تجارتی تنظیموں کی استعداد کار بڑھانے کیلئے جامع مہم شروع کر دی

تجارتی تنظیموں کی استعداد کار بڑھانے کیلئے جامع مہم شروع کر دی

فیصل آباد (بیورورپورٹ) جنوبی ایشیا میں تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعتی ،تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں میں پاکستان کے حصے میں اضافے کیلئے تجارتی تنظیمیں ناگزیر ہیں اور اس مقصد کیلے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریڈ آرگنائزیشن نے تجارتی تنظیموں کی استعداد کار کو بڑھانے کیلئے ایک جامع مہم شروع کر دی ہے جس کے تحت بوگس اور غیر فعال تنظیموں کے لائسنس منسوخ کرنے کے ساتھ ساتھ منظم ، متحرک اور فعال تجارتی تنظیموں کی حوصلہ افزائی کی جائیگی۔ یہ بات ریگو لیٹر ڈائریکٹو ریٹ جنر ل ٹریڈ آرگنائزیشن ڈاکٹر وقار احمد شاہ نے آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تیسرے مشاورتی اجلاس کے سلسلہ میں چیمبرز اور لائسنس یافتہ تجارتی تنظیموں کے عہدیداروں اور سیکرٹری جنرل صاحبان کی استعداد کار بڑھانے کیلئے دو روزہ تربیتی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ نجی شعبہ میں کام کرنے والے صنعت، تجارت اور سروسز سیکٹر کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کے ذریعے ہی ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ اس کیلئے ہر سیکٹر کی تجارتی تنظیموں کو لائسنس جاری کئے جاتے ہیں تا کہ وہ مروجہ قانون اور ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے اپنے ممبران کے مفادات کا تحفظ کر سکیں۔ مشاورتی اجلاس کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اس کے چار بنیادی مقاصد ہیں جن میں تجارتی تنظیموں کے کردار کی وضاحت، لائسنسنگ بارے ریگولیشن ، تجارتی تنظیموں کے مقاصد اور ممبران کے مفادات کے تحفظ کیلئے اقدامات شامل ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں 230 کے لگ بھگ چیمبرزاور تجارتی تنظیمیں ہیں جن میں سے صرف تیس فیصد متعلقہ قوائد و ضوابط کی پابندی کر رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ لائسنس یافتہ تنظیمیں صرف اسی وقت اپنا موثر کردار اد ا کر سکیں گی جب ا ن کے سیکرٹری جنرل نے ریگولیٹر ی قوائد کو بروقت پورا کر رکھا ہو۔ انہوں نے وضاحت کی کہ منتخب عہدیداروں کو کسی بھی چیمبر یا تجارتی تنظیم کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ تجارتی تنظیموں کو معیاری، متحرک اور فعال ہونے کے ساتھ ساتھ قوائد و ضوابط کی پابند بھی ہونا چاہیئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت اسلام آباد میں ڈی جی ٹی او کا آفس ہے جبکہ تجارتی تنظیموں کی موثر مانیٹرنگ کیلئے اس کے ذیلی دفاتر کراچی ، لاہور اور فیصل آباد جیسے شہروں میں بھی ہونے چاہیءں جہاں ان تنظیموں کی اکثریت ہے۔ ڈاکٹر وقار احمد نے بتایا کہ حکومت ٹریڈآرگنائزیشن ایکٹ میں ضروری ترامیم بھی لا رہی ہے تا کہ اس کو مزید موثر اور فعال بنایا جا سکے۔ انہوں نے چیمبرز اور تجارتی تنظیموں کے سیکرٹری جنرل صاحبان سے کہا کہ وہ بھی اس میں اپنا حصہ ڈالیں اور ایسی قابل عمل تجاویز دیں جن کے ذریعے اس ایکٹ میں مزید بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں ان کے خیال میں صدر کے عہدے کی مدت کم ہے جس میں اضافہ کرکے انہیں اپنے پروگراموں پر موثر عملدرآمد کیلئے زیادہ وقت دیا جا سکتا ہے۔ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے کردار کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح کے صرف دس چیمبر ز ہوں تو ملکی معیشت ٹھوس بنیادوں پر ترقی کر سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد چیمبر کو اس کی کارکردگی کی وجہ سے بطور کوآرڈی نیٹنگ ٹریڈ آرگنائزیشن چنا گیا ہے اورآئندہ ہونے والے مشاورتی اجلاسوں میں فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سیکرٹری جنرل عابد مسعود سے بھی لیکچر دلوائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی طرف سے ایچ آر ، الیکشن اور روزمرہ کے کام چلانے کیلئے تیار کئے جانے والے بائی لاز کی بھی تعریف کی اور کہا کہ دوسرے چیمبر ز کو بھی طے شدہ قوائد و ضوابط کے علاوہ اپنے مخصوص حالات کے مطابق اپنے بائی لاز تیار کرنے چاہیءں۔ انہوں نے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس تنظیم نے سات سالوں سے لازمی قوانین کی پابندی ہی نہیں کی جس کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی کامرس بارے کمیٹی نے انہیں تجاویز تیار کرنے کی ہدایت کی ہے جس کے تحت تجارتی تنظیموں کو موثربنا کر پاکستانی تاجروں کو علاقائی منڈیوں تک آگے لایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت تجارت اس وقت لُک افریقہ مہم چلا رہی ہے تا کہ افریقہ کی غیر روائتی منڈیوں میں پاکستانی برآمدات کو بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے فیصل آباد چیمبر سے کہا کہ وہ بھی اپنے لئے کسی ایک ملک کا انتخاب کرے تا کہ اس کیلئے وزارت کی طرف سے اس ملک تک رسائی کیلئے راستے ہموار کئے جا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ تجارتی تنظیموں کو فعال بنانے کیلئے وہ مشاورتی اجلاسوں کے بعد قومی سطح پر بھی ایک کانفرنس کرنا چاہتے ہیں تا کہ قومی معیشت کے استحکام کے مقاصد کو حاصل کیا جا سکے۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شبیر حسین چاولہ نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے کردار پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ اس کے ممبران کی تعداد چھ ہزار سے زائد ہے جبکہ اس کی سو سے زائد قائمہ کمیٹیاں اپنے اپنے سیکٹر کے مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد قومی برآمدات اور روزگار میں 25 فیصد کا حصہ ڈال رہا ہے جبکہ ٹیکسٹائل کی برآمدات میں اس کا حصہ 55 فیصد سے بھی زائد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد چیمبر کے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ونگ نے معاشی حالات پر چار تحقیقی رپورٹس شائع کی ہیں جن کو ملکی اور بین الاقوامی طور پر بھی سراہا جا رہا ہے۔ سوال و جواب کے نشست میں آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کے خالد حبیب ، میاں آفتاب احمد ، عابد مسعود اور دیگر شرکاء نے حصہ لیا جبکہ ڈاکٹر وقار احمد شاہ کے ڈائریکٹوریٹ اور پریمگیا کے چیئرمین نے سابقہ مشاورتی اجلاس بارے پریزنٹیشن دی۔ آخر میں مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سابق صدر میاں جاوید اقبال نے ڈی جی ٹی او کے پورے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان میں بھی ایک پورٹل ہونا چاہیئے جس پر ہر لائسنس یافتہ تنظیم کیلئے اپنی کارکردگی اپ لوڈ کرنا لازمی ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈی جی ٹی او کو کسی بھی نئے چیمبر یا تنظیم کو لائسنس دینے سے قبل اس کا اشتہار اخبار میں دینا چاہیئے تا کہ ایک ہی طرح کی تنظیموں کے نام پر ذاتی چوہدراہٹ کے سلسلے کو روکا جا سکے۔ انہوں نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے سخت اور موثر ریگولیٹری نظام کو بھی سراہا اور کہا کہ صرف اس کی وجہ سے آج دنیا بھر میں پاکستانی بینکوں کی ایل سی کو فوری قبول کیا جا رہا ہے ۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شبیر حسین چاولہ نے ڈائریکٹر جنرل ٹریڈآرگنائزیشن ڈاکٹر وقار احمد شاہ کو خصوصی شیلڈ پیش کی جبکہ آخر میں تقریب کے شرکاء میں سرٹیفیکیٹ بھی تقسیم کئے گئے۔

مزید : کامرس