پاکستان کے خلاف جعلی خبروں کی منظم مہم

پاکستان کے خلاف جعلی خبروں کی منظم مہم

چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف جعلی خبریں منظم انداز میں پھیلائی جا رہی ہیں۔ آج کے دور میں اطلاعات، سفارت کاری، فوج اور معیشت چار بنیادی ستون بن چکے ہیں۔ اطلاعات آج کی طاقت ضرور ہے، مگر اس کا غلط استعمال بھی ہو رہا ہے، پاکستان کے بارے میں جان بوجھ کر غلط تاثر قائم کیا گیا، دُنیا کا کوئی مجرم کوئی جرم کرے عالمی ہیڈ لائنز نہیں بنتیں، کوئی پاکستانی جرم کرے تو عالمی اخبارات کی شہ سرخیاں کیوں بنتی ہیں، جنرل زبیر محمود حیات کا کہنا تھا کہ مضبوط اور مستحکم مستقبل پاکستان کا منتظر ہے۔ سی پیک خطے میں گیم چینجر ہونے جا رہا ہے، پاکستان 2020ء میں دُنیا کی اٹھارہویں معیشت بن جائے گا، پاکستان کی مثبت فہرست منفی فہرست سے بہت زیادہ طویل ہے اور دُنیا کو اِس سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اپنے قیام سے ہی دشمن کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے وہ اسلام آباد میں ’’پاکستان سمٹ‘‘ میں سائبر سیکیورٹی کے موضوع پر خطاب کر رہے تھے۔

جنرل زبیر محمود حیات نے بالکل درست نشاندہی کی ہے کہ پاکستان کے بارے میں منفی خبریں منظم انداز میں پھلائی جا رہی ہیں۔ یہ سلسلہ آج شروع نہیں ہوا، طویل عرصے سے جاری ہے،بلکہ بعض گمراہ کن خبریں تو اِس تواتر اور اتنے منظم انداز میں پھیلائی گئیں کہ بیشتر محب وطن پاکستانی بھی اسے سچ سمجھنے پر مجبور ہو گئے،1971ء کے بحران میں یہ سلسلہ عروج پر تھا اور مشرقی پاکستان میں افواجِ پاکستان دفاعِ وطن کے لئے جو کارروائیاں کر رہی تھیں اُن کے بارے میں منفی تاثر قائم کرنے کے لئے اتنی جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں اور افواہوں کی اِس قدر گرم بازاری ہوئی کہ جب خود بنگالی دانشوروں نے اپنی کتابوں میں ان کی تردید کی تو بھی جھوٹ کی یہ منظم مہم اپنا کام دکھا رہی تھی، اب تو نامور بنگالی مصنفین کی ایسی مصدقہ کتابیں عالمی میڈیا پر منظر عام پر آ چکی ہیں جن سے پاکستانی فوج پر لگائے گئے الزامات بالکل غلط ثابت ہو چکے ہیں،لیکن بدقسمتی سے جو رائے قائم ہو گئی اُسے بہت کم لوگ بدلنے کے لئے تیار ہوتے ہیں، اِسی طرح قیامِ پاکستان کے بعد سے لے کر آج تک بہت سے تاریخی واقعات کو اُن کے درست تناظر میں نہیں دیکھا جاتا اور سُنی سنائی باتوں پر اعتبار کر کے نتیجہ اخذ کر لیا جاتا ہے۔

پاکستان کے اندر بھی بعض سیاسی حلقے منظم انداز میں جھوٹ کی ایک مہم طوفانی انداز میں ہر وقت چلاتے رہتے ہیں، جن کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا،لیکن جھوٹ اس تواتر سے بولا جاتا ہے کہ لوگ اسے سچ سمجھنے لگتے ہیں،ہٹلر کے وزیر گوئبلز کا فلسفہ بھی یہی تھا کہ جھوٹ اتنا زیادہ بولو کہ لوگ اسے سچ سمجھنے لگیں۔ پاکستان کے اندر اِس فارمولے پر بڑے منظم انداز میں عمل کیا جاتا رہا ہے اور آج تک جاری ہے، بعض افراد کے خلاف جھوٹ گھڑنے اور اُن پر غلط قسم کی الزام تراشیوں ہی کا نتیجہ ہے کہ عوام الناس میں اُن کے بارے میں غلط رائے بن جاتی ہے، سیاسی رہنماؤں پر سیاہی پھینکنے، جوتے اُچھالنے یہاں تک اُن پر فائرنگ کرنے کے واقعات کے پس منظر میں بھی ایسی ہی جھوٹ کی مہم کام کر رہی ہوتی ہے، جس سے لوگ مشتعل ہو کر قابلِ اعتراض حرکتیں کرتے ہیں۔

بھارت نے عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف ڈس انفارمیشن کی مہم بڑے منظم انداز میں شروع کررکھی ہے،پاکستان کو دہشت گرد ریاست ثابت کرنے کے لئے بھارت نے جھوٹ کی مہم کی انتہا کردی ہے، کشمیر کی کنٹرول لائن پر فائرنگ کے جو واقعات ہوتے رہتے ہیں اُن کے پس منظر میں وزیراعظم مودی نے یہ بڑ ہانک دی تھی کہ بھارتی فوج نے پاکستان کے اندر گھس کر ’’سرجیکل سٹرائیک‘‘ کی ہے اور اگر پاکستان نے فائرنگ جاری رکھی تو مزید ایسی سٹرائیکس کی جائیں گی، جبکہ اس طرح کی کسی سٹرائیک کا نام و نشان زمین پر موجود نہیں تھا، خود بھارت کے اندر اس دعوے پر شکوک و شبہات پائے جاتے تھے اور جب بھارتی فوج کے کمانڈروں نے اِس معاملے پر بریفنگ دی اور شرکاء نے سوالات کا سلسلہ شروع کیا تو اُنہیں کہا گیا کہ جو کچھ بتایا جا رہا ہے اسے سچ مان لیں اور زیادہ مین میخ نہ نکالیں، جس پر شرکاء نام نہاد ’’سرجیکل سٹرائیک‘‘ کو زیبِ داستان سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اِسی طرح بھارت اپنے ہاں ہونے والی ہر واردات کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرا دیتا ہے، دیکھا یہی گیا ہے کہ اُدھر کسی جگہ دہشت گردی ہوتی ہے تو بھارتی میڈیا چند منٹ کے اندر اندر پاکستان پر الزام لگا دیتا ہے، حالانکہ بعد میں تحقیقات کے بعد ایسے واقعات میں پاکستان کا ملوث ہونا قطعاً غلط ثابت ہو چکا ہے۔

سمجھوتہ ایکسپریس کو آگ لگانے کا واقعہ بھی ایسا ہے، جس میں پاکستان کو ملوث کر دیا گیا، تاہم طویل تفتیش کے بعد ثابت ہو گیا کہ یہ آگ بھارتی فوج کے ایک حاضر سروس کرنل کی قیادت میں ایک طے شدہ منصوبے کے تحت لگائی گئی تھی، اس واقعے کی تحقیق کے بعد ایک دیانتدار پولیس افسر جب اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ یہ کرنل ہی واردات کا ذمے دار ہے اور اس کی گرفتاری ہونے والی تھی کہ اس پولیس افسر کو پُراسرار انداز میں قتل کر دیا گیا، سمجھوتہ ایکسپریس کی آگ کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے لئے استعمال کیا گیا، حالانکہ بھارتی حکومت کو معلوم تھا ، اصل ملزم کون ہے،ایسے ہی اور کئی واقعات میں خود بھارتی اداروں نے تصدیق کے بعد ثابت کیا کہ ان میں پاکستان کا سرے سے کوئی کردار نہیں،لیکن بھارتی حکومت کی طرف سے پاکستان کو بدنام کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

اب سوشل میڈیا پر ایسی مہم بڑے بھرپور انداز میں چلائی جاتی ہے،جس میں پاکستان اور پاکستانی حکومت کے خلاف ایک سازش کے تحت ڈس انفارمیشن کو عام کیا جاتا ہے، بدقسمتی سے پاکستان کی سیاسی جماعتیں بھی اس کا شکار ہیں،جس کا نتیجہ پاکستان میں بدامنی کی صورت میں نکل رہا ہے۔ اس مہم کے ذریعے پاکستان کے تعلقات اس کے چین جیسے دوستوں سے خراب کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ سی پیک بھی اسی پروپیگنڈے کا ہدف ہے،بھارت اس کی تعمیر روکنے کے در پے ہے،یہاں تک بھارت نے تو سی پیک کو ناکام بنانے کے لئے اپنا جاسوسی کا نیٹ ورک بھی بنا رکھا تھا، جو کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد بکھر چکا ہے یہ سارے واقعات پاکستان کے خلاف منظم انداز میں چلائی جانے والی مہم کا حصہ ہیں، ضرورت اِس بات کی ہے کہ اس مہم کا سائنسی بنیاد پر مقابلہ کیا جائے اور دُنیا کے سامنے اصل حقائق لائے جائیں تاکہ گمراہی کی یہ مہم کامیاب نہ ہو۔

مزید : رائے /اداریہ