دشنام طرازی نے ایسا ماحول پیدا کیا، سنبھالا نہ گیا تو انتخابات میں مشکل ہوگی

دشنام طرازی نے ایسا ماحول پیدا کیا، سنبھالا نہ گیا تو انتخابات میں مشکل ہوگی

وزیرداخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کی ہر جانب سے مذمت کی جارہی ہے قومی اسمبلی کے جاری اجلاس کے دوران پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تقریباً سبھی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اراکین پارلیمنٹ نے وزیرداخلہ احسن اقبال پر حملے کوانتہائی سنگین اور بزدلانہ حرکت قراردیاہے،ن لیگ کے رہنما لیفٹیننٹ جنرل (ر)سینیٹر عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں کا ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلانے کی وجہ سے معاشرہ انتشار کا شکار ہو رہا ہے ، احسن اقبال پر حملہ اس کی واضح مثال ہے ۔ اے این پی کے رہنما اوررکن قومی اسمبلی غلام احمد بلور نے نیشنل ایکشن پلان پر صحیح معنوں پر عملدر آمد د نہ ہو نے پراظہارافسوس کیاانکا کہنا تھا وزیر داخلہ پر حملہ ایک شخص کا نہیں خفیہ قوتوں کا کام ہے جن کو سامنے لیکر آنا ہوگا ایسے واقعات کا آئندہ الیکشن پر برا اثر پڑے گاَ۔ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے کہا اگر ملک کے اندر انتہا پسندی اور دہشت گردی جاری ہے تو نیشنل ایکشن پلان کا ازسرنو جائزہ لینا پڑے گا ۔مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی میاں عبدالمنان نے کہا (ن) لیگ کے رہنماؤں کی سیکیورٹی کم کرنیکا حکم دینا اور وزیرداخلہ پر فائرنگ ہونا ایک ہی سازش ہے، ملک کے وزیرداخلہ پر دوگولیاں برسائی گئیں لیکن کوئی ٹس سے مس نہیں ہوا۔ مسلم لیگ (ن) کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے ، سینیٹ میں قائد ایوان راجہ محمد ظفرالحق کاکہناتھا کہ ملک میں عدم برداشت کے کلچر کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے اور انتہا پسندرویوں کے ذریعے سیاسی عمل کو نقصان نہ پہنچایا جائے ۔ تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ بروقت انتخابات اور جمہوری عمل کے تسلسل کیلئے سیاسی ماحول کا ساز گار ہونا ضروری ہے ۔وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا لوگوں کو حقیقی طور پر ووٹ ڈالنے کی اجازت ہونی چاہئے‘ وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملہ افسوسناک ہے‘ احسن اقبال مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والا پاکستان کا بیٹا ہے ‘ جس ملک کا وزیر داخلہ زخمی ہوجائے اس ملک کا کیا امیج ہوگا ،پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر سسی پلیجوکاکہناتھا کہ نگران حکومت کوالیکشن کے موقع پر ملک بھر میں امن قائم رکھنا ایک چیلنج ہوگا ، مذہبی انتہا پسندی ہمارے معاشرے کا ایک المیہ بن چکا ہے جس کے تدارک کیلئے حکومت نے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے، احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں ، ایسے واقعات قومی اور بین الاقوامی سطح پر اچھا تاثر نہیں جاتا۔

سینٹ اجلاس میں پیرکے روز آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث کاسلسلہ جاری ہے اپوزیشن نے حکومت کوآڑے ہاتھوں لیا،دوران اجلاس اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے دکھاوے کا بجٹ قرار دیاہے ، بجٹ گورکھ دھندے کے سوا کچھ نہیں جس میں امیروں اور سرمایہ کاروں کیلئے مراعات جبکہ غریب عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار کی گئی ہے،پیٹرول بم کے بعد اب باری دیکر مہنگائی بموں کی ہے ، تعلیم ، صحت ، روزگار کیلئے کچھ نہیں رکھا گیا، ملک قرضے لیکر چلایا جارہا ہے، حکومت جاتے جاتے آنے والی حکومت کے ہاتھ باندھ رہی ہے، امیگریشن سیکم کے تحت کالے دھن کو سفید کرنے کا کہا جارہا ہے، حکومت عوامی مینڈیٹ کھوچکی ہے۔ سینٹر کلثوم پروین نے بجٹ پیش پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے ملک میں روزمرہ کی اشیاء کی قمیتں بڑھی ہیں، حکومت کی جانب سے ایمنسٹی سکیم اس لئے منظور کی گئی تھی ۔ملک میں بجٹ آئے گا اور کاروبار پھیلے گا مگر اس سکیم پر سپریم کورٹ نے تحفظات کا اظہار کر دیا ہے ، تحریک انصاف کے سینیٹر محسن عزیز کاکہناتھا کہ بجٹ میں حکومت نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے ، بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندا ہے جس میں اعداد کی جادو گری دکھائی گئی ہے ملکی ذخائر میں گیس کی 7فیصد کمی ہوچکی ہے ،بجلی بھی نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں لوڈشیڈنگ شروع ہو چکی ہے ۔ لیگی سینٹر نزہت صادق نے سینٹ تقریر کی۔ موبائل خریدنے پر ڈیوٹی زیادہ لگائی گئی۔ جو عام آدمی کیلئے تھا جبکہ بجٹ میں دفاع کیلئے پیسے زیادہ بڑھائے گئے۔ 70سالوں میں ایک جیسا بجٹ پیش کیا جارہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیرداخلہ سینٹر رحمان ملک نے بجٹ سیشن میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نااہل لوگوں نے بجٹ پیش کیا ہے۔ پہلے لوگ خوش ہوئے تھے کہ بجٹ پیش ہورہا ہے، کچھ ملے گا، اب لوگ ڈرتے ہیں حکومت ٹیکس مزید لگائے گی۔ مہنگائی بڑھے گی،تاکہ ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرسکے۔ حکومت نے آئی ایم کو 89بلین اور سی پیک سے 63بلین قرضہ لیا ہے۔ اب آئی ایم ایف اور سی پیک پر سود دینا ہے۔ ایوان بالا میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان نے شکیل آفریدی کے معاملے پر حکومت کی طرف سے جواب نہ دینے کے خلاف اجلاس سے واک آؤٹ کیا جبکہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر عثمان خان کاکڑنے راؤ انوار کے ساتھ وی آئی پی سلوک پر بجٹ تقریر کے بعد ایوان سے واک آؤٹ کرگئے ،سینیٹر عثمان کاکڑ نے چیف جسٹس سے سیاستدانوں سے سیکیورٹی واپس لینے کے حکم پر نظرثانی کا بھی مطالبہ کیا۔

سینیٹ نے متفقہ طور پر قرارد پاس کرلی جس میں حالیہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت اور افواج کی طرف سے معصوم شہریوں پر جاری بربریت کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عالمی برادری اپنی بے حسی اور خاموشی کو توڑے اور بھارتی افواج کی طرف سے جاری ظلم و بربریت اور مارائے عدالت گمشدگیوں ، قتل عام اور نہتے کشمیریوں پر ہونیوالے مسلسل تشدد کا نوٹس لیں اور اس کا واضح حل نکالیں۔

احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن (ر)صفدر کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت ہوئی،نیب کے تفتیشی افسر عمران ڈوگر پر مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے وکیل امجد پرویز نے جرح مکمل کرلی، دوران جرح وکیل صفائی امجد پرویزنے گواہ سے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے متعلق بھی سوال پوچھ لیا جبکہ نیب کے پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے وکیل صفائی کے سوالات پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ امجد پرویز ایڈووکیٹ نے شرجیل میمن کیس کا رجسٹر کھول لیا ہے سابق وزیراعظم نواز شریف احتساب عدالت میں پیش ہوئے اور کچھ دیر بعد انہیں جانے کی اجازت دے دی گئی، جبکہ مریم نواز اور کیپٹن (ر)صفدر کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔بعدازاں احتساب عدالت کے باہرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نوازشریف کاکہنا تھا کہ وزیرداخلہ پر حملہ معمولی بات نہیں، یہاں تک نوبت پہنچنا تشویشناک ہے، جب لوگوں کو ہزار ہزار روپے تقسیم کیے جائیں گے تو یہی ہوگا، قوم جاننا چاہتی ہے کہ ہزار ہزار روپیہ کیوں دیا گیا۔ ہمیں ججز کی تعیناتی کا طریقہ کار درست کرنا ہوگا، سپریم جوڈیشل کونسل کے طریقہ کار کو بھی بدلنا ہوگا اور پارلیمنٹ کو اس حوالے سے موثر کردار ادا کرنا چاہیے اس ملک میں احتساب صرف سیاست دانوں کا ہوتا ہے تاہم الیکشن میں کامیابی کے بعد نیا نظام ضرور لائینگے، ہمارے لوگوں کو توڑنے کیلئے اپروچ کیا گیا تاہم ڈرانے، دھمکانے اور نیب میں کیسز چلانے کے باوجود مخلص لوگوں نے وفاداریاں نہیں بدلیں۔ جنہوں نے لوٹ مار کی وہ آرام سے سو رہے ہیں میں 62 ویں مرتبہ عدالت میں پیش ہوا ہوں روز میرے متعلق خبر آتی ہے کہ اڈیالہ جیل کی صفائیاں ہورہی ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1