منو بھائی سلامت رہیں

منو بھائی سلامت رہیں

میں جن بچوں کے ساتھ تھا انہیں کھلونوں اور چاکلیٹوں سے کہیں زیادہ انسانی خون کی ضرورت تھی، جی ہاں، سرخ گاڑھے تازہ انسانی خون کی، آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ میں کوئی ایسی من گھڑت اور ڈراؤنی کہانی سنانے جا رہا ہوں جیسی کہانیاں اینکرز اپنے پروگراموں کی ریٹنگ اور کالم نگار قارئین کی تعداد بڑھانے کے لئے سناتے ہیں، نہیں نہیں، یہ ایسی کوئی کہانی نہیں جس کے کرداربچے کسی الف لیلائی کہانی میں پائے جاتے ہوں، یہ بچے تو اتنے ہی معصوم ، پیارے اور دل موہ لینے والے ہیں جیسے ہمارے اور آپ کے ہنستے کھیلتے بچے مگر انہیں تھیلے سیمیا کا مرض لاحق ہے ، اس مرض کی وجہ سے انسانی خون میں ہیموگلوبن نہیں بنتی اور مریض کو دو سے تین ہفتوں کے دوران ایک سے دو بوتل خون لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ان بچوں کو تحفوں کی ضرورت نہیں کہ جب میں منو بھائی کی میزبانی میں خالد عباس ڈار، سہیل وڑائچ ،طلحہ برکی اور دیگردوستوں کے ساتھ ان ننھے منے بچوں میں گفٹ پیک تقسیم کر رہا تھا تو ان کے چہروں پر بھی اسی طرح خوشی رنگ بکھیر رہی تھی جس طرح ہمارے اور آپ کے بچوں کے چہروں پرکسی ضد کے پورے ہونے پر جگمگاتی ہے مگر وہ اس وقت اٹھ کے خوشی سے ناچ نہیں سکتے تھے کیونکہ وہ ایک سے نالی بندھے تھے جس کے ذریعے قطرہ قطرہ خون ان کے جسم میں داخل ہو رہا تھا۔

آپ یقینی طور پر ہمارے منو بھائی کو جانتے ہوں گے، وہ بہت ہی معروف ادیب، صحافی اور کالم نگار ہیں مگرنسبتاً کم لوگ جانتے ہیں کہ ان کے کریڈٹ پر تھیلے سیمیا، ہیمو فیلیا اور بلڈ کینسر کے مریض بچوں کی جان بچانے کے لئے اٹھارہ برسوں سے کام کرنے والی سندس فاونڈیشن کی سربراہی بھی ہے۔ ہمارے معاشرے میں آہستہ آہستہ تھیلے سیمیا بارے آگاہی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ مجھے ایک دو برس پہلے یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب میں بھی چند طالب علموں نے بلایا اور دکھایا تھا کہ وہ اس مرض کے شکار بچوں کو خون فراہم کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔اسلام آباد کا مرکز اور فاطمید سمیت دیگر این جی اوز کی بھی اس میں کنٹری بیوشن ہے مگر سندس فاونڈیشن ایک اعتبار اور ایک ساکھ بنا چکی ہے جہاں ہر مہینے پانچ ہزار مریضوں کو خون کی صورت میں نئی زندگی دی جا رہی ہے۔ میں سندس فاونڈیشن میں کنیئرڈ کالج کے پلے کارڈز بھی دیکھ رہا تھا جن پر فاونڈیشن کے ساتھ مل کر اس مرض کا مقابلہ کرنے کے نعرے درج تھے ۔یہ جینیاتی مرض بچوں میں اس صورت میں منتقل ہوتا ہے جب ماں اور باپ دونوں اس کے کیرئیر ہوں، اس سے بچا اسی صورت جا سکتا ہے کہ شادی سے پہلے باقاعدہ میڈیکل ٹیسٹ ہو ۔ اگر میں یہ کہوں کہ میں اور آپ ان والدین کی تکلیف اور مشکل کومحسوس کرسکتے ہیں جن کے بچوں کو تھیلے سیمیاہو، انہیں ہر دوہفتے بعد اپنے بچے کے بلڈ گروپ کے صحت مندخون کی بوتل درکار ہو تو میں یقینی طور پر جھوٹ بولوں گا۔ میں نے بھی ان بچوں کو دیکھا، انہیں گلے سے لگایا، ان کے چہروں کو چوما مگر مجھے یقین ہے کہ دو ہفتے بعد ان کے والدین ہی دوبارہ اس کیفیت کا شکار ہوں گے،میں اور آپ نہیں ہوں گے۔ طلحہ برکی ، سندس فاونڈیشن میں ہونے والی تقریب کے مہمان خصوصی تھے، یہ خوش شکل اور اونچا لمبا نوجوان وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا قریبی اور قابل اعتماد ساتھی ہے، وہ وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے ایسے پمپ بچوں کے لئے تحفے کے طور پر لائے تھے جن کی مریض بچوں کے بدن سے اضافی فولاد کے اخراج کی خاطر ضرورت ہوتی ہے، مجھے بتایا جا رہا تھا کہ اس مرض میں جو ٹیکا درکار ہوتا ہے وہ بھی باقاعدہ امپورٹ نہیں ہو رہا بلکہ اسمگل ہو کے آ رہا ہے۔ میں جو ہمیشہ آئین اور قانون کا حامی رہا ہوں میرے دل سے دعا نکلی ، یا اللہ جب تک قانونی درآمد کے ذمہ داروں کوخدا کا خوف نہیں آتا تب تک یہ سمگلنگ بلاروک ٹوک جاری رہے، اشتراکی دور کے دوران سوویت یونین میں قرآن پاک سمگل ہو کر جایا کرتے تھے اور اسے مقدس سمگلنگ کہا جاتا تھا، میں نے سوچا، ان ٹیکوں کی سمگلنگ تو اس سے بھی کہیں زیادہ مقدس ہے جو اس کائنات کی سب سے خوبصورت تخلیق بچوں کو زندگی دے رہی ہے۔

مجھے یقین ہے کہ اگر آپ میرے ساتھ وہاں ہوتے ، ان معصوم بچوں کو دیکھتے جنہیں خون کی بوتلیں لگی ہوئی تھیں، جن کے چہروں کو تھیلے سیمیاڈے مناتے ہوئے فیس پینٹنگ کے ذریعے بلیوں اور شیروں کی شکل دی گئی تھی،ان کے لئے لنچ کے ساتھ ساتھ پپٹ اور میجک شو کا بھی اہتمام تھا، آپ بھی میرے ساتھ کہتے کہ ہمارے حکمران جو انڈر پاسز اور فلائی اوور بنانے میں بہت مشہور ہیں، ہمارے وہ سیاستدان جو دھرنے دینے میں عالمگیر شہرت رکھتے ہیں، وہ ان بچوں اور انکے والدین کے دکھ، درد اور پریشانی کا اندازہ کر لیں تو سب کام چھوڑ چھاڑ کے سب سے پہلے ان کی مدد کریں۔ پاکستان میں تھیلے سیمیا کے مریض بچوں کی تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے، اٹھانوے لاکھ کے قریب لوگوں میں اس مرض کو بڑھانے کی صلاحیت رکھنے کاخدشہ موجود ہے یوں بغیر میڈیکل ٹیسٹ کے ہونے والی شادیوں کے نتیجے میں ہر سال پانچ ہزارنئے مریضوں کا اضافہ ہوجاتا ہے۔تھیلے سیمیا میجر یعنی مرض کی شدت کے ساتھ ہی پوری عمر خون کی تبدیلی کاعذاب جھیلنا پڑتا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ جن ملکوں سے اس مرض کا آغا ز ہوا تھا وہاں بھی اس پر قابو پا لیا گیا ہے ، اس مرض پر ایران بھی قابو پا چکا ہے جہاں کزن میرج کا رواج کافی زیادہ ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے اندر اسے ختم کیا جائے۔ ایک کوشش تو یہ ہے کہ اگلے چار سے پانچ برسوں میں اس مرض کے پھیلاؤ پر قابو پا لیا جائے۔ میں نے سوچا کہ اگر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ڈینگی پر قابو پا سکتے ہیں تو پھر پنجاب میں تھیلے سیمیاپر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ وہ اگر عزم کر لیں کہ کوئی بھی نکاح اس وقت تک رجسٹرڈ ہی نہیں ہو گا جب تک نکاح نامے کے ساتھ لڑکے اور لڑکی کے تھیلے سیمیا کے مریض نہ ہونے کے سرٹیفیکیٹ منسلک نہیں کیے جائیں گے چاہے اس کے لئے انہیں پنجابی فلموں کے ہیرو سلطان راہی کی طرح یہ نعرہ لگانا پڑے ، اوئے تھیلے سیمیا کے کیرئیرو، تہاڈی شادی نئیں ہو سکدی !!!

میں نے سنا تھا کہ پاکستانی طبی ماہرین نے دس سالہ تحقیق کے بعد انتقالِ خون کے بغیر تھیلے سیمیا کے علاج میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کرلی ہے، بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیزز میں152 مریضوں پر تحقیق کی گئی۔ دس برس پر محیط تحقیق کے بعد دعویٰ کیا گیا کہ پہلے سے موجود دوا (Hydroxuyrea) کے استعمال سے تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا بچے صحت یابی طرف جا سکتے ہیں۔یہ دوا ایک بیماری (Sickle Cell Diseases) کے لیے امریکی ادارے ایف ڈی اے سے منظور شدہ ہے اوریہ تحقیق امریکی مؤقر جریدے ’جرنل آف پیڈیاٹرک ہیماٹولوجی میں شائع ہو چکی ہے جس کے مطابق 41فیصد بچوں کو خون لگانے کی ضرورت ہی نہیں رہی اور 39فیصد بچوں میں یہ ضرورت آدھی رہ گئی، 20فیصد پر اس دوا نے اثر نہیں کیا۔ یہ خبر ، تین، چار برس پرانی ہے اور میں نہیں جانتا کہ اس کے بعداس میں کیا پیش رفت ہوئی تاہم جب تک کوئی دوا بین الاقوامی اداروں سے منظوری حاصل نہ کرلے تب تک اسے ماہر ڈاکٹروں کی زیر نگرانی تحقیق کے علاوہ بالکل بھی استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔ میں دعا گوہوں کہ تھیلے سیمیاکے مرض کا شکار بچوں کو ریلیف دینے کے لئے کوئی دوا جلد سے جلد سامنے آجائے اور جب تک کوئی دوا نہیں بنتی، ہمارے حکمران ہی اتنی جرات کا مظاہرہ کریں کہ وہ بغیر میڈیکل ٹیسٹ کے کوئی شادی نہ ہونے دیں ۔ابھی تو میرے پیارے پیارے بچوں کے لئے منو بھائی موجود ہیں،زندگی دینا تو یقینی طور پر خدا کا ہی کام ہے اور منو بھائی اپنی تمام تر بزرگی کے باوجود اس خدائی کام میں تن دہی سے جتے ہوئے ہیں، آئیں ہم سب مل کر اپنے بچوں کی زندگی اور صحت کے لئے بار بار دعا کریں کہ ہمارے اور ہم سے بھی بڑھ کر تھیلے سیمیا کے مریض بچوں کے اچھے، سچے اور پیارے منو بھائی سلامت رہیں، سلامت رہیں، سلامت رہیں۔

مزید : کالم