نسلیں ختم ہوجاتی ہیں مگر انصاف نہیں ملتا ،ثالثی کا نظام وقت کا تقاضہ ہے ،جسٹس منصور علی شاہ

نسلیں ختم ہوجاتی ہیں مگر انصاف نہیں ملتا ،ثالثی کا نظام وقت کا تقاضہ ہے ،جسٹس ...
نسلیں ختم ہوجاتی ہیں مگر انصاف نہیں ملتا ،ثالثی کا نظام وقت کا تقاضہ ہے ،جسٹس منصور علی شاہ

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ ہمارے عدالتی نظام میں نسلیں ختم ہوجاتی ہیں مگر انصاف نہیں ملتا،اس لئے ثالثی نظام وقت کی عین ضرورت ہے۔ مصالحتی نظام مقدمات کے بروقت فیصلے کےلئے بہترین معاون ثابت ہوسکتا ہے، اس سلسلہ میں لاہور ہائی کورٹ بطور ادارہ اس امر پر یقین رکھتا ہے کہ مصالحتی نظام کو نظام انصاف کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے تاکہ عام آدمی تک نظام انصاف کے ثمرات پہنچ سکیں۔فاضل جج پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں مصالحتی و ثالثی نظام کے نظام کے ذریعے کاروباری تنازعات کے حل کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ ورکشاپ میں ڈائریکٹر جنرل پنجاب جوڈیشل اکیڈمی جسٹس (ر) چودھری شاہد سعید، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج قصور سمیت جوڈیشل افسران، وکلائ، کاروباری و سول سوسائٹی کے نمائندے شریک تھے۔ ورکشاپ میں غیر ملکی ماہرین نے بھی ثالثی نظام سے متعلق لیکچرز دیئے۔ فاضل جج نے شرکاءکو آگاہ کیا کہ لاہور ہائی کورٹ اور ضلعی عدلیہ میںزیر سماعت مقدمات کی تعداد بہت زیادہ ہے جوکہ اوسط کے حساب سے عالمی معیار سے مطابقت نہیں رکھتی۔ فاضل جج کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن نہیں ہے کہ ہم موجودہ حالات میں اتنی تعداد میں مقدمات کا فیصلہ کر سکیں ، لہٰذاہمیں مصالحتی جیسے نئے نظام کو اپنانا ہوگا۔ فاضل جج نے مزید بتایا کہ لاہور میں ضلعی عدلیہ کی سطح پر ایک مصالحتی ادارہ قائم کیا جارہا ہے اور فاضل جج نے وکلاءپر زور دیا کہ وہ ہر ممکن کوشش کر کے مصالحتی نظام کو کامیاب کرانے میں اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے ہاں حکم امتناعی کا بہت مضبوط کلچر ہے جس کی وجہ سے سالہاسال تک مقدمات کے فیصلے نہیں ہوپاتے ، فاضل جج کا کہنا تھا کہ ہمارے ہمسایہ ملک کی ریاست دہلی میںADR سنٹر قائم ہے جہاں تیس سے چالیس فیصد مقدمات کے فیصلے ثالثی نظام کے تحت کئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی اپنے اس نظام کوبدلنے کےلئے مخلصانہ کوشش کرنی ہوگی اور اس نظام کو ہر حال میں کامیاب بناناہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد لمبے لمبے فیصلے لکھوانانہیں بلکہ مختصر وقت میں معاملات کو سلجھانا ہے، ہمیں ایجنٹ آف چینج کے طور پر آگے آنا ہے تا کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو بہتر اور مضبوط جوڈیشل سسٹم دے سکیں۔

مزید : لاہور