نامعلوم شخص ہسپتال میں دم توڑ گیا ‘ لاش دو روز تک گلتی سڑتی رہی

نامعلوم شخص ہسپتال میں دم توڑ گیا ‘ لاش دو روز تک گلتی سڑتی رہی

خانیوال(ڈسٹرکٹ رپورٹر)ہسپتال میں زیر علاج نامعلوم شخص دم توڑ گیا نعش دو روز تک گلتی سڑتی رہی تفصیل کے مطابق ویسے تو کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر مسیحا ہوتے ہیں مگر بعض اوقات ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں کے سرشرم سے جھک جاتاہے چند روز قبل نامعلوم شخص کو علاج کیلئے ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ مبینہ طور پر ڈاکٹروں کی لا پرواہی کے باعث(بقیہ نمبر14صفحہ12پر )

دم توڑ گیا جس کی نعش کودن کی ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کی ہدایت پر مردہ خانہ منتقل کردیا گیا مگر اداروں کی روایتی بے حسی سے کوئی بھی نہ اعلان کرایا گیا اور نہ ہی اس کی نعش کے برف رکھی گئی تاکہ اس کے جسم محفوظ رہ سکے ڈیوٹیاں بدلتی گئیں مگر کسی نے بغیر اے سی کے مردہ خانہ میں پڑے نامعلوم شخص کی نعش کی طرف توجہ دی نامعلوم شخص کی نعش کے بدبو مارنا شروع کردی اور پیٹ پھول گیا مردہ خانہ میں صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث کیڑے مکوڑے نے بھی نعش پر حملہ کردیا چہرے اور منہ میں کیڑے مکوڑوں نے حملہ کر کے اس کی نعش کو مسخ کرنا شروع کردیا اور بدبو باہر تک پھیلنے لگی تو معلوم ہوا کہ مردہ خانہ میں کسی کی میت پڑی ہے بے حس اداروں نے تب جاکر اس کی میت کو دفنانے کیلئے لے گئے اس سے پہلے کسی بھی ادارے کے کان میں جوں تک نہ رینگی جب بھی کسی نامعلوم شخص کی نعش کو دفنانا ہوتو اداروں میں آپس کی باہمی کوراڈینیشن نہ ہونے کی وجہ سے نعشیں پڑی پڑی گل سڑ جاتی ہیں ٹی ایم اے کے اہلکاروں نے ڈینگی سپرے کرنے والی گاڑی پر نامعلوم شخص کی نعش کو لے جاکر لاوارثوں کے قبرستان میں سپرد خاک تو کردیا لیکن یہ نامعلوم 45سالہ شخص مرتوگیا مگر بلند وبانگ دعوے کرنے والے نظام کی قلعی بھی کھول گیا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر