وزیر داخلہ احسن اقبال، روبہ صحت، نارووال میں ان پر فائر کیا گیا

وزیر داخلہ احسن اقبال، روبہ صحت، نارووال میں ان پر فائر کیا گیا

وزیر داخلہ احسن اقبال کامیاب آپریشن کے بعد روبہ صحت ہیں اور ان کو آئی سی یو سے کمرے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کو گولی لگنے کے بعد ہنگامی طور پر لاہور لایا گیا تھا۔ اقلیتوں کی ایک کارنر میٹنگ کے دوران ملزم نے ان پر گولی چلائی۔ سیکیورٹی والوں نے اسے مزید فائرنگ نہ کرنے دی اور دبوچ کر گرفتار کر لیا، احسن اقبال کو فوری طبی امداد کے بعد ریسکیو والے قریبی ہسپتال لائے جہاں ان کی دیکھ بھال کی گئی۔ اس اثناء میں یہ خبر پھیل گئی تو وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے ذاتی دلچسپی لی اور لاہور سے ہیلی کاپٹر بھیجا کہ ان کو یہاں منتقل کر دیا جائے۔ اس عرصہ میں سروسز ہسپتال میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی۔ سینئر ڈاکٹرز، سرجنز اور ایم ایس سبھی جمع ہو گئے۔ وزیر داخلہ کے لاہور پہنچتے ہی ان کو آپریشن تھیٹر لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں کے فل بورڈ نے ان کا معائنہ اور آپریشن کیا جس کے بعد ہیلتھ بلیٹن کے طور پر بتایا گیا کہ گولی بازو سے لگتی ہوئی پیٹ میں لگی کامیاب آپریشن کے بعد وہ خطرے سے باہر ہیں۔ تاہم ان کو ابتدائی چوبیس گھنٹے تک آئی سی یو ہی میں رکھا جائے گا۔ اس پورے عرصہ میں وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف خود ہسپتال میں موجود رہے۔

وفاقی حکومت کے اہم وزیر پر اس طرح کے قاتلانہ حملے سے سنسنی پھیل گئی اور پوری سیاسی قیادت کے علاوہ ہر طبقہ فکر کی طرف سے واقع کی مذمت کی گئی۔ سنجیدہ طبقہ فکر کی طرف سے دعائے صحت کے ساتھ یہ بھی باور کرایا گیا کہ سیاست میں تلخی اور جمہوری روایات سے بالا تر دشنام اور الزام تراشی کے بعد ایسے خدشات محسوس کئے جا رہے تھے کہ انتخابات کے دوران کوئی ایسی گڑبڑ نہ ہو، لیکن یہاں تو خود حفاظتی محکموں کے ذمہ دار وزیر کو ہی نشانہ بنا دیا گیا اور اسی حوالے سے سوالات بھی کئے جا رہے ہیں اور اب کہا جا رہا ہے کہ امن ضروری ہے اور اس کے لئے کسی کو اخلاقی حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اب بھی مروجہ اخلاقی اور معاشرتی طریقہ اختیار کیا جائے۔ تمام سٹیک ہولڈر جماعتوں کے نمائندہ حضرات پر مشتمل اجلاس بلا کر باقاعدہ ضابطہ اخلاق طے کر کے یہ بھی وعدہ کیا اور عزم دہرایا جائے کہ کسی بھی صورت بد امنی پیدا نہیں ہونے دی جائے گی اس حوالے سے الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق بھی موجود ہے اور سیاسی جماعتوں کی تجاویز اور مشاورت ہی سے مرتب کیا گیا تھا بہتر عمل ان ضابطوں پر عمل درآمد ہی ہے۔

وزیر داخلہ اگرچہ ایک کارنر میٹنگ کے لئے گئے اس کے باوجود سیکیورٹی کا سوال اپنی جگہ ہے اور یہ پوچھا جا رہا ہے کہ ملزم وہاں پستول کیسے لے گیا اور اسے چیک کیوں نہیں کیا جا سکا، علاوہ ازیں ملزم نے خود کو ایک مذہبی جماعت سے منسلک قرار دیا اور انتخابی حلف نامے والے تنازعہ کی بناء پر گولی مارنے کا اعتراف کیا ہے۔ تاہم متعلقہ مذہبی جماعت نے فوری تردید جاری کر دی اور کہہ دیا کہ ملزم کا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور جماعت پر امن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ بہر حال مطالبہ یہی کیا جا رہا ہے کہ اس حملے کی تفتیش عرق ریزی سے کی جائے اور تشدد کے رجحان پر قابو پانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ اسی طرح حفاظتی انتظامات بھی بہتر بنائے جائیں۔

اتوار کا دن یوں بھی سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک معروف اور سرگرم دن تھا کہ اس روز کراچی سے مانسہرہ تک جلسے کئے گئے لاہور میں پیپلزپارٹی نے اپنے وجود کا احساس دلایا پرانے جیالے اور ٹکٹ ہولڈر امجد جٹ کے ڈیرے (ٹھوکر نیاز بیگ) پر رکنیت سازی کیمپ لگایا گیا تھا پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو معائنہ کی دعوت دی گئی، وہ اسلام آباد میں تھے۔ موسم خراب ہونے کی وجہ سے وہ جہاز سے نہ آ سکے تاہم انہوں نے التوا پسند نہیں کیا اور موٹر وے سے چلے آئے۔ یہاں رکن سازی کیمپ باقاعدہ جلسہ گاہ میں تبدیل ہو گیا اور بہت لوگ آگئے حتیٰ کہ ارد گرد کی چھتوں پر بھی خواتین اور مرد جمع ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے یہاں آ کر خطاب کیا اور سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر فقرے کسے۔ خلائی مخلوق کے حوالے سے انہوں نے فقرہ دہرایا کہ میاں صاحب! راکٹ لیں اور خلاء میں جا کر خلائی مخلوق کا مقابلہ کریں۔ انہوں نے ہر دو حضرات کے لئے کہا کہ دونوں اقتدار کے لئے لڑ رہے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی عوامی جماعت ہے اور عوام کے حقوق کی جدوجہد کر رہی ہے۔

اس اجتماع سے ایک بار پھر یہ اندازہ ہوا کہ بلاول بھٹو میں کشش محسوس کی جا رہی ہے۔ تاہم ضروری ہے کہ ان کو اپنے طور پر مہم چلانے دی جائے دریں اثناء یہ بھی اطلاع ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے حالات کے تحت اپنے اعلان کردہ دونوں جلسے ملتوی کر دیئے ہیں۔ 13 مئی کو سبزہ زار اور 15 مئی کو کوٹ لکھپت میں جلسہ تجویز تھا تاہم 13 کو ایم ایم اے کے مجوزہ جلسہ اور حالات کے پیش نظر یہ جلسے موخر کئے گئے ہیں۔

متحدہ مجلس عمل نے قیام نو کے بعد سے رابطہ مہم شروع کر رکھی ہے اس سلسلے میں 13 مئی کو مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان کیا جا چکا ہے اور مولانا فضل الرحمن نے دعویٰ کیا کہ یہ جلسہ تاریخ ساز ہوگا اور عمران کے جلسے سے کئی گنا بڑا ہوگا۔

لاہور یوں بھی ان دنوں مطالبات والوں کی زد میں ہے اور روزانہ مظاہرے ہو رہے ہیں۔ عوامی رکشا یونین والوں نے اپنے مطالبات پر زور دینے کے لئے اتوار ہی کو پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا اس سے شہریوں کو پریشانی ہوئی کہ ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی تھی۔

مزید : ایڈیشن 1