گنجائش سے زیادہ خواتین ‘ دارالامان اصلاح کے بجائے سب جیل بن گیا

گنجائش سے زیادہ خواتین ‘ دارالامان اصلاح کے بجائے سب جیل بن گیا

ملتان (خاتون رپورٹر)دارلامان میں گنجائش سے زیادہ خواتین موجود ہیں فنڈزکی قلت کے باعث6ماہ کے بل جمع نہ ہوسکے ‘رہائش پذیرخواتین کیلئے ادارہ اصلاح بننے کے بجائے سب جیل بن گیا۔ دارلاما ن میں رہائش پزید سمیعہ،روبینہ،افشاں ،کلثوم کنول نے پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رہائشی (بقیہ نمبر37صفحہ7پر )

خواتین کیلئے دارلامان سب جیل بن گیا سمیعہ کاکہنا تھا کہ اس کا تعلق جلالپور سے ہے اور اس کے چار بچے ہے وہ گزشتہ 7ماہ سے دارلامان میں رہائش پزیدہے وہ چاہتی ہے کہ اس کے بچے ساتھ رہے لیکن اس کے بچے شوہر کے پاس ہے طلاق کے بعد اس کے گھر والوں نے اس کا ساتھ دینے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد وہ دارلامان میں رہائش پزید ہے یہاں اس کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے اس کا مزید کا کہنا تھا کہ اس کو ذریعہ معاش کی پریشانی ہے کیونکہ اپنی بچے واپس پانے کیلئے پیسوں کی اشد ضرورت ہے لیکن ادارہ میں رہ کر وہ کما نہیں سکتی اور اگر یہاں سے کہیں اور جائے تو رہائش کا بھی مسئلہ ہے اس لیے وہ یہاں رہنے پرمجبور ہے روبینہ کا کہناتھا وہ ادارہ میں تقریبا2ماہ 8دن سے ہے اس نے شوہر سے خلع لی ہے کیونکہ وہ کوئی کام کاج نہیں کرتا تھا جس کی وجہ سے اسکا اور بچوں کا مستقبل تاریکی کی جانب گامزن تھا تو اس نے خلع لے لی تاکہ خود کماکر اپنا اور بچوں کا مستقبل سنوار سکیں لیکن قسمت کی ستم ظیفی ہے کہ خلع کے ساتھ ہی اس کے گھروالوں نے تمام رشتے ناتے ختم کرلیے اور بچے شوہرنے چین لیے اور وہ دارلامان آگئی افشاں کا کہناتھا کہ اس کاتعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے وہ ڈیرہ ماہ سے دارلامان میں رہائش پزیدہے اس کی شادی گھروالوں نے اس کی مرضی کے خلاف کی تھی وہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی بلکہ آگے پڑھ کر اپنامستقبل بنانا چاہتی تھی لیکن اس کے گھروالوں نے اس کی مرضی کے خلاف جا کر اس کی شادی کروادی اور پھر اس سے لاتعلق ہوگئے اس لیے وہ شوہر کو چھوڑ کر دارلامان آگئی کلثوم کنول کاکہنا تھا کہ وہ طلاق یافتہ ہے اس کو شوہر سے علیحد ہ ہوئے 3ماہ ہوگئے ہے تب سے وہ یہاں رہائش پزید ہے اس نے کہا اس کا شوہر نشے کاعادی تھا جسکی وجہ سے اسکو مارتابھی تھااور وہ گھروں کام کرکے اپنا پیٹ پالتی تھی اور وہ اس کی ساری کمائی غلط کاموں میں صرف کردیتاتھا اس وجہ وہ علیحدگی لینے پر مجبور ہوگئی گھرمیں بھابی نے رکھنے سے انکار کردیا اس لئے بھائی نے مجھے گھر سے نکال دیا اور میں خود ادارہ میں اگئی یہاں تمام خواتین معاشرے کی ستائی ہوئی خواتین ذہنی سکون اور پناہ حاصل کرنے کی بجائے بے شمار مسائل کا سامنا کرتی ہیں۔

دارالامان

مزید : ملتان صفحہ آخر