سندھ پولیس میں اصلاحات اور تطہیری عمل کو تیز کیا جائے، اے ڈی خواجہ

سندھ پولیس میں اصلاحات اور تطہیری عمل کو تیز کیا جائے، اے ڈی خواجہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے پولیس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ محکمہ پولیس سندھ میں اصلاحات کے نفاذ اور تطہیری عمل کے جملہ امور کو تیز کیا جائے تاکہ پولیسنگ کے مجموعی اقدامات کو مذید بہتر بنانیکے ساتھ ساتھ اختیارات سے تجاوز کرنے والے پولیس افسران اور جوانوں کے خلاف سخت انضباطی کاروائیوں کو بھی یقینی بنایا جاسکے ۔ترجمان سندھ پولیس کے دفتر سے جاری ایک اعلامیئے کے مطابق آئی جی سندھ نے تمام ڈی آئی جیز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ آپریشنل و انویسٹی گیشن امور میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالے افسران اور جوانوں کی فہرستیں ترتیب دیکر برائے ملاحظہ ارسال کی جائیں تاکہ انکے لیئے نقد انعامات اور تعریفی اسناد کی تقسیم جیسے اقدامات کیئے جاسکیں جبکہ محکمانہ فرائض میں غفلت لاپروائی یا منفی رویوں کے حامل افسران و جوانوں کی بھی علیحدہ سے فہرست مرتب کرکے برائے ملاحظہ و مذید ضروری کاروائی فوری طور پر ارسال کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں محنتی ایماندار اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل پولیس افسران کو ہی اہم ذمہ داریاں سونپنے جیسے امور کو مذید ٹھوس اور غیر معمولی بنایا جائے ۔آئی جی سندھ نے کہا کہ جرائم کے خلاف پولیس اقدامات اور عوام الناس کی جان ومال کے تحفظ کے حوالے سے اختیار کردہ سیکیورٹی حکمت عملی اور لائحہ عمل کو ہر سطح پر نا صرف غیر معمولی بنایا جائے بلکہ اس ضمن میں ضلعی ایس ایس پیز ، ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز کو علاقوں میں سیکیورٹی اقدامات کی نگرانی ، سب ڈویژنل گشت اور پولیس ڈپلائمنٹ کی سرپرائز چیکنگ سمیت رینڈم اسنیپ چیکنگ ، پکٹنگ ، پیٹرولنگ ، ایڈوانس انٹیلی جینس کلیکشن و شیئرنگ اور ریکی وغیرہ کا بھی باقاعدہ پابند کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے موُثر اور غیر معمولی اقدامات کے ضمن میں تمام اضلاع کے داخلی اور خارجی راستوں پر پکٹنگ اور ناکہ بندی کے تحت سرچنگ کے ساتھ ساتھ مضافاتی اور گنجان آباد علاقوں میں انٹیلی جینس اقدامات بھی بڑھائے جائیں جبکہ دیگر صوبوں سے سندھ میں داخل ہونیوالے پیدل اور میدانی راستوں پر تھانوں کے لحاظ سے کڑی نگرانی جیسے اقدامات مذید موُثر بنائے جائیں ۔ ترجمان کے مطابق آئی جی سندھ نے جاری ہدایات میں کہا کہ پولیس اپنے جملہ امور میں قانون پسند شہریوں کا احترام ، ان سے مثبت برتاوُ اور انکے مسائل و مشکلات کے حل کے ضمن میں تمام تر کاروائیوں کو عین قانونی تقاضوں کے مطابق انجام دیں اور کسی بھی قسم کے عذر پس و پیش یا جانبداری سے گریز کریں بصورت دیگر مرتکبین کو سخت محکمانہ و قانونی کاروائی کا سامنا کرنا پڑیگا ۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ تطہیری عمل کے دوران محکمہ پولیس میں سامنے آنیوالے ممکنہ بدعنوان ، جرائم یا جرائم پیشہ عناصر کے سرپرستوں یا ایسے گروہوں کی پشت پناہی کرنیوالے افسران اور جوانوں کو ہر گز معاف نہیں کیا جائیگا ۔

مزید : کراچی صفحہ آخر