتی مراکز بند ہونے سے نظام زندگی ٹھپ ہو کر رہ گیا،ریل سروس بھی بند رہی ۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ کے علاقہ پنجگام میں گزشتہ شب بھارتی فورسز اور جنگجمجاہدین کے مابین ایک مختصر تصادم میں تینمجاہدین جاں بحق ہوئے جن میں حزب المجاہدین کے دو اور لشکر طیبہ کا ایک مجاہد شامل ہے۔ جبکہ ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا۔جھڑپ کی جگہ پر ایک گرینیڈ دھماکہ ہونے سے ایک عام نوجوان مضروب ہوا۔تینوں مجاہدین کو نماز جنازہ کے بعد سپرد خاک کر دیا گیا ہے ، نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔اس موقع پر مختلف علاقوں میں تشدد بھڑک اٹھا اور لوگوں نے احتجاجی مظاہرے اور بھارت کے خؒ اف شدید نعرے بازی کی ۔پلوامہ کے گاؤں ٹہاب میں قابض فورسز اور نوجوانوں کے مابین دن بھر زبردست جھرپیں ہوئیں جن میں۴۴ افراد زخمی ہوئے۔پورے پلوامہ ضلع میں جنگجمجاہدین کی شہادت پر مکمل ہڑتال رہی جبکہ ریل سروس بھی بند رہی۔پولیس کے مطابق گزشتہ شب مصدقہ اطلاع ملنے پر فوج کی ۵۵ آر آر اور اونتی پورہ پولیس نے پنجگام گاؤں کا محاصرہ کیا۔ بعد میں ایک ریہائشی مکان کے چاروں اطراف محاصرہ تنگ کیا گیا اور اس دوران دونوں اطراف سے گولیوں کا تبادلہ ہوا اور اس تصادم میں تین جنگجمجاہدین جان بحق ہوئے جب کہ ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا۔جان بحق مجاہدین کی شناخت اسحاق احمد ڈار سا کن ڈوگری پورہ، اشفاق احمد بابا ساکن ٹہاب اور حسیب پالہ ساکن بنڈنہ کے طور ہوئی۔ اسحاق اور اشفاق حزب المجاہدین سے ساتھ وابستہ تھے جبکہ حسیب لشکر طیبہ کا مجاہد تھا۔ ایس ایس پی اونتی پورہ شری دھر پاٹل نے بتایا کہ انہیں مصدقہ اطلاع تھی کہ پنجگام میں ایک گھر میں چند مجاہدین موجود ہیں جس کے بعد انہوں نے گاؤں کو محاصرے میں لیا۔

جس دوران مجاہدین نے گولی چلائی جس کے جواب میں فورسز نے بھی گولیاں چلائیں اور کئی گھنٹے بعد تین مجاہیدن مارے گئے اور ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کارروائی مین ایک مکان کو بھی نقصان ہوا۔ جوں ہی ان ہلاکتوں کی خبر پلوامہ میں پھیلی تو آناً فاناً نوجوانوں نے کئی علاقوں سے ڈوگری پورہ، بنڈنہ اور ٹہاب کا رخ کیا اور یہاں جم کر احتجاجی مظاہرے کئے۔اشفاق کی میت جوں ہی ٹہاب پہنچائی گئی تو دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں کی تعدادمیں یہاں لوگ جمع ہوئے۔ بعد میں بھارت مخالف اور آزادی کے حق میں زبردست نعرے بازی ہوئی جس کے بعد ہزاروں لوگوں نے اس کے نماز جنازہ میں شرکت کی۔عینی شاہدین نے بتایا کہ جوں ہی نمازہ جنازہ پڑھائی گئی توکچھمجاہدین یہاں اچانک نمودار ہوئے اور انہوں نے ہوا میں گولیونں کے راونڈ چلائے اور بعد میں فوراً وہاں سے چل دئے۔اسکے بعدنوجوانوں نے ایک بار پھر زبر دست احتجاجی مظاہرے کئے جس کے بعد مشتعل نوجوانوں نے ٹہاب میں قائم سی آر پی ایف کے ایک کیمپ پر بے تحاشا پتھراؤکیا۔

صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہاں مزید فورسز اہلکار بلائے گئے۔ ایس او جی اور سی آر پی ایف نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی خاطرآنسو گیس شیلنگ کا استعمال کیا۔ کچھ وقت کے بعد جھڑپیں پورے ٹہاب میں پھیل گئیں اور پورا گاؤں دھویں کی لپیٹ میں آگیا۔دن بھر جاری رہنے والی ان جھڑپوں میں تین پولیس اہلکاروں سمیت ۴۲ افراد زخمی ہوئے۔ ان میں سے چار کو سرینگر منتقل کیا گیا۔ آٹھ کو ضلع اسپتال جہاں سے تن زخمیوں کو سرینگر منتقل کیا گیا۔ایس ایس پی پلوامہ رئیس بٹ نے بتایا ک ٹہاب میں نوجوانوں نے سی آر پی کیمپ پر پتھراؤ کیا جس کے بعد فورسز نے جوابی کارروائی کی۔ انہوں نے بتایا کہ جھڑپوں میں پولیس کے تین اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ادھر جوں ہی بنڈنہ میں جاں بحق ہوئے مجاہدکی میت پہنچائی گئی تویہاں ہزاروں لوگ جمع ہوئے اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کرنے لگے،مظاہرین نے بھارت کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کی۔ بعد میں ہزاروں افراد نے اسکی نماز جنازہ ادا کی۔ ڈگری پورہ میں بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور آزادی کے حق میں نعرے بازی اور جاں بحق مجاہد کا جنازہ اداکیا۔صبح سے ہی تصادم آرائی کی جگہ کو دیکھنے کی خاطرسینکڑوں لوگ پنجگام پہنچے۔ ا س دوران اچانک ایک بارودی مواد پھٹ گیا جس سے ایک نوجوان وکیل وگے ولد عبدالحمید وگے زخمی ہوا۔ ایس پی اونتی پورہ نے کہا کہ جھڑپ کی جگہ پر ابھی بارودی مواد پڑاہے جس کو اٹھایا جانا باقی ہے۔اس دوران پلوامہ قصبہ میں بھی مشتعل نوجوانوں نے فورسز پر پتھراؤ کیا جسکے بعد فورسز نے جواب میں ٹیر گیس کے گولے داغے۔قصبہ میں ہڑتال رہی۔ اس دوران کل پورے علاقے میں مکمل ہڑتال رہی جس دوران تمام دکانیں بند رہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک غائب رہا۔صبح دس سے چار بجے تک مواصلاتی نظام بھی بند کیاگیاجبکہ بانہال بارہمولہ ریل سروس بھی معطل رہی۔بھارتیہ فورسز کے ہاتھوں متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی بھی اطلاعات ہیں ۔

مزید : عالمی منظر