جمہوریت کا سرخیل۔۔۔

جمہوریت کا سرخیل۔۔۔
جمہوریت کا سرخیل۔۔۔

  

پاکستان کے قیام کو 71 برس ہونے کو آئے لیکن ہم ملک میں جمہوریت کو مستحکم نہ کر پائے، افسوس تو اس بات کا ہے کہ آج بھی ملک میں ’’دیدہ‘‘ اور ’’نادیدہ‘‘ قوتوں کی باتیں زبان زدِعام ہیں بلکہ ’’خلائی مخلوق‘‘ سے متعلق گزشتہ کئی دنوں سے ایک نئی اصطلاح چل رہی ہے۔ اب بات اس سے بھی بڑھ چکی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ’’ہم انتخابات میں 20 کروڑ عوام کی مدد سے خلائی مخلوق کو شکست دیں گے‘‘۔

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر ان سیاست دانوں کو ہو کیا گیا ہے

سوچتے، سمجھتے اور جانتے ہوئے بھی کہ اس قسم کی باتیں ملک میں جمہوریت کے لئے زہر قاتل ہیں، پھر بھی ببانگ دہل ایسے بیانات دیئے جا رہے ہیں ایک ایسے وقت میں جب ملک میں انتخابات سر پر ہیں، ایسی باتیں جن سے تصادم کی بو آئے، جہاندیدہ سیاست دانوں کو زیب نہیں دیتیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم کیوں تاریخ سے سبق حاصل نہیں کر پائے؟

کیا وجہ ہے کہ ملک میں 71 برس بعد بھی جمہوریت مستحکم نہیں ہونے پا رہی؟ آج ملک میں کرپشن، اقربا پروری، لاقانونیت اور غنڈہ گردی عروج پر ہے۔ اداروں کے درمیان ’’جنگ‘‘ کی سی صورت حال ہے، سیاست دانوں کے بیانات ایک دوسرے کو نیست و نابود کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اس کا نقصان بالآخر جمہوریت ہی کو ہوگا، تو پھر کیا ہوگا؟ ایسے میں قوم فوری طور پر نگران حکومت کی منتظر ہے تاکہ انہیں ذہنی یکسوئی مل سکے۔

پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کے لئے جن سیاست دانوں نے قربانیاں دیں، ان میں چودھری ظہور الٰہی کا نام سرفہرست ہے۔ چودھری ظہور الٰہی نے ایک ایسے وقت میں تن تنہا ملک میں جمہوریت کے استحکام کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائی، جب ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ چودھری ظہور الٰہی نے سول آمریت کو اس دور میں للکارا، جب کوئی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔

چودھری ظہور الٰہی نے ملک میں جمہوریت کے استحکام کے لئے 70ء کی دہائی میں بہت سے قومی مسائل کی طرف قوم کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا تھاکہ ’’بلوچستان کے عوام کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے، اس صوبے کو خوشحال اور ترقی سے ہمکنار کیا جائے ورنہ قوم کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا‘‘۔

آج 40، 45 سال بعد ہم نے بلوچستان کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کرنا شروع کئے ہیں، آج سی پیک جو تیزی سے تکمیل کی جانب گامزن ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو اس میں مبالغہ نہیں ہوگا کہ چودھری ظہور الٰہی نے بلوچستان کی خوشحالی کا جو خواب اُس دور میں دیکھا، سی پیک اسی کی تعبیر ہے۔

ملک میں جمہوریت کو نقصان ہمیشہ جمہوری حکومتوں نے ہی پہنچایا، پاکستان میں اگر فوجی حکومتیں نہ آتیں تو شاید آج ملک میں ترقی و خوشحالی جودکھائی دیتی ہے اس کا دور دور تک نام و نشان نہ ہوتا۔

آج خود کو جمہوریت کا چمپئن سمجھنے والے، انہی فوجی حکومتوں کی پیداوار ہیں جن قوتوں پر آج طنز کے تیر چلائے جا رہے ہیں، انہی نے ان سیاست دانوں کو دھڑکنیں اور زبان عطا کی ہے۔

یہ درخت کی اس شاخ کو بے دردی سے کاٹ رہے ہیں بلکہ پے در پے کلہاڑے چلا رہے ہیں جس پر یہ خود بیٹھے ہوئے ہیں، پھر بھی یہ خود کو محب وطن کہتے ہیں۔ الاامان والحفی٭۔۔۔

پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کے لئے چودھری ظہور الٰہی کے بعد جن سیاست دانوں نے مرد مجاہد کا کردار ادا کیا وہ انہی کے خاندان کے روح رواں چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی ہیں۔

ملک کی جمہوری تاریخ سے اگر اس خاندان کا نام نکال دیا جائے تو ہماری سیاسی تاریخ میں ماسوائے ٹامک ٹوئیوں کے اور کچھ باقی نہیں بچتا۔ ملک میں جمہوریت کو مستحکم کرنے میں چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی نے جس طرح شب و روز محنت اور کاوشیں کیں، اسے غیر جانبدار مورخ تو ایک طرف بلکہ جانبدار مورخ بھی سنہری الفاظ میں لکھے گا۔

1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی اپنے خاندان کی قربانیاں میاں نوازشریف کی جھولی میں نہ ڈالتے تو شاید سیاست میں آج اس خاندان کا نام و نشان بھی نہ ہوتا اور پھر 1997ء کے انتخابات کے بعد اداروں کے درمیان تصادم اور ممبران پارلیمینٹ کی ’’زبان بندی‘‘ کے لئے قوانین بنانے کا جو گھناؤنا کھیل کھیلا گیا، اس کے نتیجے میں ملک ایک مرتبہ پھر مارشل لاء کی بھینٹ چڑھ گیا۔

ایسے میں یہ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی ہی تھے کہ جن کی بدولت ملک میں دوبارہ جمہوریت کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا اور رفتہ رفتہ جمہوریت ملک میں مستحکم ہوئی اور اس حد تک ہوئی کہ کل تک زبان نہ رکھنے والے سیاست دان بھی، آج ’’خلائی مخلوق‘‘ سے مقابلہ کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، خلائی مخلوق کی بات کرنے والے عاقبت نااندیش سیاست دان دراصل ملک میں جمہوریت کو تباہ کرنے کے درپے ہیں، وہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے کے اصول پر گامزن ہیں لیکن اب عوام سمجھ دار اور باشعور ہو چکے ہیں۔

وہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ پنجاب میں آج ترقی کے جو ڈونگڑے بجائے جا رہے ہیں، اس کی داغ بیل چودھری پرویز الٰہی نے اپنی وزارت اعلیٰ کے دور میں ڈالی تھی۔ ملکی تاریخ میں پنجاب میں اگر حقیقی معنوں میں ترقی ہوئی تو وہ چودھری پرویز الٰہی کا دور تھا، جس میں ہونے والی ترقی اندھوں کو بھی دکھائی دیتی تھی اور پھر جب چودھری پرویز الٰہی کے جوان عزم صاحبزادے جو نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن ہیں، انہوں نے سیاست کے میدانِ خارزار میں قدم رکھا تو نام نہاد سیاست دان جو چودھری مونس الٰہی کو اپنے اقتدار کے لئے خطرہ سمجھتے تھے، انہیں ہرانے کے لئے پھر چمک اور کرپشن نے اپنا جادو دکھایا اور ملک میں دوبارہ وہ قوتیں برسراقتدار آئیں جنہوں نے اپنے سابقہ دور میں ماسوائے چند مصنوعی منصوبوں کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے حقیقی معنوں میں کوئی قابل ذکر خدمات انجام نہیں دیں اور اپنے اقتدار کے پہلے روز سے ہی مفاہمت کی سیاست کا نعرہ لگا کر ملک میں انتشار کی سیاست کو فروغ دیا جس کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ آج ملک کا کوئی بھی ادارہ یا سیاسی جماعت ایسی نہیں، جو ان کے انتشار کی زد میں نہ آئی ہو۔

اندریں حالات قوم ایک مرتبہ چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویز الٰہی اور جواں جذبوں کے مالک چودھری مونس الٰہی جیسی باہمت اور دور اندیش قیادت کی ضرورت محسوس کر رہی ہے جنہوں نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت ملک میں امن، سکون، محبت و بھائی چارے کی فضاء کو برقرار رکھا۔ جمہوریت کے لئے دی جانے والی قربانیوں اور خدمات پر چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویز الٰہی اور ان کے فرزند ارجمند چودھری مونس الٰہی کو اگر جمہوریت کا سرخیل کہا جائے تو یہ غلط نہیں ہوگا۔

مزید : رائے /کالم