خلاباقی نہیں رہ سکتا

خلاباقی نہیں رہ سکتا
خلاباقی نہیں رہ سکتا

  

ملکی صورت حال کس مقام پر پہنچ چکی ہے، اس کا اندازہ وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملے کی خبر ملتے ہی ردعمل سے لگایا جا سکتا ہے۔ 90فیصد سے زائد انگلیاں ایک ہی طرف اٹھیں، کیا سچ ہے، کیا جھوٹ، یہ اندازہ کرنا آسان نہیں، احسن اقبال کو گولی مارنے کا جو جواز پیش کیا جارہا ہے وہ باقاعدہ طے شدہ ایجنڈے کے تحت ہے؟۔

خلائی مخلوق اور اس کے کارندے یہ بات بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بار بار کررہے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں ختم نبوت والے بل میں تبدیلی کا معاملہ خوب اچھالا جائے گا۔ اس بل کی تیاری میں پارلیمنٹ کے تمام جماعتوں کے ارکان شامل تھے۔

سینیٹ میں سب سے پہلے جے یو آئی (ف) کے حافظ حمد اللہ نے نشاندہی کی تو حکومت کی رضا مندی کے باوجود اپوزیشن ارکان نے کہا کہ بل میں ہونے والی تبدیلی سے قانون مزید مضبوط ہو گیا ہے۔ پھر یہ معاملہ پراسرا رہاتھوں نے اچک لیا۔

بعدازاں پھر سے معاملہ اچھالے جانے پر سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے صورت حال کا بروقت ادراک کرتے ہوئے پرانا قانون اصل حالت میں بحال کرادیا۔ اس کے باوجود ہنگامہ آرائی اور کافر، کافر کا سلسلہ رک نہ سکا۔

جیسا کہ کہا جارہا ہے کہ یہ تمام کھیل ایک منظم پروگرام کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ واقفان حال کے مطابق جو لوگ اس مہم کے ذریعے لولی لنگڑی سول حکومت کو منہ کے بل گرانا چاہتے ہیں وہ انکاری کہاں ہیں؟۔ ایسے میں ان مضحکہ خیز اور بھونڈے کرداروں پر ہنسی آتی ہے۔

محض چمچے چانٹے کا رول ادا کرتے ہوئے وہ ایسے تمام واقعات کا دفاع کرتے رہتے ہیں اور موقف اختیار کرتے ہیں کہ سب کچھ ’’جذبہ ایمانی‘‘ کے تحت خودبخود ہورہا ہے۔ پوری بات صرف حکومت کے ہی نہیں، بلکہ حالات پر نظر رکھنے والے ہر شخص کے نوٹس میں ہے۔ یہ معاملہ ابھی اور آگے بڑھے گا۔

اگر یہ محسوس کیا گیا کہ (ن) لیگ کی مقبولیت میں کمی نہیں آرہی تو مار دھاڑ کے ذریعے تتربتر کرنے کی کوشش کی جائے گی، اس کا توڑ کس نے اور کیسے کرنا ہے کسی کو پروا نہیں۔

اپنے اپنے اہداف کے حصول کی اس جنگ میں خون خرابہ ہو یا تباہی، ماضی کی طرح کسی کو پروا نہیں، اگر ایسا ہی ہے تو یہ بات سمجھ لی جائے کہ احسن اقبال کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ محض اتفاقی واقعہ یا حادثہ نہیں۔ اگر انہوں نے اور ان کی جماعت نے انتخابی مہم چلانی ہے یا عوام میں جانا ہے تو ہر طرح کے انتظامات بھی خود کرنا ہوں گے۔

ایک بڑی لڑائی بالکل واضح دماغ کے ساتھ لڑی جاتی ہے۔جب آپ خود کنفیوژ ہوں اور آپ کی صفوں میں ایسے عناصر پائے جاتے ہوں جو درحقیقت آستین کے سانپ ہوں تو معاملات سلجھنے کی بجائے مزید الجھ جاتے ہیں۔

ایسا نہیں کہ ملک میں جاری محاذ آرائی کوئی نئی چیز ہے پوری قوم ایک طویل عرصے سے ایسے مناظر دیکھتی آئی ہے ہاں مگر یہ تسلیم کرنا ہوگاکہ جو شدت اب محسوس کی جارہی ہے ماضی میں کبھی ایسی نہ تھی ۔ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور بینظیر بھٹو کی شہادت کے وقت بھی ایساتیز اور فوری ردعمل نہیں آیاتھا۔

احتجاج کے چند واقعات کے بعد حالات نارمل ہو جاتے تھے۔ گزشتہ دس سال میں مگر حالات کچھ یوں پلٹا کھارہے ہیں کہ ہرگزرتے دن کے ساتھ کھنچاؤ کی شدت میں اضافہ ہو رہاہے۔

منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ تیسری باروزیراعظم بننے والے نوازشریف کو منصب پربراجمان ہونے کے فوری بعد اِدھر اُدھر دیکھنے کا موقع دیئے بغیر ملک بدر یا سیاست سے کنارہ کشی پر مجبور کردیا جائے گا ۔دھرنے ترتیب دیئے گئے۔

پھرجنرل اسلم بیگ نے بتایاکہ سازش اتنی بڑی ہوگئی کہ چار بیرونی ممالک اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے دھرنے کی کھلم کھلا حمایت پر اتر آئے ہیں ۔ اس کے بعد جاوید ہاشمی نے کاٹھ کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوڑڈالی اور بتایاکہ حکومت کیخلاف سارا کام جج حضرات ڈالیں گے ،اسی دوران جو ہواتاریخ کا حصہ ہے ،مگر پلان اسی انداز میں آگے بڑھایا گیا۔

یہ بھی سچ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ جس طرح سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی تھی ویسا ممکن نہ رہا ۔پلان تو یہی تھا کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے،لوٹے تو ہر حکومتی جماعت اٹھاہی لیتی ہے مگر حالت جنگ میں دوستوں کا دشمنوں کے ہتھیار بن جانا بھی کوئی انوکھی بات نہیں ، اس حوالے سے چودھری نثار کا کردار دھرنوں سے ہی مشکوک رہا۔ واضح رہے کہ جدی مسلم لیگی ہونے کے دعویدار چودھری نثار90 ء کی دہائی میں پیپلز پارٹی میں جاتے بال بال بچے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ بظاہر تساہل پسندی میں مبتلا نظر آنے والے نوازشریف اس تمام معاملے سے بخوبی آگاہ تھے۔

ان کی کچھ مجبوریاں تھیں ،جن کے سبب اسٹیبلشمنٹ کے ہر وار کو سہتے گئے، سب سے پہلے میڈیا پر پورے خاندان کا ٹرائل، اکثر اوقات تو باقاعدہ گالم گلوچ ہوتی رہی، اس کو برداشت کرنا پڑا، پھر جب ادارے آپس میں ایک ہو کر گھیراؤ پر اتر آئے تب بھی وقت نکالنا چاہا، نااہلی کے بعد ایک موقع پر پیشکش کی گئی کہ اپنے خاندان سمیت لندن بھاگ جائیں، مقدمات لٹکا دئیے جائیں گے مگر ایسا کچھ نہ ہو سکا، چودھری نثار جیسے عناصر کی کوشش تھی کہ نواز شریف چپ چاپ سیاست چھوڑ کر دنیا کے کسی اور کونے میں گوشہ نشینی اختیار کر لیں، نواز شریف اور ان کی صاحبزادی نے عوام میں آ کر اپنا بیانیہ پیش کیا ، پذیرائی نے اسٹیبلشمنٹ کو مشکل میں ڈال دیا، اسٹیبلشمنٹ کے حلقے میڈیا سے کہہ رہے تھے کہ اگر 90فیصد کوریج نواز مخالف ہو اور محض 10فیصد ان کے بیانیہ پر مبنی تو یہ بھی گوارا نہیں اور اسٹیبلشمنٹ کا یہ اندازہ بالکل درست ثابت ہوا، بیانیہ اس قدر بھاری پڑا کہ پورے کے پورے میڈیا کو تسخیر کرنا پڑا۔ پارٹی توڑنے کے لئے جنوبی پنجاب لوٹا محاذ بنوایا تو اندر سے چودھری نثار کو چابی دئیے رکھی جو ابھی دو روز قبل ہی پریس کانفرنس میں بڑے طمطراق سے کہہ رہے تھے کہ 45,40 ارکان ان کے ساتھ ہیں، کہا جاتا ہے کہ چودھری نثار کو یہ کہا گیا ہے کہ اگر آپ نے مشن مکمل کر دیا تو اگلے وزیراعظم بھی ہو سکتے ہیں، ورنہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ تو ہے ہی آپ کے لیے، باخبر حلقوں کے مطابق اس سے پہلے نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف فیورٹ تھے، انہیں بھی یہی ٹاسک سونپا گیا تھا کہ بڑے میاں کو چپ چاپ باہر جانے پر مجبور کردیا جائے مگر وہ ایسا نہ کر پائے، شاید نواز شریف نے مستقبل کی سیاست کا فیصلہ کرتے وقت کچھ اور کر گزرنے کی ٹھانی ہے، اب وہ جیل جانے کے لیے تیار ہیں، یہ بھی سچ ہے کہ وہ اپنی باتوں میں کبھی زیادہ سختی لاتے ہیں، کبھی نرمی ،مگر مجموعی طور پر ان کے موقف میں کچھ خاص تبدیلی نہیں آئی۔پارٹی میں موجود عقابوں کا یہ کہنا ہے کہ نواز شریف کو مزید یکسو ہونے کے لئے بے وفا چودھری نثاروں سے ہی نہیں، بلکہ ڈرپوک اسحاق ڈاروں سے بھی لاتعلقی کا عزم کرنا ہو گا، اس کے علاوہ اگر کوئی اور بھی ’’رسم شاہبازی‘‘ نبھانے پر آمادہ نہ ہو تو اسے بھی گڈبائے کہہ کر آگے بڑھنا ہو گا ورنہ منزل تو کیا راستہ ملنا بھی مشکل ہو جائے گا۔

یہ صورت حال جہاں مسلم لیگ(ن) کے لیے موزوں نہیں، وہیں اسٹیبلشمنٹ کو بھی سوٹ نہیں کرتی، اسی لیے عام انتخابات سے پہلے بیک وقت کئی تجربات شروع کر دئیے گئے، تحریک انصاف تمام تر کوششوں اور بھرپور حمایت کے باوجود تاحال ’’میرٹ ‘‘پر پورا اترنے میں ناکام ہے۔

بلوچستان میں ایک پارٹی کھڑی کی گئی اس کے بننے سے پہلے ہی سب کو پتہ چل گیا یہ کس کی کرامت ہے۔ کراچی میں مصطفی کمال ناکام ہو رہے ہیں، اب ایم کیو ایم کے دو دھڑوں نے مل کر الگ بڑا جلسہ کر ڈالا ہے تو عین ممکن ہے اس سے سودے بازی کی کوشش ہو، ویسے ادھر سے الگ صوبے کا مطالبہ تو سامنے آ ہی چکا ہے، متحدہ مجلس عمل مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں قائم ہوئی تو مولانا سمیع الحق کو آگے کر کے ایک سرکاری مجلس عمل بھی بنائی جارہی ہے، اس کے علاوہ بھی ملک بھر میں اچانک ابھرنے والے کئی طرح کے آزاد علاقائی اور نسلی ،مسلکی گروپوں کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ انہیں بھی مخصوص مقاصد کے لئے پروان چڑھایا جارہا ہے۔

ہر پارٹی کے اندر سے پارٹی نکالنے کی کوشش کے بعد یہ بھی واضح محسوس کیا جارہا ہے کہ اداروں کے اندر سے اداروں کے بارے میں غیر موافق باتیں ہونا شروع ہو گئی ہیں، ڈنڈے کی طاقت، عدالتوں یا میڈیا کے ذریعے پورے ملک کو کنٹرول کرنا کس حد تک ممکن ہے، اس کا اندازہ جلد ہو جائے گا، ایک بات جو سو فیصد یقینی ہے وہ یہی ہے کہ کنفیوژن میں مبتلا ہونے والے زیادہ نقصان اٹھائیں گے، کیونکہ خلا خواہ کسی بھی قسم کا ہو زیادہ دیر باقی نہیں رہتا۔

مزید : رائے /کالم