سیاسی اخلاقیات

سیاسی اخلاقیات
سیاسی اخلاقیات

  

زبان و بیان کے معاملے میں ہم بہت غریب ہوتے جا رہے ہیں،گزشتہ کسی کالم میں لکھا بھی تھا کہ بات گالی تک پہنچی ہے تو پھر گولی تک بھی جائے گی سویہ گولی تک بھی پہنچ گئی آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا، جیسا ماحول بناؤ گے ویسا ماحول بھگتو گے۔

سیاست میں نامناسب جملے بازی اور بیانات نئی بات نہیں ہے۔جناب بھٹو پی پی پی کے ہی نہیں اس طرح کے الفاظ کے بھی بانی تھے۔ وہ اپنے سیاسی مخالفین کے لئے بہت برے الفاظ استعمال کرتے تھے۔

جناب اصغر خان کو تو وہ ’’آلو خان‘‘ کہا کرتے تھے، اپنے جلسوں میں سیاسی مخالفین کے لئے نازیبا الفاظ استعمال کر کے خاصی رونق لگایا کرتے تھے۔ اُس زمانے کے اخبارات اُٹھا کے دیکھے جائیں تو بندہ حیران رہ جاتا ہے کہ اچھا بھٹو ایسے بھی تھے؟

جناب بھٹو کے بعد پنڈی والے شیخ رشید زبان و بیان کے معاملے میں انتہائی نچلی سطح پر چلے جاتے ہیں، محترمہ بے نظیر بھٹو کے بارے میں انہوں نے ایسے ایسے ذومعنی جملے کہے کہ خدا کی پناہ، ان کے ان جملوں کی وجہ سے بے نظیر بھٹو نے پارلیمینٹ میں کھڑے ہوئے کہا تھا،میرے سیاسی مخالفین میرے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اِس بات کا بھی خیال نہیں رکھتے کہ وہ ایک خاتون کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔

یہی وجہ تھی کہ بعدازاں شیخ رشید کو اپنے انہی ’’کرتوتوں‘‘ کی وجہ سے جیل بھی جانا پڑا، جس کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے جمہوریت کے لئے جیل کاٹی، حالانکہ درحقیقت انہوں نے اپنی زبان درازی کی وجہ سے جیل کاٹی۔

اب بھی شیخ رشید مخالفین کے لئے انتہائی سطحی گفتگو کرتے ہیں۔ نواز شریف کے لئے منافق، ان کے بیٹوں کے لئے بھی برے برے نام تجویز کرتے ہیں۔ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو تو وہ ’’پپو‘‘ کہتے ہوئے ایسی ذومعنی گفتگو کرتے ہیں کہ سننے والے سب سمجھ جاتے ہیں کہ شیخ رشید کہنا کیا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رانا ثناء اللہ انہیں ’’پنڈی کا شیطان‘‘ کہتے ہیں۔۔۔ ہمارے عمران خان کی زبان ابتدا میں بہت مہذب تھی، مگر شیخ رشید کی برکت نے ان کی زبان بگاڑ دی اور وہ بھی ’’اوے توے‘‘ پر آگئے۔

مینارِ پاکستان کے جلسے میں ایک بار پھر وہ اپنی زبان بدلتے نظر آئے اور ایک قومی لیڈر کے انداز میں گفتگو کی۔۔۔ اب انہیں چاہئے کہ وہ اپنے مداحین کو فیس بُک پر بھی زبان و بیان درست کرنے کا مشورہ دیں، ان کے پرستار اور مداح مریم نواز کے بارے میں ایسے ایسے جملے اور کارٹون بنا کے دکھاتے ہیں کہ انسان ان کی تربیت پر حیران رہ جاتا ہے۔

تحریک انصاف کے حوالے سے اگر کوئی شخص چند لفظ لکھ دے تو پھر پانچ پانچ گز کے جوابی مضمون لکھ کے گالی گلوچ کے ایسے ایسے جوہر دکھاتے ہیں۔

یوں لگتا ہے کہ یہ گالی کی پیداوار ہیں۔ مسلم لیگ (ن) والے بھی جواباً کوئی مناسب رویہ اختیار نہیں کرتے، حالانکہ نواز شریف یا شہباز شریف اپنی گفتگو یا تقریروں میں ایسے الفاظ استعمال نہیں کرتے جو اخلاق کے دائرے سے باہر ہوں۔ نواز شریف تو عمران خان کے نام کے ساتھ اکثر اوقات صاحب بھی لگاتے ہیں۔

مریم نواز بھی مخالفین پر صرف سیاسی حملے کرتی ہیں۔ ان کی ذات کے حوالے سے بہت کم بیان دیتی ہیں، بلکہ اب تو نواز شریف نے اپنے سیاسی مخالفین کے لئے ایک نیا نام ’’خلائی مخلوق‘‘ تجویز کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا مقابلہ عمران خان یا زرداری کے ساتھ نہیں ’’خلائی مخلوق‘‘ کے ساتھ ہے، میرا خیال ہے کہ آئندہ چند دِنوں بعد ممکن ہے نواز شریف زرداری یا عمران خان کا نام لینا ہی چھوڑ دیں اور صرف ’’خلائی مخلوق‘‘ کے حوالے سے ہی بات کریں، اپنی بات پھر دہراتا ہوں کہ سیاست دانوں کو اپنی زبان ٹھیک کرنی چاہئے،کیونکہ ہر کوئی سرائیکی محاورے کے مطابق اپنی زبان کی ’’کھٹی‘‘ کھاتا ہے،یعنی یہ زبان ہی ہے جو انسان کوگھوڑے پہ بھی بٹھاتی ہے اور گدھے پر بھی۔

1990ء کی بات ہے، الیکشن کا زمانہ تھا۔۔۔ ڈاکٹر شیر افگن کے مخالفین نے یہ الزام لگایا کہ ڈاکٹر شیر افگن کے ایک عزیز نے سرکاری ملازمتوں کے عوض لوگوں سے پیسے وصول کئے ہیں، کہا کہ ریلوے میں ملازمت کے بدلے پیسے وصول کئے گئے ہیں، دلچسپ بات یہ تھی کہ ڈاکٹر شیر افگن کا ریلوے سے کوئی کام نہیں تھا وہ تو پارلیمانی امور کے وزیر تھے، تو پھر ریلوے میں ملازمت کیسے دے سکتے تھے؟مگر مخالفین کا تیر چل گیا اور سیاسی ہوا مخالف چلنے لگی، پروپیگنڈہ اتنا موثر تھا کہ جگہ جگہ یہی نعرہ چل رہا تھا، ایسے شدید مخالفانہ ماحول میں ہم نے اپنے شہر کندیاں میں ایک جلسے کا اہتمام کیا، الزام بھی اِسی شہر سے ابھرا تھا،کافی محنت کے بعد بازار میں ایک بڑے جلسے کا اہتمام کر لیا گیا۔۔۔ لوگوں کی کثیر تعداد کے درمیان تقریروں کا سلسلہ شروع ہوا،تمام مقررین نے لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی، کہ وہ مخالفین کے پروپیگنڈے میں نہ آئیں۔اگر کسی کے پاس ثبوت ہے تو سامنے لائے اور پھر ڈاکٹر شیر افگن کے اس عزیز کو سٹیج پر لایا گیا جس پر الزام تھا کہ اس نے پیسے لئے ہیں۔

اُس نے اِس بات کا حلف دیا کہ یہ ایک الزام ہے، مَیں یہاں موجود ہوں کوئی ایک شخص سامنے آئے، جس نے مجھے پیسے دیئے تھے یا مَیں نے پیسے مانگے تھے، چونکہ الزام بے بنیاد تھا سو ماحول ہمارے حق میں آ گیا۔۔۔سیاسی فضا بدل گئی۔۔۔ مخالفین کے پروپیگنڈے کا توڑ کر لیا گیا، مگر اچانک ڈاکٹر شیر افگن کے ایک بہت قریبی ساتھی جو کہ ان کے ’’قبیلہ دار‘‘ بھی تھے، سٹیج پر آئے اور مذاق کے انداز میں تقریر شروع کر دی۔۔۔ ان کے دِل میں نجانے کیا آیا کہ انہوں نے ریلوے ملازمتوں کے حوالے سے ایک نیا موضوع باندھا۔۔۔ اور پھر لوگوں سے مزاحیہ انداز سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا؟

مجھے یہ بتایئے کہ ڈاکٹر شیر افگن نے آپ کی خدمت کی یا نہیں؟ جواب آیا۔۔۔بہت کی۔۔۔ سوال کیا، ملازمتیں دلوائیں کہ نہیں۔۔۔ جواب آیا، دلوائیں۔

کام کئے، رابطہ رکھا،اب یہاں آ کے ان کی زبان پھسلی اور کہا آپ لوگ بھی کم بچے پیدا کئے کرو، اب اگر آپ بچے پہ بچے پیدا کرو گے تو ملازمتیں کہاں سے ملیں گی، کچھ کام وغیرہ بھی کیا کرو۔

وہ تو یہ جملے کہہ کے چلے گئے، مگر دوسرے دن ان کے یہ جملے ایک نئے روپ میں سامنے آئے اور ڈاکٹر شیر افگن شکست کھا گئے اور ان کے وہ عزیز جن پر پیسے لینے کا الزام تھا اس صدمے سے انتقال کر گئے کہ ان کے کردار کو مسخ کر کے شیر افگن کو ہرایا گیا ہے۔

اس وقت بھی الیکشن کی آمد آمد ہے، سیاست دانوں کی تقریروں سے ہی لوگ آئندہ کے فیصلے کرتے ہیں، جو زبان و بیان کے معاملے میں احتیاط سے کام لیتا ہے۔لوگ اس کے ساتھ چلنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) اس وقت مشکل میں ہے۔ بقول نواز شریف ان کے مدمقابل کوئی ’’خلائی مخلوق‘‘ ہے۔

اگر ایسا ہے تو پھر انہیں اپنے رہنماؤں کو زبان و بیان کے معاملے میں احتیاط سے کام لینے کا کہنا چاہئے۔ تاکہ ان کے جملوں، فقروں یا جوابی تبصروں سے سیاسی فضا خراب نہ ہو۔

خاص طور پر مریم نواز جو کہ اس وقت ملکی سطح پر ایک خاتون کے طور پر خواتین کے نمائندے کے کردار میں سامنے آئی ہیں، لوگ ان کی تقریروں کو غور سے سنتے ہیں۔

نواز شریف کے جلسوں میں خواتین کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے اور ظاہر ہے اس کی وجہ مریم نواز ہیں اور مریم نواز کی وجہ سے مسلم لیگ(ن) کا خواتین ونگ بھی اب متحرک نظر آتا ہے۔ بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ اب دیہاتی پس منظر رکھنے والے شہروں میں بھی مسلم لیگ(ن) کے جلسوں میں خواتین کی تعداد بڑھ رہی ہے، کم از کم وہاڑی اور صادق آباد میں تو خواتین کی موثر تعداد دیکھنے کو ملی، سو ان حالات میں مریم نواز کو چاہئے کہ وہ رانا ثناء اللہ جیسے لوگوں کے ’’کان‘‘ کھینچیں اور اُنہیں زبان و بیان کے معاملے میں احتیاط سے کام لینے پر آمادہ کریں، کیونکہ سیاسی سفر میں خواتین کا ساتھ ساتھ چلنا بہت ضروری ہے اور ان کے ساتھ احترام اس سے بھی ضروری ہے،کیونکہ دیہات کی خواتین کو پہلے ہی ووٹ سے محروم رکھا جاتا ہے۔

پھر جب میڈیا پر رانا ثناء اللہ جیسے لوگوں کے منفی بیانات سنائے جاتے ہیں تو پھر دیہات کے لوگ اپنی عورتوں کو سیاسی عمل سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں،ہمارے میڈیا کو بھی چاہئے کہ وہ مختلف سیاسی جلسوں میں شریک خواتین کے ناچنے کے مناظر دکھانے سے گریز کریں تاکہ اچھا تاثر جائے۔ اس طرح خواتین کو بھی چاہئے کہ وہ سیاسی جلسوں کو مہندی یا شادی کا فنگشن بنانے سے گریز کریں۔

مزید : رائے /کالم