سی پیک کامیابی میں متبادل مصالحتی نظام سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، ایس ایم نوید

سی پیک کامیابی میں متبادل مصالحتی نظام سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، ایس ایم ...

لاہور(کامرس رپورٹر)سی پیک کی کامیابی میں متبادل مصالحتی نظام سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان خیالا ت کا اطہار پاک چائنہ چیمبر کے صدر ایس ایم نوید نےCIICA کانفرنس 2018 میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ایس ایم نوید نے ADRمراکز کے قیام کو خوب سراہا۔ CIICA کانفرنس 2018 بین الاقوامی معاشی سا لسی کے تناظر میں منعقد کی گئی۔ جس کی توجہ کا مرکزعدالتوں کو ملوس کیے بغیر قانونی مداوے کا قیام تھا۔ کانفرنس کا انعقاد CIICAاور UMT کی جانب سے کیا گیا�آ اس کانفرنس کا مقصد پیچیدہ قانونی موشگافیوں کے برعکس روائتی پنچائتی نظام میں عدلیہ کو شامل کرکے تیز ترین سہل اور کم خرچ عدل کا نظام قائم کرنا تھا۔

ا

یس ایم نوید نےADR سینیٹرز کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے شرکاء کوبتایا کہ سی پیک پاکستان میں معاشی خاشہالی بشمو ل پاکستان میں روزگار فراہم کرنے کا ایک تاریخی پراجیکٹ ہے ۔ سی پیک منصوبوں پر چینی ہنر مندوں کی تعداد 9000جبکہ پاکستانی محنت کشوں کی تعداد اس سے دس کنا زیادہ یعنی 90,000 ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں چینی صنعتوں کی منتقلی نہ صرف ر وزگارکے مواقع فراہم کرے گی بلکہ جدید ترین تکنیکی معاونت اور فنی تعلیم کے ذریعے بین الاقوامی معیار کی مصنوعات پیدکی جا سکیں گی۔انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت فعالیت کے لحاظ سے دنیا بھر میں متبادل مصالحتی نظام سب سے پراثر ، آسان ، اور سستہ طریقہ ہے۔ پاک چائنہ چیمبر کے صدر نے وضاحت کی کے دونوں ممالک کے مابین جاری کاروباری اور بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیاں SME کے شعبے میں تقریباً100 ارب ڈالر کا اضا فہ کریں گی۔ایس ایم نوید نے آگاہ کیا کہ سی پیک کی تکمیل چین کے لیے انتہائی ضرور ی ہے۔ کیونکہ یہ منصوبہ ناصرف ایندھن برآمد کرنے کا ایک متبادل راستہ فراہم کرے گا بلکہ نئی منڈیونں میں پاکستان کی مصنو عات کے پہنچانے میں مدد دیے گا جس سے روایتی اور غیر روایتی نظام کو فروغ حاصل ہو گا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک اقتصادی ترقی کی ایک اہم بنیاد ہے۔ پاک چائینہ چیمبر کے صدرنے دونوں دوست ممالک کے تعلقات کی گہرائی بیان کرتے ہوئے اس امر کا اعادہ کیا کہ روز افزوں بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات کو پنپنے کے لیے قانونی فہم، قابل اساتذہ اور پیشہ وارانہ مہارت کے حامل ہنر مند افراد کی ضرورت ہے جو متوقع چیلنج سے نمٹنے کے لیے اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کرسکیں۔ مزید برآں صنعتی اور تجارتی تعاون کے نتیجے میں کچھ تنازعات نے جنم لینا شروع کردیا ہے۔ جو پاکستان کی عدالتوں میں داد رسی کے منتظر ہیں لیکن طویل عدالتی طریقہ کار کی بدولت انصاف کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تنازعات کو نمٹانے کے لیے روایتی قانونی طور طریقوں سے اجتناب کرتے ہوئے نہایت آسان اور قابل عمل طریقہ وضع کیا جاتا ہے۔

مزید : کامرس