صادق خان کی جیت، وہ عورت جسے اب لندن کی سڑکوں پر برہنہ بھاگنا پڑے گا

صادق خان کی جیت، وہ عورت جسے اب لندن کی سڑکوں پر برہنہ بھاگنا پڑے گا
صادق خان کی جیت، وہ عورت جسے اب لندن کی سڑکوں پر برہنہ بھاگنا پڑے گا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) لندن کی میئرشپ کے الیکشن میں صادق خان کی فتح کے بعد جہاں لندن کی کثیرالثقافتی اور اس کے باسیوں کی غیرجانبداری کی تعریف کی جا رہی ہے وہیں کچھ گوروں کی اندر کی کدورت بھی کھل کر سامنے آئی ہے، جن میں کئی اعلیٰ شخصیات بھی شامل ہیں۔ ان میں ایک ٹی وی کی معروف شخصیت کیٹی ہوپکنز بھی شامل ہے۔ کیٹی ہوپکنز نے انتخابات سے قبل اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ سے مسلمانوں کے خلاف بغض کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ”اگر صادق خان الیکشن جیت گیا تو میںاپنی پشت پر گوشت اٹکا کر لندن کی ریجینٹ سٹریٹ(Regent Street) پر برہنہ دوڑوں گی۔“ اب جبکہ صادق خان الیکشن جیت چکے ہیں تو وعدے کے مطابق کیٹی ہوپکنز کو لندن میں برہنہ دوڑ لگانی پڑے گی۔

’’ایسا دوبارہ نہ کرنا ‘‘صادق خان نے مخالفین کو خبردار کر دیا

صادق خان کے الیکشن جیتنے کے بعد ٹوئٹر پر جب صارفین نے اس سے استفسار کرنا شروع کیا کہ اب تم کب برہنہ دوڑ لگاﺅ گی تو اس نے مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ایک اور تیر چلاتے ہوئے طنزیہ طور پر لکھا کہ ”میں نے حلال گوشت کا آرڈر دے رکھا ہے، میں اپنے وعدے کی پاسداری کرنے والی عورت ہوں۔“ اس پر صارفین نے اس سے پوچھا کہ تم حلال گوشت ہی کیوں چاہتی ہو؟ تو اس نے صادق خان کے بس ڈرائیور کا بیٹا اور مسلمان ہونے کا تمسخر اڑانے کے انداز میں جواب دیا کہ ”میں اس لیے حلال گوشت چاہتی ہوں کیونکہ میں ہمارے پہلے مسلمان میئر اور ایک بس ڈرائیور کے بیٹے کو پریشان نہیں کرنا چاہتی۔“

کیٹی ہوپکنز نے ایک اور شوشہ چھوڑتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ ”میں ایک جگہ گوشت خریدنے کے لیے رکی ہوں۔ ۔۔۔ ہم لوگ کب سیکھیں گے۔۔۔ کئی مسلمان علاقوں میں ووٹروں کا ٹرن آﺅٹ 130فیصد تھا۔“ دوسری ٹویٹ میں لکھا کہ ”نہیں ، تم نہیں سمجھے ہو۔ میرا مطلب ہے کہ ٹرن آﺅٹ اصل ووٹرز کی تعداد سے بھی زیادہ تھا۔“کیٹی ہوپکنز دراصل لوگوں کو کہنا چاہتی تھی کہ صادق خان الیکشن میں دھاندلی سے جیتے ہیں اور مسلمانوں نے انہیں جتوانے کے لیے جعلی ووٹ بھی ڈالے ہیں۔حالانکہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس الیکشن میں مجموعی ٹرن آﺅٹ 45.3فیصد تھا جس میں سے 44.2فیصد ووٹ صادق خان نے حاصل کیے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس