تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کے استعفے کی مخالفت کیوں کی؟

تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کے استعفے کی مخالفت کیوں کی؟

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری:

عام خیال یہ تھا کہ اپوزیشن کی بعض جماعتیں وزیراعظم نوازشریف کے استعفے کے حق میں نہیں تھیں اس لیے ٹی او آرزبناتے وقت اس امر پر اتفاق نہیں ہو سکا تھا کہ وزیراعظم سے استعفا بھی طلب کیا جائے، چودھری اعتزاز احسن نے جن کے گھر پر ٹی او آرز کی تیاری کے لیے نو اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ہوا تھا اجلاس کے خاتمے کے بعد میڈیا کو بتایا تھا کہ استعفے کا مطالبہ اس لیے نہیں کیا جا رہا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں اس پر متفق نہیں۔ اُن کی اِس بات کے بعد عمومی طور پر یہی سمجھا گیا کہ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں (تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی) تو وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کرنے کے حق میں تھیں، چونکہ اتفاق رائے نہیں ہو سکا تھااس لیے یہ مطالبہ نہ کیا گیا، اب چودھری شجاعت حسین نے جن کی جماعت اس اجلاس میں باقاعدہ طور پر شریک تھی یہ چونکا دینے والی بات کی ہے کہ باقی جماعتیں تو استعفے کے حق میں تھیں لیکن تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی نے اپنا موقف بدل لیا تھا اس لیے یہ متفقہ مطالبہ نہیں کیا جا سکا اب تک دونوں جماعتوں کی جانب سے چودھری شجاعت حسین کے اس بیان کا جواب نہیں آیا اس لیے یہی سمجھا جا رہا ہے کہ انہوں نے جو کچھ کہا درست کہا، تاہم دونوں جماعتوں کی قیادت کے ذمے جواب باقی ہے۔

چودھری اعتزاز احسن تو اس اجلاس کے بعد بھی وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور پارٹی کے بعض رہنما اب بھی اس کے حامی ہیں اور اس کے لیے دلیل یہ لاتے ہیں کہ نوازشریف نے جس طرح یوسف رضا گیلانی سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا اسی طرح اب ان سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے، حالانکہ نوازشریف نے جب یوسف رضا گیلانی سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا اس وقت ملک کی سب سے بڑی عدالت انہیں توہین عدالت کا مرتکب قرار دے چکی تھی، اور ان کے خلاف اس مقدمے کی کارروائی کا پراسیس جاری تھا تب انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کو مستعفی ہو جانا چاہیے کیونکہ انہیں توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا چکا ہے۔

نوازشریف کے مطالبہ پر یوسف رضا گیلانی بہرحال مستعفی نہیں ہوئے تھے اور وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہتے ہوئے وہ اندرون ملک اور بیرون ملک اپنے وہ سارے دلائل تسلسل کے ساتھ دہرا رہے تھے جو انہوں نے عدالت میں پیش کئے اور عدالت نے ان دلائل میں کوئی وزن محسوس نہ کرتے ہوئے انہیں مسترد کر دیا، جن دلائل کی بنیاد پر وہ عدالت کے اندر اپنا مقدمہ ہار گئے تھے انہی دلائل کو لے کر وہ اپنا مقدمہ بدستور ’’عوام کی عدالت‘‘ میں لڑ رہے تھے اور بزعم خویش نہ صرف یہ سمجھے بیٹھے تھے بلکہ اس کی وکالت بھی کر رہے تھے کہ وزیراعظم کو کوئی عدالت اس کے عہدے سے نہیں ہٹا سکتی، صرف پارلیمنٹ ہی ایسا کر سکتی ہے کیونکہ انہیں پارلیمنٹ ہی نے یہ عہدہ سونپا ہے۔ اعتزاز احسن اس مقدمے میں یوسف رضا گیلانی کے وکیل تھے لیکن دنیا نے دیکھا کہ جب عدالت نے انہیں تا برخاست عدالت قید (30 سیکنڈ یا لگ بھگ) کی سزا سنائی تو ان کا سارا طمطراق ختم ہو گیا وہ نہ صرف وزیراعظم کے عہدے سے محروم ہو گئے بلکہ اگلے الیکشن لڑنے کے بھی نااہل ہو گئے، یہی وجہ تھی کہ 2013ء میں وہ انتخابی امیدوار بھی نہ بن سکے تھے، اب سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت حال کو پانامالیکس کے مماثل قرار دیا جا سکتا ہے، ابھی تک تو ان انکشافات کی بنیاد پر محض شور و غوغا مچا ہے نہ تو یہ معاملہ کسی عدالت میں گیا ہے اور نہ ہی کسی عدالت نے نوازشریف پر مقدمہ قائم کیا ہے، فیصلہ تو دور کی بات ہے اب یوسف رضا گیلانی کے کیس میں نوازشریف کے مطالبے کو موجودہ صورت حال میں کس طرح یکساں قرار دیا جا سکتا ہے؟ یہ بات تو اپنی جگہ ہے ہم عرض یہ کر رہے تھے کہ چودھری شجاعت حسین کے انکشاف کے بعد دونوں جماعتیں کہاں کھڑی ہیں؟ جہاں تک اپوزیشن جماعتوں کے ٹی او آرز کا تعلق ہے وہ حکومت نے مسترد کر دئیے تھے۔ بعد میں حکومت کی حلیف جماعتوں نے بھی انہیں مسترد کر دیا اب وزیراعظم نے خود کہہ دیا ہے کہ وہ ٹی او آرز کے مسئلے پر ڈکٹیشن نہیں لیں گے تو سوال صرف یہ ہے کہ اب ٹی او آرز کا مستقبل کیا ہے جو اپوزیشن نے دو دن کے اجلاسوں کے بعد 15 نکات کی شکل میں بنائے تھے اور جن کے بارے میں حکومتی حلقے کہتے ہیں کہ یہ ٹی او آر نہیں، بلکہ ایک شخص کے خلاف یکطرفہ فیصلہ ہے۔ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ ٹی او آرز پر مشاورت کے لیے تیار ہیں اس جانب اشارہ ہے کہ آئندہ چند روز میں حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کی ملاقات ہو سکتی ہے جن میں متبادل ٹی او آرز پر مشتاورت ہو جائے ویسے آج پاناما پیپرز کی جو فہرست آ رہی ہے ان میں عین ممکن ہے کچھ ایسے پردہ نشینوں کے نام بھی ہوں جن کی وجہ سے کھیل کا رخ ہی بدل جائے، ویسے تو چودھری شجاعت حسین کا بیان بھی ایک دھماکے سے کم نہیں، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے جو رہنما اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں شریک تھے ان پر یہ وضاحت واجب ہے کہ اگر وزیراعظم کے استعفے پر اتفاق تھا تو پھر یہ اختلاف کی شکل کیوں کر اختیار کر گیا، کیا یہ ہاتھی کے دانتوں والا معاملہ تو نہیں تھا۔

مزید : تجزیہ