گگو منڈی ‘ حاملہ خاتون کو سرکاری ہسپتال میں طبی امداد نہ ملی ‘ بچہ چل بسا

گگو منڈی ‘ حاملہ خاتون کو سرکاری ہسپتال میں طبی امداد نہ ملی ‘ بچہ چل بسا

گگو منڈی( نامہ نگار)غریب حاملہ عورت بچے کی پیدائش کے لیے سرکاری ہسپتال کے چکر لگاتی رہی سٹا ف نرس نے دو مرتبہ واپس بھیج دیا بچہ پیٹ مین ہی جاں بحق۔تفصیلات کے مطابق (بقیہ نمبر16صفحہ12پر )

فرید ٹاؤن کے رہائشی محنت کش عبدالواحد کی حاملہ بیوی جمیلہ بی بی کو رات دس بجے کے قریب زچگی کی دردیں شروع ہوئیں تو وہ مقامی سول ہسپتال گئی لیکن ڈیوٹی پر موجود سٹاف نرس سعدیہ نے کہا کہ اس وقت ہسپتال میں کوئی ڈاکٹرز موجود نہیں ہے تم کسی پرائیویٹ ہسپتال چلی جاؤ یا صبح آ نا تو جمیلہ بی بی درد سے کراہتے ہوئے واپس چلی گئی جب اگلی صبح واپس آ ئی تو دوبارہ سعدیہ نرس ہی ڈیوٹی پر موجود تھی جس نے کہا کہ آ ج اتوار ہے ہسپتال بند ہے تم کل آ نا لیکن مریضہ کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث اس کا خاوند عبدالواحد اسے پرائیویٹ ہسپتال لے گیا جہاں موجود ڈاکٹر نے الٹرا ساؤنڈ کرنے کے بعد بتایا کہ بروقت پیدائش نہ کروانے کے باعث بچہ پیٹ میں ہی فوت ہو چکا ہے اب مریضہ کی جان بچانے کے لیے آ پریشن کرنا ضروری ہے یہ سنتے ہی جمیلہ بی بی صدمے سے بے ہوش ہو گئی ۔عبدالواحد نے کہا کہ ہم نے فوری طور پر آ پریشن کروایا‘اس نے کہا کہ حکومت سرکاری ہسپتالوں میں غریبوں کے مفت علاج کے دن رات کھو کھلے دعوے کرتی ہے میری وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل ہے کہ ایسے سرکاری ہسپتال بند کر دیں جہاں غریبوں کا علاج نہیں ہو سکتا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر