مولانا مطیع نظامی کی سزائے مو ت کے فیصلے کیخلاف جماعت اسلامی کا احتجاج

مولانا مطیع نظامی کی سزائے مو ت کے فیصلے کیخلاف جماعت اسلامی کا احتجاج

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی اسلام آباد کے زیر اہتمام بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے امیر مو لانا مطیع الر حمن نظامی کی سزائے مو ت کے خلاف نیشنل پر یس کلب اسلام آباد کے سامنے احتجاجی ریلی منعقد کیا گئی جس میں سینکڑوں کی تعداد میں شہر یوں نے شر کت کی احتجاجی ریلی کی قیادت نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم نے کی جبکہ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم ،امیر جماعت اسلامی اسلام آباد زبیر فارو ق خان ،نائب امیر میاں محمد رمضان،زبیر صفدر،سیکرٹری جنرل خالد فارو ق ،آل پاکستان تا جر اتحاد کے صدر محمد کاشف چو ہدری ، اسلامی جمعیت طلبہ اسلام آباد کے ناظم راجہ عمیر نے بھی خطاب کیا ۔میاں محمد اسلم نے کہا حسینہ واجد حکومت نے پاکستان سے محبت کے جرم میں جماعت اسلامی کے سینکڑوں کارکنوں کو ماورائے عدالت موت کے گھاٹ اتارا اور ہزاروں کو جیلوں میں بند کرکے ریاستی ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جارہا ہے ، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنماؤں کو پھانسی کی سزاء سنانے والے اندیا کے وفادار جبکہ پھانسی کی سزاء جھیلنے والے پاکستان کی محبت سے سر شار ہیں۔انھوں نے کہا پاکستان سے محبت کے جرم میں دی جانے والی پھانسیوں پر استقامت دکھانے والے جماعت اسلامی بنگلا دیش کے بزرگ رہنما ملت اسلامیہ کے ماتھے کا جھومر ہیں ۔جماعت اسلامی بنگلا دیش کے امیر مولانا مطیع الرحمن نظامی کی سزائے موت سننے کے باوجود عالم اسلام خاموشی کا روزہ نہیں توڑا۔ریلی سے خطاب کر تے ہو ئے امیر العظیم نے کہا 1971میں بھی مسئلہ بھارت کی مداخلت کا تھا اور آج بھی ہمیں پاکستان کو وہی مسئلہ در پیش ہے کہ خطے میں بھارت کی بالا دستی کو قائم کیا جا ئے اور اس کے پیچھے امر یکہ کا ہاتھ ہے ،اُس وقت بھی ہمارے حکمران بے حس تھے آج بھی ہمارے حکمران بے حسی کا کفن پہن کر کر پشن کی قبروں میں اُترے ہو ئے ہیں،پانامہ لیکس میں لتھڑے ہو ئے حکمران امر یکہ اور بھارت کی سازشوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔انھوں نے کہا حسینہ واجد حکومت پاکستان کی دشمنی میں اندھی ہوکر بھارت کی مودی سرکار کی کٹھ پتلی بنی ہوئی ہے ،بھارت حسینہ واجد کے ذریعے بنگلا دیش میں اپنے مخالفین کو چن چن کرقتل کروا رہا ہے ۔زبیر فارو ق خان نے کہا پاکستانی حکمرانوں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے ،پاکستان بھارت اور بنگلا دیش کے درمیان سقوط ڈھاکہ کے بعد طے پانے والے سہ فریقی معاہدے کو عالمی برادری کے سامنے پیش کرنا چاہئے تھا جس میں تینوں ممالک نے معاملے کو ختم کرنے کیلئے کسی بھی قسم کی انتقامی کاروائی اور مقدمات نہ بنانے کا عہد کیا تھا مگر بنگلا دیش نے بھارتی شہ پر اس معاہدے کی دھجیاں بکھیر دی ہیں ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر