’’خلائی مخلوق‘‘ کا امریکی مفہوم!

’’خلائی مخلوق‘‘ کا امریکی مفہوم!
’’خلائی مخلوق‘‘ کا امریکی مفہوم!

  

’’اب ہمارا مقابلہ خلائی مخلوق سے ہے جو نظر نہیں آتی۔۔۔ ہاں ہاں یہ خلائی مخلوق نظر نہیں آتی‘‘۔۔۔

یہ وہ تاریخی الفاظ تھے جو ہمارے سابق وزیراعظم نے ایک حالیہ تقریر میں اس انداز سے ادا کئے کہ آنکھیں جا ہ جلال اور غیظ و غضب سے ضرورت سے زیادہ باہر نکلی ہوئی تھیں، دونوں ہاتھ اپنی آٹھ انگلیوں اور دو انگوٹھوں سمیت اس طرح چل رہے تھے جیسے ہوائی جہاز کے انجنوں کے پنکھے یکدم گھومنے لگتے ہیں اور پھر انہوں نے آسمان کی طرف نگاہیں اس طرح اٹھائیں جیسے کسی پر ’’اوپر والے‘‘ کی پھٹکار بھیج رہے ہوں!۔۔۔ یہ سین بہت غیر متوقع، ناگہانی اور عوامی تاثیر کے اعتبار سے دلوں کو ہلا دینے والا تھا۔ مجھے ان کے یہ الفاظ سن کر بے اختیارکسی فارسی شاعر کا یہ شعر یاد آ گیا:

بترس از آہِ مظلوماں کہ ہنگامِ دعا کردن

اجابت از درِ حق بہرِ استقبال می آئد

آج کل فارسی شعر و ادب سے علاقہ رکھنے والے حضرات چونکہ خال خال ملتے ہیں اس لئے میں اس شعر کا اردو ترجمہ بھی لکھ دیتا ہوں:

ڈرو مظلوم کی آہوں سے جب اٹھتی ہیں سینے سے

قبولیت ہے کرتی خیر مقدم چرخ سے آکر

پھر اس ’’خلائی مخلوق‘‘ کا اتنا شہرہ ہوا کہ پورے ایک ہفتے تک درجنوں پاکستانی ٹی وی چینلوں پر یہی ٹاک شوز کا موضوع بنا رہا۔ حزبِ اختلاف کے درجنوں جغادری دانشوروں اور سیاستدانوں کو ان ٹاک شوز میں دعوتِ کلام دی گئی اور اینکر حضرات و خواتین نے اپنے مہمانوں سے یہ ایک ہی سوال کرنا شروع کر دیا کہ نوازشریف کی اس تقریر میں ’’خلائی مخلوق‘‘ سے کیا مراد تھی؟ وہ اس معصومیت اور بھولپن سے یہ سوال پوچھتے جیسے ’’کاکے‘‘ ہوں (یا ’’کاکی‘‘ ہوں )اور روٹی کو ’’چوچی‘‘ کہتی ہوں۔

آخر کئی روز کے سوال و جواب کے بعد یہ راز کھل ہی گیا کہ ’’خلائی مخلوق‘‘ سے سابق وزیراعظم کی مراد ’’پاکستان آرمی‘‘ تھی!۔۔۔ چلو اینکروں اور اینکرانیوں کے دلِ بے قرار کو آخر قرار آ ہی گیا۔ بقولِ غالب :

حُسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد

بارے آرام سے ہیں اہلِ جفا میرے بعد

لیکن جب اس ’’خلائی مخلوق‘‘ کے معانی کا معمہ حل ہو گیا تو پھر مشکل یہ پیش آئی کہ اس خلائی مخلوق کا مشن کیا ہے۔۔۔؟ کیا یہ خلائی مخلوق، زمینی مخلوق کے آقاؤں اور حکمرانوں کو تخت و تاج سے معزول اور اقتدار سے محروم کرنے کا فریضہ ہی ادا کرتی رہتی ہے یا اس کا کوئی اور کام بھی ہے؟۔۔۔ کیا یہ خلا میں بسیرا کرتی ہے یا کبھی نیچے بھی اترتی ہے؟۔۔۔ نظر بھی آتی ہے یا نہیں آتی؟۔۔۔ اس کے کارندوں کی شکل و صورت دوسرے سیاروں سے آنے والے کن Aliensسے ملتی جلتی ہے؟۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ ایک چینل نے تو باقاعدہ اس مخلوق کی ایک دستاویزی فلم بھی آن ائرکر دی۔ ARY چینل پر چلنے والے ایک شبانہ ٹاک شو Power Play کے پروگرام پروڈیوسر نے تو اس ’’خلائی مخلوق‘‘ کے ڈانڈے واقعی کسی ایسی مخلوق سے جا ملائے جس کو دیکھ کر ہول آتا تھا اور جس پر ہمارے مغربی مہربانوں نے کئی فلمیں بنا کر اپنی جدتِ افکار کا ثبوت بھی پیش کر دیا تھا اور پھر ایک اور چینل نے ایک نئی درفطنی بھی چھوڑی اور یہ ’’راز‘‘ طشت از بام کر دیا کہ اس خلائی مخلوق کے رشتے ناتے امریکی ایڈمنسٹریشن سے جڑے ہوئے ہیں!

جب میرے کانوں نے یہ استدلال سنا تو مجھے امریکی ایڈمنسٹریشن کے سربراہ صدر ٹرمپ کی ایک حالیہ تقریر کی یاد آئی جس میں موصوف نے واقعی ’’خلائی مخلوق‘‘ کا ذکر کیا تھا اور عوام کو یہ نوید دی تھی کہ ان کی کابینہ بڑی سنجیدگی سے اس ’’خلائی مخلوق‘‘ کو اپنی افواجِ قاہرہ کا حصہ بنانے والی ہے لیکن اس کا نام خلائی مخلوق نہیں’’ خلائی فوج‘‘ (Space Force) ہوگا۔

حضرت ٹرمپ کی صدارت کے ابھی تین، پونے تین سال باقی ہیں اور کون جانے اگلی ٹرم (Term) بھی ان کے نصیب میں ہو جائے! اس لئے انہوں نے قوم کو یہ خوش خبری سنائی ہے کہ یہ ’’خلائی فوج‘‘ 2020ء تک کھڑی کر دی جائے گی۔

صدر کی انتظامیہ بڑی شد و مد سے اس پر کام کر رہی ہے اور اپنے سربراہ کے تصور کو عملی جامہ پہنا رہی ہے۔۔۔ اس تشکیلِ نو کا پسِ منظر اور پیشِ منظر بھی شاید قارئین کے لئے باعثِ دلچسپی ہو!

یکم مئی 2018ء کو ویسے تو ’’مزدوروں کا دن‘‘ تھا اور اس ایجاد کا سہرا بھی امریکہ ہی کے سر باندھا جاتا ہے(میں اس کی تاریخ بتا کر آپ کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا) لیکن اس یومِ مزدوراں پر صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک فٹ بال ٹیم کے اعزاز میں دعوت دے رکھی تھی۔آپ کو معلوم ہی ہے کہ یورپ اور امریکہ میں فٹ بال کے کھیل کو جو جنونی اہمیت دی جاتی ہے اس کے ڈانڈے ہماری ’’کرکٹ دیوانگی‘‘ سے بھی آگے نکل جاتے ہیں۔ اس سال فٹ بال ٹیموں کے جو مقابلے افواجِ امریکہ کے درمیان ہوئے تھے ان میں آرمی کی ٹیم اول آئی تھی۔ اس ٹیم کو امریکہ میں ’’بلیک نائٹ (Knights) کالج فٹ بال ٹیم‘‘ کہا جاتا ہے۔

اس ٹیم کے ہمراہ ویسٹ پوائنٹ اکیڈیمی کا کمانڈانٹ بھی آیا ہوا تھا۔( یہ اکیڈیمی پاکستان کی پی ایم اے کاکول کے برابر ہے اور وہاں اس کے کمانڈنٹ کو ’’پریذیڈنٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔)

صدر ٹرمپ نے ٹیم کے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’میں آپ کے سامنے اپنا وہ آئیڈیا ایک بار پھر دہرانا چاہتا ہوں جس کا سرسری ذکر میں نے مارچ 2018ء میں کسی جگہ کیا تھا‘‘۔۔۔۔ یہاں صدر ٹرمپ نے رک کر اکیڈیمی کے کمانڈانٹ لیفٹیننٹ جنرل بوب کاسلن (Bob Caslen) کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’جنرل صاحب! ہم بڑی سنجیدگی سے اس موضوع پر غور کر رہے ہیں کہ ایک خلائی فوج کھڑی کریں جو ہماری چھٹی اور سب سے زیادہ پاور فل فوج ہوگی اور جس کا نام Space Force ہوگا! جنرل صاحب! اس سے پہلے جیسا کہ آپ جانتے ہیں امریکہ کی پانچ افواج ہیں۔یعنی آرمی، نیوی، میرین، ائرفورس، اور کوسٹ گارڈ ۔۔۔ یہ خلائی فوج چھٹی فوج ہوگی۔

مجھے معلوم ہے اس کا نام آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا۔ لیکن میں آپ کو آج بتا رہا ہوں کہ یہ میرے اپنے ذہن کی تخلیق ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم روز بروز خلا میں بھی ایک بہت بڑی قوت بنتے جارہے ہیں۔

اس کی وجوہات کچھ تو فوجی ہیں اور کچھ دوسری بھی ہیں۔ اس لئے ہم بڑی سنجیدگی سے اس فورس کی آزادانہ اور خود مختارانہ تشکیل پر غور کررہے ہیں۔‘‘

صدر ٹرمپ نے دو ماہ پہلے جب یہ آئیڈیا پہلی بار فوجی افسروں کے سامنے پیش کیا تھا تو اکثر حاضرین نے اسے مذاق سمجھا تھا۔ لیکن اس ’’ مذاق‘‘ کے بعد ایک امریکی نائب وزیر دفاع نے میڈیا کے سامنے یہ بیان بھی دیا کہ صدر اس ’خلائی فوج‘ کی تشکیل کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔

وہ خلائی کور(Space Corps) کے آئیڈیا کو اپنے کئی وزیروں اور مشیروں کے ساتھ ڈسکس کررہے ہیں۔ ویسے تو ’’خلائی کمانڈ‘‘ امریکی ائر فورس کی ایک ذیلی کمانڈ ہے جو خلائی موضوعات پر ہونے والی ڈویلپ منٹاور دیگر مباحث وغیرہ پر نظر رکھ رہی ہے لیکن صدر نے فٹ بال ٹیم کے کھلاڑیوں سے باتیں کرتے ہوئے جب اس کا ذکر کیا ہے تو مطلب یہ ہے کہ وہ اس پر غور و خوض کے اگلے مرحلوں تک جارہے ہیں۔

اس سے کچھ روز پہلے بھی سان ڈیگو میں ایک تقریر کے دوران جو سروس چیفس کے سامنے کی گئی تھی، ٹرمپ نے کہا تھا: ’’میری نئی وارسٹرٹیجی‘‘ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ خلاء، جنگ لڑنے کا ایک ایسا ہی میدان ہے جیسے فضا، زمین اور سمندر ہیں‘‘۔

وائٹ ہاؤس کی اس تقریب میں امریکی صدر نے ذہن پر زور دیتے ہوئے یہ بھی کہا: ’’پہلے پہل جب میں نے یہ خیال ظاہر کیا تھا تو اسے ویسے ہی جذبات کی رومیں آکر ارتجالاً کہہ دیا تھا۔ لیکن بعد میں سوچا کہ یہ موضوع تو واقعی ایک زبردست اہمیت کا حامل موضوع ہے۔ مستقبل میں اصل جنگ تو نہ زمین پر ہوگی، نہ سمندر میں اور نہ فضا میں، بلکہ فضا سے اوپر خلا میں ہوگی جس کی کوئی حدنہیں۔‘‘

قارئین محترم! میں سوچتا ہوں کاش ہمارے سیاسی لیڈر بھی ٹرمپ کی طرح سوچیں! وہ اپنی فوج کو خلائی مخلوق کا طعنہ نہ دیں بلکہ اس طعنے کو سچ مچ کا عملی جامہ پہنائیں۔ اس ’’خلائی مخلوق‘‘ کو وہی اہمیت دیں جو دنیا کی دوسری جدید اقوام یعنی امریکہ، روس، چین، فرانس، برطانیہ وغیرہ دے رہے ہیں۔ اب تو انڈیا بھی اس دوڑ میں شامل ہوگیا ہے۔

اور شنید ہے کہ پاکستان نے بھی شائد خلا کو پُر امن مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ جنگی مقاصد کے لئے بھی استعمال کرنے کا پروگرام بنایا ہوا ہے۔ پاکستان بھی مستقبل قریب میں اپنے سیارے خلا میں بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

جس طرح ایٹمی جنگ کی شروعات ’’پر امن مقاصد‘‘ کے نام پر کی گئیں اسی طرح یہ خلائی رسائی بھی آنے والے عشروں میں ویسا ہی روپ دھارے گی۔۔۔۔ انسان اپنے جوہری بم لے جاکر خلاؤں میں ذخیرہ کرنے کا سوچ رہاہے۔

وہاں سے زمینی کنٹرول کے ذریعے ایک بٹن دبانے سے وہ جس خطۂ زمین کو ’’اڑانا‘‘ چاہے گا، اڑا دے گا! ۔۔۔آج ہمارے جو سیاستدان ’’خلائی مخلوق‘‘ کا مضحکہ اڑا رہے ہیں، آنے والے کل کے سیاستدان اس کو مضحکہ خیزی کی جگہ سنجیدگی کا لباس پہنانے پر مجبور ہوں گے۔

مزید : رائے /کالم