ووٹ کی عزت

ووٹ کی عزت
ووٹ کی عزت

  

ہمارے رہنماؤں نے جب سے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا مطالبہ دھرانا شروع کیا ہے، تو ہم بھی ایک نئی خوشی سے سرشار ہیں، مگر ہزاروں سوالات بھی ذہن میں گردش کرنا شروع ہو گئے ہیں جو اس تازہ بہ تازہ ’’خوشی‘‘ کو ماند کئے جا رہے ہیں۔

پہلے سنا کرتے تھے ’’ووٹ کی طاقت‘‘ اہم ہوتی ہے مگر اب شاید ووٹر بیچارے کو ’’طاقت‘‘ ہضم نہیں ہو رہی اور رہنماؤں کو اس کی ’’عزت‘‘ خطرے میں نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔

چونکہ ’’طاقت‘‘ اور ’’عزت‘‘ دونوں لازم و ملزوم ہیں تو اس کا ایک آسان حل تو یہی ہے کہ ووٹر کے لئے پہلے ’’طاقت‘‘ کا انتظام کیا جائے، جس کے پیچھے پیچھے ’’عزت‘‘ خودبخود لڑھکتی ہوئی چلی آتی ہے، مگر بقول شاعر:

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے رہنماؤں نے اس معمولی نسخے پر غور ہی نہیں کیا۔ خیر چلیں دیکھتے ہیں آج کل ہمارا ’’عام ووٹر‘‘ اپنی ’’عزت‘‘ کیوں نہیں کروا رہا اور اس کی اہمیت بھول کر کیا کر رہا ہے؟ یہاں ’’خاص ووٹر‘‘ کا ذکر ہم مؤخر کر رہے ہیں۔

اگر وطن عزیز کے ساحلوں سے لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں تک کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا ہے ’’ووٹر‘‘ جن حالات میں زندہ ہے، وہ تو کوئی کرشمہ الٰہی ہے۔ بڑے ساحلی شہر اور اس سے متصل دو بڑے شہروں میں ’’ووٹر‘‘ بری طرح لسانی اور تمدنی مسائل میں جکڑا ہوا ہے۔

گزشتہ چار عشروں کی قیادت نے اسے جس طرح ’’نہال‘‘ کیا ہے، اس نے اسے منتشر مزاج بنا دیا ہے، اپنی ’’طاقت‘‘، ’’عزت‘‘ اور ’’ذہانت‘‘ کو پان سپاری اور گٹکا جیسی ’’مقویات‘‘ کی جگالی اور بھانت بھانت کی بولیوں میں بند کر دیا ہے۔ ساحلی شہر سے کچھ اوپر بڑھیں تو ’’ووٹر‘‘ صحراؤں کی خاک چھانتا نظر آتا ہے۔

گندگی اور غلاظت سے اٹی جھیلوں کے کنارے اپنے ڈھور ڈنگڑ سمیت اپنے ’’وڈے سائیں‘‘ کی ’’خوشحالی‘‘ کے ترانے گاتا نظر آ رہا ہے۔ اسے اپنے ووٹ کی ’’عزت‘‘ اپنے ’’وڈے سائیں‘‘ کی ’’حشمت‘‘ میں ہی دکھائی دے رہی ہے اور وہ ہر گلی، ہر محلے سے درجنوں کے حساب سے ’’بھٹو‘‘ برآمد کروا رہا ہے۔ تھوڑا آگے بڑھیں تو ہمارا ’’ووٹر‘‘ آج کل ایک نئی ترنگ میں نظر آ رہا ہے، چونکہ اس کے رہنماؤں کو اپنے ’’وسیب‘‘ کے نئے نقشوں میں نئی شیروانیاں، نئے اختیارات، نیا پروٹوکول جھلکتا محسوس ہو رہا ہے تو ’’ووٹر‘‘ بھی اپنی عزت و طاقت فی الوقت انہی میں محسوس کر رہا ہے۔

وہ اپنے اوپر حاکمیت اعلیٰ کے لئے نئے وزیراعلیٰ، نئے گورنر، نئے وزراء اور نئی کابینہ میں شامل ہونے والے مختلف ’’اسمائے گرامی‘‘ پر سیر حاصل بحث میں مصروف ہے۔ اپنے ووٹ کی عزت پر غور کرنے کے لئے ابھی اس کے پاس وقت ہی نہیں۔

قارئین کرام! ووٹر کی سب سے دلچسپ صورت حال اس سے آگے والے علاقہ میں پائی جا رہی ہے، کیونکہ ووٹر کی عزت کا معاملہ اٹھانے کا سہرا اسی علاقہ کے رہنماؤں کے سر پر سجا ہے۔

یہاں کا ووٹر ایک عجب صورت حال سے دوچار ہے۔ وہ اپنے اردگرد پھیلے اونچے پلوں، انڈر پاسوں، میٹرو بسوں اور اورنج ٹرینوں کے سحر میں کھویا ہوا، جب اپنے گھر کی گلی میں داخل ہوتا ہے تو سامنے ابلنے والے گٹر کے پانی سے بچتے بچتے کسی خلجان میں مبتلا ہو جاتا مگر پھر بھی یہاں کا ووٹر، اپنی ’’خودی‘‘ بھلا کر کوئی نیا راستہ، نیا جگاڑ لگاتا نظر آ رہا ہے۔

پہلے جو ووٹر اپنے کسی دوست یا شناسا کے ’’بہکاوے‘‘ میں آ کر فقط میلے ٹھیلے میں ہی جھوم کر، بریانی کے ڈبوں پر اپنا ووٹ لٹا آتا تھا، وہ اب ’’نایاب‘‘ ہو رہا ہے۔

آج کا ووٹر نہایت ’’ذہین‘‘ ہو گیا ہے۔ اس کی ضروریات نے اسے نئی ایجادات پر مائل کر دیا ہے۔ اب ووٹر نے بھی مختلف ایونٹس کے مختلف ’’ریٹس‘‘ طے کر لئے ہیں، جلسہ، جلوس میں حاضری اور خالی نعرہ لگانا (بغیر آواز نکالے) فی الحال ’’سستا‘‘ ہے مگر (بھلا ہو خان کا) بھنگڑا ڈالنا قدرے مہنگا، ڈنڈے کھانا اس سے گراں، لیڈر کی گاڑی کے گرد دیوانہ وار رقص کرنا اور صدقے واری جانے والی نگاہوں سے دیکھنا تو کافی مہنگا ’’سامان‘‘ قرار دے دیا گیا ہے کیونکہ اس میں جسمانی مشقت کے ساتھ اداکاری کا جوہر بھی دکھانا ہوتا ہے مگر سب سے مہنگا ایونٹ رہنما کی گاڑی کو بے تحاشا چومنا ہے جو ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں اور نہ ہی ہر ایرا غیرا رہنما یہ ’’عیاشی‘‘ افورڈ کر سکتا ہے۔ بہرحال یہاں کا ووٹر اپنی ’’عزت‘‘ سے بھی کچھ آگے حاصل کرنے کی سوچ میں ڈوبا نظر آ رہا ہے۔

اس سرزمین پاک پر کچھ آگے بڑھیں تو یہ علاقہ سطح مرتفع ٹائپ کا ہے اور یہاں کا ووٹر ایک نئی دنیا کا ’’شناور‘‘ معلوم ہو رہا ہے، وہ خود کو عام دنیا سے سربلند محسوس کر رہا ہے لیکن مستقل دھرنوں میں مسلسل شمولیت کے باعث کچھ سستی اور کاہلی جیسی علامات کا شکار نظر آ رہا ہے۔ اپنی نظر ستاروں پر جمائے یہاں کا ووٹر ایک نئی دنیا تخلیق کرتا دکھائی دے رہا ہے اگرچہ اسے نسوار، افیم اور دیگر ’’سکون آور‘‘ اشیاء سے بھی دو دو ہاتھ کرنا پڑ رہے ہیں۔

یہاں کے ووٹر کے لئے کئی نئے امکانات بھی جنم لے رہے ہیں۔ وہ اپنے رہنماؤں کی شادیوں اور طلاقوں پر ماہرانہ تبصرے بکھیر رہا ہے۔ وہ اپنی پارٹی میں نئے دَر آنے والے ’’الیکٹ ایبلز‘‘ سے خوش بھی نہیں اور خائف بھی نہیں۔

یہاں کا ووٹر اب اپنی واسکٹ سے بیزار سا نظر آ رہا ہے اور نئی شیروانی کی تلاش میں بھی سرگرداں ہے۔ اپنے نو بہ نو خیالات اور بدلتے طرزِ حیات کی بنا پر فی الحال وہ اپنے ووٹ کی طاقت اور عزت کا معیار متعین نہیں کر پا رہا ہے اور ابھی راوی یہاں چین نہیں لکھ رہا ہے کہ ووٹر اپنی بے چینی چھپانے کی متوحش کوششوں میں مصروف ہے۔

یہاں سے آگے ارضِ پاک کا علاقہ پہاڑی اور قبائلی ووٹروں پر مشتمل ہے جو صدیوں سے ایک لگے بندھے قبائلی نظامِ زندگی سے سر ٹکرا رہے ہیں۔

وہ باہر سے امڈ آنے والے لشکریوں کے لئے مسلح جتھوں کی شکل میں معاونت کرتے رہے اور اسلحہ اور ڈالروں کو ذخیرہ کرتے رہے تھے۔

اب یہاں کا ووٹر اپنی پگڑی ڈھیلی کر چکا ہے اور نئے زمانے کی ہوا اپنے سر پر محسوس کر رہا ہے۔

اپنے متعدد رہنماؤں کے ہجوم میں گھرا یہاں کا ووٹر ابھی اتنا آزاد نہیں ہو سکا ہے جتنا کہ ہمسایہ لیڈران اسے احساس دلانے کی کوشش کئے جا رہے ہیں۔ ابھی تک وہ اپنے انفرادی ووٹ کی عزت کو پہچاننے سے قاصر ہے اور اپنے جتھوں، اسلحہ اور زورِ بازو پہ نازاں ہے۔

وطن عزیز کے بلند و بالا پہاڑی علاقے کا ووٹر، جہاں کی سریفلک چوٹیاں، ہر آن انسان کو اپنی کم مائیگی کا احساس دلاتی ہیں، ابھی تک ’’نوزائیدگی‘‘ کی کیفیت میں ہے اور ’’ووٹ کی عزت‘‘ جیسے القابات سے ناآشنا ہے۔ قارئین! یہ ایک عمومی جائزہ تھا کہ ملک عزیز کا عام ووٹر اپنے ووٹ کی عزت کے معاملے میں کتنا حساس اور باخبر ہے۔

ہمارے محبوب اور ’’بھولے بھالے‘‘ رہنما، جو ووٹ کی عزت طلب کر رہے ہیں، شاید جانتے ہوں گے کہ یہاں کی زرخیز سرزمین صدیوں سے اغیار کے لئے اپنی آنکھیں فرشِ راہ کئے رہی ہے اور اپنی طاقت اور عزت اوروں کو بخشتی رہی ہے۔

اس مٹی کی کیمسٹری ہی شاید کچھ ایسی ہے جو کبھی عربی گھوڑوں کو خوش آمدید کہتی رہی، کبھی افغان ’’وارلارڈز‘‘ کا استقبال کرتی رہی تو کبھی ’’فرنگی‘‘ کی ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ والی حکمتِ عملی پر ’’یس سَر‘‘ کہتی رہی ہے۔

حضور! آپ دیس میں ’’ووٹ کی عزت‘‘ تلاش کرتے رہیں ہم تو اب اس خرابے میں ’’قلم کی حرمت‘‘، ’’علم کی طاقت‘‘، ’’فرد کی نجابت‘‘ اور ’’خدا کی اطاعت‘‘ سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں اور اگر کچھ نظر آ رہا ہے تو وہ ہے بس ہمارے ’’رہنماؤں کی جہالت‘‘ ۔۔۔(اللہ آپ پر رحم کرے)

مزید : رائے /کالم