خیبرپختونخوا کے جید علماء اور ماہرین فلکیات کا فیصلہ

خیبرپختونخوا کے جید علماء اور ماہرین فلکیات کا فیصلہ

یہ خبر نہایت حوصلہ افزا اور خوش آئند ہے کہ خیبرپختونخوا میں پورے صوبے کے جید علماء کرام اور فلکیات کے ماہرین نے ایک اجلاس میں روزہ اور عیدین مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے مطابق منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پشاور میں منعقد ہونے والے خصوصی اجلاس میں یہ طے کیا گیا کہ اسلامی شریعت کی رُو سے روزہ اور عیدین منانے کے اعلانات کا اختیار ایک اسلامی ریاست میں مسلمان حاکم یا اس کے مقرر کردہ شخص یا کمیٹی کو حاصل ہے۔اجلاس میں واضح کیا گیا کہ اپنی اپنی حیثیت سے کمیٹیاں بنانا اور اعلان کرنا شریعت کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی سالمیت کے بھی خلاف ہے۔ وطنِ عزیز میں پچھلے چھ عشروں سے یہ افسوسناک روایت چلی آ رہی ہے کہ رمضان اور عیدین کے چاند کے موقع پر ایک سے زائد فیصلے سامنے آتے ہیں، خصوصاً خیبرپختونخوا کے بعض علماء کرام کی طرف سے ایک روز قبل ہی روزہ رکھنے اور عید منانے کا اعلان کیا جاتا ہے، چنانچہ اُن کے اعلان سے صوبے اور نواحی علاقوں میں ایک ہی روز رمضان المبارک کا پہلا روزہ نہیں ہوتا اور عید بھی دو روز تک منائی جاتی ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں عید منانے کا فیصلہ متنازع ہُوا، کیونکہ یہ تصور نہ جانے کس طرح قائم ہو گیا ایک ہی دن (جمعہ) دو خطبے پڑھے جانے سے حاکم وقت کے لئے سختی ہوتی ہے۔ ایوب خان کے دَور میں یہ بھی ہُوا کہ سرکاری طور پر عید کا چاند نظر آنے کا اعلان رات گئے ایک بجے کے بعد کیا گیا اور جو لوگ روزہ رکھنا چاہتے تھے،اُنہیں روزہ نہ رکھنے کا مشورہ دیا گیا۔ اعتکاف میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعدازاں یہ تنازعہ شروع ہُوا کہ خیبرپختونخوا میں بعض علماء نے فتویٰ دیا کہ اس علاقے کے لوگوں کو سعودی عرب کے لوگوں کے ساتھ عید منانی چاہئے، پھر یہ بھی ہُوا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ سے مبینہ طور پر ذاتی مخالفت کی وجہ سے پشاور میں موجود بعض علماء نے اپنے طور پر ایک کمیٹی تشکیل دے کر اس کمیٹی کو موصول ہونے والی شہادتوں کے حوالے سے عید کا چاند دکھائی دینے کا اعلان کیا جانے لگا۔ بعض اوقات اس کمیٹی کے اعلان کی روشنی میں سرکاری طور پر بھی عید منائی جاتی رہی ہے۔ حالانکہ عینی شہادتوں اور فلکیات کے ماہرین کی رائے سے چاند ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ ہونا چاہئے۔مقام شکر ہے کہ جید علماء کرام اور ماہرین فلکیات کے اجلاس میں متفقہ طور پر ایک ہی روز رمضان المبارک کے آغاز اور پھر عید منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دُنیا بھر میں خصوصاً بھارت میں بعض حلقوں کی طرف سے پاکستان میں دو دو عیدیں منانے پر مذاق اڑایا جاتا ہے، اس سے نجات ملے گی یہ فیصلہ بہت اچھا ہے۔ اگرچہ بہت پہلے ہونا چاہئے تھا، ضرورت اِس بات کی ہے کہ اس فیصلے پر سختی سے قائم رہا جائے اور کسی بھی حلقے کو آئندہ ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنانے کی اجازت نہ دی جائے۔

مزید : رائے /اداریہ