پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کا انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر احتجاج

پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کا انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر احتجاج
پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کا انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر احتجاج

  

لاہور(نامہ نگار)پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کاانسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہراحتجاج،حکومت کے خلاف شدیدنعرے بازی،پاکستان عوامی تحریک کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عامر فریدکا کہنا ہے کہ 2سال گزر گئے انصاف نہیں ملا،کارکن آج بھی سڑکوں پرہیں۔سانحہ ماڈل ٹاو ¿ن میں ہلاکتوں کے خلاف پاکستان عوامی تحریک کے استغاثہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سماعت ہوئی،عدلت نے کیس کی مزید سماعت 11مئی تک ملتوی کردی ۔اس موقع پر عوامی تحریک کے کارکنوں نے عدالت کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی، استغاثہ میں عوامی تحریک نے موقف اختیارکیا ہوا ہے کہ حکومت نے ڈاکٹر ظاہر القادری کی تحریک کو کچلنے کے لئے ادارہ منہاج القران پر پولیس کے لئے ذریعے حملہ کیا اور کارکنوں کو شہید کیا اور سوچے سمجھے منصوبے کو تجاوزات آپریشن کا نام دیا۔ ایڈیشنل سیکرٹری جنرل پاکستان عوامی تحریک عامر فرید کا کہنا تھا 15جون 2014ءکو میاں محمدنواز شریف اور شہباز شریف نے عوامی تحریک کی قیادت کو مذاکرات کے لئے بلایا اور مبینہ طور پراس کو دھمکیاں دیں ان سے کہا گیا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کو پاکستان واپس انے سے منع کرو ورنہ نتائج صحیح نہیں نکلیں گے ،تحریک کو کچل کر رکھ دیں گے اور ایسا ہی ہوا ،دو سال سے شہداءکو انصاف نہیں ملا اج بھی کارکن سٹرکوں پر ہیں ،انہوں نے مزید کہا کہ17مئی کو شہداءکی برسی پر بڑا احتجاج مظاہرہ کریں گے جبکہ سابق ایم پی اے اور عوامی تحریک جنوبی پنجاب کے صدر فیاص وڑائچ کا کہنا تھا وہ اس ٹیم میں شامل تھے جس کو ماڈل ٹاون میں نواز شریف، شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن)دیگر وفاقی اور صوبائی وزراءنے حملہ سے قبل دھمکیاں دیں، خواتین اور دیگر کارکنوں کا کہنا تھا ان کو شہدوں کے خون کا حساب چاہے ،شہیدوں کو انصاف ملنے تک احتجاج کریں گے۔ استغاثہ میں وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعلی پنجاب، مسلم لیگ (ن)کے وقافی ورزءاور آئی جی پنجاب سمیت 139افراد کے خلاف مقدمہ چلانے کی استدعا کی گئی

مزید : جرم و انصاف