پانامہ لیکس،کیا عوام اور نظام ہار جائیںگے؟

پانامہ لیکس،کیا عوام اور نظام ہار جائیںگے؟
پانامہ لیکس،کیا عوام اور نظام ہار جائیںگے؟

  

تحریر۔شاہدنذیر چودھری

پنجابی کے یہ اکھان آپ کے ساتھ شئیر کرنے کو دل چاہ رہا ہے۔میرا خیال ہے اگر ان کی تشریح نہ بھی کی جائے تو یہ اکھان جوحرف مدعا رکھتے ہیں اس سے آپ خوب آگاہ ہیں،سوشل میڈیا کے لوّرز خوب زیرک ہیں ،عرض کیا ہے۔’’۔سرفا کر کر ستی تے آٹا لے گئی کتی۔انّے کتے ہرناں دے شکاری،انّا کتا ہوا نوں پونکے۔کتی چوراں نال رلیہ ہوئی اے‘‘۔پاکستان کا قومی سرمایہ لوٹنے والے لوٹ کر چلے گئے ۔۔۔۔۔۔پانامہ لیکس میں کالے دھن کی مشک سونگھنا بڑا ضروری ہوگیاہے ،لیکن بادی زدہ بلغمی مزاج قوتِ شامہ کمزور کردیتا ہے، سونگھنے کے نظام کی حس کو بے حس کردیتاہے ،پاکستانی نظام نزلہ زکام میں مبتلا ہے ،سونگھے کیا۔یہاں قانون بھی ہے، محافظ بھی ہیں اور چوریاں بھی سینے کے زور پرہورہی ہیں۔ان لٹیروں کی خفیہ وارداتوں کی بو پانے والے مگرناتوانی کے باعث کچھ نہیں کر پارہے،ان کی کارکردگی اکھان بن کر رہ گئی ہے۔

پاکستان کا نام کالا دھن اکٹھا کرنے والوں کی فہرست میں نمایاں ہوچکا ہے۔اس کالے دھن نے ہمارا چہرہ سیاہ کردیاہے۔ہم انمول تھے ،بے مول ہوگئے ہیں۔ وہ دن گئے جب پاکستان دہشت کی علامت سمجھا جاتا تھا ،جس دور میں پاکستان سے خوف کھایا جاتاتھا اس عہد میں پاکستان میں نہ تو اداروں کا نظام مکمل تباہ ہوا تھا نہ ہر سطح پر مقتدراور اہلِ کاروبار کو بھرپور بددیانتی کا موقع ملتا تھا۔پاکستان مزاحمت رکھتا تھا،ڈومور ک کہنے والوں کو زور لگانا پڑتا تھا،پاکستان کی بانہہ مروڑنے والوں کو زور لگانا پڑتا تھااور وہ مڈل مین تلاش کرتے تھے تاکہ پاکستان کو اپنے مطابق منوایا اور چلایا جاسکے، کرپشن تھی لیکن اسکے باوجود ملک کے مفاد پر مبنی اجتماعی سوچ کو مقبولیت حاصل تھی اور یہی مقبولیت ایک قوت کی علامت تھی۔لیکن اب تو دنیا نے پاکستان کو سکھ مایا کی گنگا میں بے فکری سے اشنان کرتے دیکھ لیا ہے۔یہاں مڈل مین کا طوطی بول رہا ہے۔ ملک کی اشرافیہ،طاقتور،رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والے اداروں اور افراد کو ملک سے باہر اثاثے لے جانے اور انہیں ایف بی آر سے چھپانے کو جیسے قانونی تحفظ مل گیا ہے۔یعنی اب اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں رہا کہ آف شور کاروبار جائز ہے ۔۔۔البتہ سرمایہ اوراس کی منتقلی کی قانونی حیثیت پر تحقیقات کا مسئلہ الگ نوعیت رکھتا ہے۔ پانامہ لیکس ایک ایسے پاکستان کی کہانی سناتی ہے جس کی اشرافیہ کا کانفیڈنس اور نیشنل سپرٹ پنکچر ہوچکا ہے اور اسکی ترجیحات بدل چکی ہیں۔وہ پیسہ پاکستان میں کمانا اور اسے محفوظ دوسرے ملکوں میں اسطرح کرنا چاہتی ہیکہ اس پر کسی محتسب ادارے کی کڑی نگرانی قائم نہ ہوسکے،اسے اپنی دولت کا حساب نہ دینا پڑے۔

ایک دور میں زیادہ تر پاکستانی اس بات سے آگاہ تھے کہ امرااور حکمران وسیاستدان سوئس اکاؤنٹس میں کالا دھن چھپاتے تھے لیکن اب تو دنیا بھر میں انہیں ایسی سہولیات حاصل ہوچکی ہیں جہاں وہ اپنے پیسے کو پاکستان سے زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں اور انہیں اس کا یقین ہے کہ پاکستان کے سوا کوئی دوسرا ملک اسکے پیسے کا مواخذہ نہیں کرے گا،کیونکہ اب کاروباری نظریات تبدیل ہوچکے ہیں۔وفاداریاں اپنے ملک سے زیادہ دوسروں سے منسوب ہوچکی ہیں لہذا کوئی بھی سرمایہ کار یا کالادھن کرنے والا معاشرے کا طاقتور فرد اپنی دولت کو کئی ذرائع سے دوسرے ملک منتقل کرناچاہتا ہے تو اسے دقت پیش نہیں آتی۔وہ عمائدین ریاست کی خدمات حاصل کرلیتا ہے۔واہ۔کتنا آسان ہے کہ سرکاری افسران کی گاڑیاں اور گھر ہر قسم کے اسلحے اور لوٹ کے مال کے لئے بہترین ’’پناہ ‘‘ ثابت ہورہے ہیں۔فلیگز سہولت کار بن گئے ہیں۔ عمران خان نے ان گورنمنٹ ایکٹرز کی مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ جس کسی بڑے کو لوٹ مارکرنی اور کالادھن سفید کرنا ہوتا ہے یا قرضہ معاف کرانا ہوتا ہے وہ متعلقہ عہدوں پر اپنے بندے بٹھا دیتا ہے۔ بلوچستان کے سکیرٹری خزانہ تو اسکی ایک معمولی سی مثال ہیں جن کے گھر پر نیب نے چھاپہ مارکر کروڑوں روپے اور زیورات برآمد کئے ہیں۔یہ کالا دھن وہ ہنڈی اور مختلف ذرائع سے بیرون ملک منتقل کرنا چاہتے تھے ۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان سمیت کسی بھی ترقی پذیر ملک میں جہاں حکومتی اشرافیہ اورکاروباری طبقہ کالا دھن کمانے میں کمال رکھتا ہواسکا پیسہ دوسرے ’’مہذب ‘‘ اور شفاف نظام کے حامل ملکوں میں باآسانی منتقل کیا جاسکتا ہے۔کارباری مفادات کے تحت دنیا کی طاقتور حکومتیں اس موقع پر آنکھیں بند کرلیتی ہیں اور صرف پاکستان تک ہی یہ لعنتی اور دوغلانظام قائم نہیں بلکہ ہر وہ ملک جو بڑی طاقتوں کے سامنے کمزور پڑچکا ہووہاں ہر طبقہ کے بااثرافراداپنا پیسہ دوسرے ملکوں میں محفوظ رکھنا عین عبادت سمجھتے ہیں۔یہ پیسہ زرضمانت بھی فراہم کرتا ہے تاکہ ان کے ملک میں ان کے سٹیٹس کو زوال نہ آئے اور پاورشئیرنگ میں انہیں حصہ ملتا رہے۔اس سے یہ بات تو سمجھ میںآجاتی ہے کہ یہ لوگ اپنے ملک کے نظام کو بائی پاس کرتے اور جھوٹ بول کر اپنی قیادت و سیادت کا سکہ جماتے ہیں۔پانامہ لیکس کے مطابق اب تک پاکستان میں ایسے سینکڑوں سیاستدان،کاروباری شخصیات،میڈیا ٹائیکونز،حکومتی شخصیات سمیت مختلف شعبوں کے لوگ آف شور بزنس کے تحت اپنا سرمایہ دوسرے ملک میں منتقل کرچکے ہیں ۔یہ وہ لوگ ہیں جو ایف بی آر سمیت دیگر اداروں کو اپنے اثاثہ جات ڈکلئیر نہیں کرتے اور موجودہ نظام کے تحت اس بات کی کوئی امید بھی نہیں کی جارہی کہ حکومت پاکستان اس حوالے سے تحقیقات کرپائے گی۔یہ شور یونہی جاری رہے گا، بالکل اسی طرح جیسے ماضی میں بینک سے قرضے معاف کرانے اورفراڈ کرکے اداروں کو تباہ کرنے والوں کے خلاف نتیجہ خیز تحقیقات نہیں کی جاسکیں۔ان مقدمات کے فیصلے بھی نہیں ہوپائے۔پاکستان سے پیسہ اٹھا کرغیر قانونی طور پر دوسرے ملکوں میں منتقل کرنا کوئی مشکل نہیں رہا۔ایساکاروبار کرنے والوں کا نیٹ ورک عالمی حیثیت رکھتا ہے۔ڈاکٹر عاصم کے خلاف تحقیقات سے بھی یہی بات سامنے آرہی ہے کہ وہ بھارت میں ہسپتال بنانے کے لئے پیسہ منتقل کرتے رہے ہیں۔بھارت میں انڈسٹری لگانے والے اور بھی کئی بااثر لوگ موجود ہیں جن کے خلاف تحقیقات کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن کوئی تدبیر پوری نہیں ہوپارہی،کرپٹ کلاس کو انجام تک نہیں پہنچایاجارہا۔اسکی وجہ شاید یہ ہو کہ ہمارے یہ لوگ اُن عالمی مالیاتی قوتوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جو بڑی حکومتوں کو بھی کنٹرول کرتی ہیں لہذا یہ وہ نکتہ ہے جس نے پاکستان کے بارے میں دنیا کانقطہ نظر تبدیل کردیا ہے ،اس وقت پاکستان میں اقتدار کی حامل قوتوں کا عالمی اور پاکستانی سرمایہ دار اور بااثر قوتوں کے ساتھ مفادات کا مشترکہ کھیل جاری ہے ۔اس میں نظام اورعوام کے ہارنے کے چانسز زیادہ ہیں۔یہاں محافظ چوروں سے مل چکے ہیں ،اگرایسا نہیں ہے تو اس کا ثبوت شفاف اور جاندار نتیجہ خیزتحقیقات سے مل جانا چاہئے۔ آف شور کاروبارسمیت دیگر کالادھن باہر منتقل کرنے والی کرپٹ کلاس کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا گیا تو اس سے کیا نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے ،یہ سب اکھان پڑھنے والوں کے یقین کو مضبوط اورانکی امیدوں کے چراغوں کو گل کرنے کا باعث ہوگا۔

مزید : بلاگ