کراچی پر قبضہ: گولی نہیں ووٹ سے!

کراچی پر قبضہ: گولی نہیں ووٹ سے!
کراچی پر قبضہ: گولی نہیں ووٹ سے!

  

صرف ایک جلسے کے مقام پر کراچی میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں جھگڑا اتنا بڑھا کہ نوبت گولیاں چلنے، مار دھاڑ اور جلاؤ گھیراؤ تک آ گئی۔ حکیم محمد سعید پارک میں نجانے ایسی کیا بات ہے کہ دونوں جماعتیں 12 مئی کو وہیں جلسہ کرنا چاہتی ہیں جلسے سے چار دن پہلے دونوں نے پارک پر قبضہ جمانے کی کوشش کی تو تصادم ہو گیا۔

اب طرح طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ پیپلزپارٹی کے پاس آج کل یہی بہت بڑی دلیل ہے کہ کسی کو ایم کیو ایم جیسا قرار دیدیا جائے۔ سو یہاں بھی یہی کہا گیا کہ تحریک انصاف ایم کیو ایم جیسے ہتھکنڈے اختیار کر رہی ہے۔

حالانکہ یہی پیپلزپارٹی ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر حکومتیں بناتی رہی ہے اور اس نے کراچی کے عوام کو ایم کیو ایم کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا تھا۔ جگہ کا انتخاب کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ پیپلزپارٹی حکومت میں ہے اسے دل بڑا کر کے یہ پارک تحریک انصاف کو دے دینا چاہئے تھا۔

اُس کے لئے پورا کراچی کھلا پڑا ہے مگر لگتا یہی ہے کہ پیپلزپارٹی ایم کیو ایم کے ٹکڑے ہونے کے بعد کسی دوسری جماعت کو یہاں قدم جماتے نہیں دیکھنا چاہتی حالانکہ سیاست کی الف بے بھی سمجھنے والے اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ اپوزیشن کی جس پارٹی کو بھی دبایا جائے گا وہ ابھر کر آپ کے مقابل آ جائے گی۔ پیپلزپارٹی تحریک انصاف پر ہی ایک نظر ڈال لے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ جماعت دو وجوہات کی بنا پر اوپر آئی ہے اور دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے لئے چیلنج بن گئی ہے۔

پہلی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے ہمیشہ عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مخالف کو اپنے برابر لانے کی یہ سب سے بڑی وجہ ہوتی ہے کہ آپ دن رات اس پر تنقید کرنے لگیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ آپ مختلف ہتھکنڈے اختیار کر کے اس کا راستہ روکیں، تب بھی اس کی اڑان میں تیزی آ جاتی ہے۔

اب کراچی کے اس حالیہ ہنگامے کی مثال ہی لیں۔ پیپلزپارٹی والوں میں ذرا بھی سیاسی سوجھ بوجھ ہوتی تو اسے اتنا بڑا ایشو نہ بناتے، بلکہ اُلٹا تحریک انصاف کو پیشکش کرتے کہ وہ یہاں جلسہ کرنا چاہتی ہے تو کرلے ہم کہیں اور کر لیں گے یہ سب کچھ کر کے تو تحریک انصاف کو کراچی کی ایک بڑی سیاسی قوت تسلیم کر لیا گیا ہے یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ کراچی میں اب تحریک انصاف کے پاس اتنے کارکن ہیں جو پیپلزپارٹی یا کسی بھی دوسری جماعت کے کارکنوں کا مقابلہ کر سکیں۔

اب سے دو سال پہلے تک تحریک انصاف کے پاس ایسی حمایت کہاں تھی۔ اب یہ کہہ کر تحریک انصاف کو کیسے نقصان پہنچایا جا سکتا ہے کہ وہ ایم کیو ایم کی جگہ لے رہی ہے۔ کسی ایک جگہ جلسے کرنے کی ضد کو بھتہ خوری، قتل و غارت گری، قبضہ مافیا اور متشدد سیاست کا عکس کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔

آج پیپلزپارٹی ایم کیو ایم کا نام ایسے لے رہی ہے جیسے ساری زندگی اس کے خلاف برسر پیکار رہی ہو۔

حقیقت تو یہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے کراچی ایم کیو ایم کو سونپ رکھا تھا اور اندرون سندھ کی حمایت پر سندھ حکومت بنائی تھی، اور ایم کیو ایم اس کی ناگزیر اتحادی ہوتی تھی۔

آج کراچی کا امن اگر رینجرز کی کوششوں سے بہتر ہو گیا ہے تو ایم کیو ایم ایک طعنہ بن گئی ہے۔ ایم کیو ایم کراچی سے ختم نہیں ہوئی، البتہ اس کا ڈنک نکل گیا ہے۔ اب وہ سیکٹر انچارجوں کے ذریعے چلائی جانے والی پارٹی نہیں رہی بلکہ ایک سیاسی جماعت بن گئی ہے۔ اسی وجہ سے اس کے اندر شکست و ریخت بھی پیدا ہوئی ہے اور اسے اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت حاصل کرنے کے لالے بھی پڑے ہوئے ہیں۔

یہ درست ہے کہ ایم کیو ایم کے خوف سے مصنوعی خول ٹوٹنے کے بعد کراچی میں ایک خلاء پیدا ہوا ہے اور تمام سیاسی جماعتیں اس خلاء کو اپنے ذریعے پر کرنا چاہتی ہیں لیکن ایسا نہیں کہ ایم کیو ایم صفحہ ہستی سے مٹ گئی ہے۔

ایم کیو ایم سے کراچی کے مہاجروں کی ربع صدی پر محیط رفاقت آسانی سے ختم نہیں ہو سکتی البتہ کمزور ضرور ہو گئی ہے ایک تیسرا عنصر جس نے ایم کیو ایم کو بے اثر کرنے میں اہم کردار ادا کیا وہ مصطفیٰ کمال کی پاک سر زمین پارٹی ہے یہ وہ جماعت ہے کہ جس میں مہاجر ووٹ بنک منطقی طور پر سما سکتا ہے کیونکہ اس میں مہاجروں کے وہ لیڈر موجود ہیں جو ایم کیو ایم کے کرتا دھرتا رہے ہیں۔ خود مصطفیٰ کمال انہی میں سے ایک ہیں۔

سیاسی لڑائی کس حد تک بچگانہ شکل اختیار کر چکی ہے اس کا اندازہ اس وقت بھی ہوا تھا جب بلاول بھٹو زرداری نے ایم کیو ایم کے ماضی میں گڑھ سمجھے جانے والے علاقے لیاقت آباد میں ایک بڑا جلسہ کیا اس جلسے کے بعد پیپلزپارٹی نے یہ ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیا کہ ایم کیو ایم کا کراچی سے صفایا ہو گیا ہے۔

اس جلسے نے کراچی میں ایم کیو ایم کے دھڑوں کو ایک ہونے پر مجبور کر دیا اور چند روز پہلے فاروق ستار نے تمام تر اختلافات بھلا کر بہادر آباد گروپ کے ساتھ جلسہ کرنے کا اعلان کر دیا جلسہ ہوا، جسے حسب معمول ایم کیو ایم نے تاریخی اور پیپلزپارٹی نے ناکام جلسہ قرار دیا۔

اگر ماضی والا کراچی ہوتا تو شاید پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان یہ چوہے بلی والا کھیل جاری رہتا۔ مگر اب تو سب کچھ بدل چکا ہے۔ کراچی سیاسی طور پر ایک اوپن شہر بن گیا ہے، جس کے عوام اب ماضی کے ڈراؤنے خوابوں کو نہیں دہرانا چاہتے، انہوں نے امن و امان کی نعمت کو دوبارہ پایا ہے اور وہ اسے اب کھونا نہیں چاہتے، اس لئے انہوں نے سب جماعتوں کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کئے ہوئے ہیں وہ کراچی کی بہتری چاہتے ہیں، تیسری پانی، بجلی، گیس اور بنیادی سہولیات کی جو کمی ہے، اسے پورا ہوتا دیکھنا ان کا دیرینہ خواب ہے۔

اس بات کو ایم کیو ایم سمجھ رہی ہے اور نہ پیپلزپارٹی سمجھنا چاہتی ہے۔ ان کا یہی خیال ہے کہ کراچی اب تک وہی شہر ہے جہاں لوگوں کو یرغمال بنا کے رکھا جاتا تھا۔

حالانکہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے صدر کی حیثیت سے کراچی کے متواتر دورے کئے ہیں کیونکہ وہ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کراچی کو اب دو جماعتوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

انہوں نے اے این پی سے اتحاد بھی کیا ہے تاکہ کراچی میں مشترکہ الیکشن لڑا جا سکے۔ جبکہ تحریک انصاف تو بہت عرصے سے اس شہر پر توجہ دیئے ہوئے ہے، عمران خان نے اس وقت بھی اس شہر میں جلسے کئے جب الطاف حسین کا پوری طرح اس شہر پر کنٹرول تھا۔

یہاں سے تحریک انصاف نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں بھی جیتیں اس بار تحریکِ انصاف پوری شدت سے کراچی کے میدان سیاست میں اترنا چاہتی ہے۔ یہ اس کی حکمت عملی ہے جس جماعت کے پاس سٹریٹ پاور ہو اسے آسانی سے روکنا ممکن نہیں ہوتا۔

ابھی تو پیپلزپارٹی سندھ حکومت چلا رہی ہے، نگران حکومت بن جانے پر وہ حکومتی چھڑی سے محروم ہو جائے گی۔ پھر تو فیصلہ عوام ہی کریں گے۔ اس لئے ایسی صحت مند روایات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، جو سب کے لئے ایک ساز گار سیاسی ماحول فراہم کریں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پیپلزپارٹی کو اس بار سندھ میں بڑے سیاسی چیلنجوں کا سامنا ہے اندرون سندھ پیر پگارو کی سرپرستی میں ایک بڑا سیاسی اتحاد بن چکا ہے جبکہ کراچی اور حیدر آباد میں ایم کیو ایم کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) بھی سر گرم عمل ہیں۔

خاص طور پر کراچی اس بار قومی سیاست میں ایک انتہائی کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اب ایک صورت تو یہ ہے کہ کراچی کو پھر خوف و ہراس کا مرکز بنا کر اہل کراچی کی سوچ کو پابند سلاسل رکھا جائے اور انہیں مجبور کر دیا جائے کہ وہ کسی اور طرف دیکھنے کی بجائے اپنی روائتی سیاسی قوتوں کو ووٹ دیں جو کئی دہائیوں سے ان پر مسلط چلی آ رہی ہیں یا پھر انہیں آزادانہ اور پر امن ماحول میں اپنی رائے کے اظہار کا موقع دیا جائے۔

جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے تو وہ بوجوہ ممکن نہیں کیونکہ فوج اور رینجرز نے تیہ کر رکھا ہے کہ کراچی کو دوبارہ یرغمال نہیں بننے دیا جائے گا۔ ابھی دو روز پہلے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی کا دورہ کیا اور یقین دلایا کہ کراچی کو اب کبھی بد امنی کا شکار نہیں ہونے دیں گے۔ رینجرز پوری قوت سے سماج دشمنوں کے خلاف اپنا عمل جاری رکھے پوری قوم اس کے ساتھ ہے آرمی چیف کے ایسے فلک شگاف عزائم کے بعد کسی کو یہ شک و شبہ نہیں رہنا چاہئے کہ اب کراچی کے عوام کو خوف و ڈر کے حربوں سے یرغمال نہیں رکھا جا سکتا۔

کراچی اس وقت سب کے لئے ایک کھلا شہر ہے اس کا سیاسی میدان بھی اب سب کے واسطے موجود ہے اب ایسے ہتھکنڈوں سے کام نہیں چلے گا کہ کسی کو جلسہ کرنے دیا جائے اور کسی کو اجازت نہ ملے۔

کراچی کی تمام سیاسی قوتوں کو اب یہ تسلیم کر لینا چاہئے کہ کراچی سے گولی کا دور رخصت ہو گیا اور ووٹ کا دور واپس آ گیا ہے۔ اب عوام اپنی رائے کا اظہار کرنے گھروں سے نکلیں گے۔

ان کے ووٹ کی پرچی پر کسی ان دیکھے خوف کا سایا نہیں ہوگا بلکہ وہ پرچی ان کے ضمیر اور سوچ کی آواز ہو گی۔ کراچی میں سیاسی جماعتوں کو فی الفور ایک سیاسی و انتخابی ضابطہ اخلاق بنانے پر توجہ دینی چاہئے۔

تاکہ مستقبل میں ایسی کوئی صورتِ حال پیدا نہ ہو۔ جو کراچی کے امن کو تباہ کر دے۔ اس ضابطہ اخلاق کا بنیادی نکتہ جیو اور جینے دو ہونا چاہئے۔ عوام تک تمام سیاسی جماعتوں کی بلا روک ٹوک رسائی ہونی چاہئے۔ باقی فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا جائے۔

آج اگر ایک جلسے پر اتنا ہنگامہ ہوا ہے تو ضابطہ اخلاق نہ ہونے کی صورت میں عام انتخابات کی مہم کے دوران کیا کچھ نہیں ہوگا، کراچی ہی نہیں ملک بھی اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم