جماعت اسلامی کی علیحدگی سے پرویز خٹک اکثریت کھو بیٹھے،وزیر اعلیٰ اور سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش

جماعت اسلامی کی علیحدگی سے پرویز خٹک اکثریت کھو بیٹھے،وزیر اعلیٰ اور سپیکر ...

خیبر پختونخوا حکومت کی اہم اتحادی پارٹی جماعت اسلامی اختتام حکومت سے صرف 25روز پہلے اقتدار سے الگ ہو گئی جماعت اسلامی کی حکومت سے علیحدگی کیلئے بھی ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے سرکردہ رہنماں کے علاوہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک بھی موجود تھے اس دوران پریس کانفرنس کرتے ہوئے دونوں پارٹیوں نے اپنی راہیں الگ کرنے مگر الگ ہونے کے باوجود ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا اعلان کیا جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے چہرے بتا رہے تھے کہ وہ اقتدار چھوڑنے کیلئے بخوشی آمادہ نہیں تھے بلکہ بہ امر مجبوری الگ ہو رہے ہیں59ماہ5روز تک اقتدار کے مزے لوٹنے والے ابھی مزید چند روز حکومت کے ساتھ چمٹا رہنا چاہتے تھے پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے ساتھ پر جوش طریقے سے ہاتھ ملا کر رخصت لی اور واپس روانہ ہو گئے دلچسپ بات یہ ہے کہ محض دو ہفتے قبل دونوں پارٹیوں کی طرف سے آگ اگلی بیانات داغے گئے اور ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگائے گئے مگر بیک ڈور ڈپلومیسی کے نتیجے میں اچانک سیز فائر ہو گیا اور پھر رخصت کے وقت ایک دوسرے کے حق میں قصیدہ خوانی کی گئی اس قصیدہ خوانی میں جماعت اسلامی نے عندیہ دیا کہ وہ حزب اختلاف کی بات سننے کیلئے تیار نہیں جماعت اسلامی کے اس رویے سے ساتھ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اقتدار کے ساتھ کس قدر والہانہ محبت کرتی ہے جماعت اسلامی کے اس دہرے معیار نے سابق امیر مرحوم قاضی حسین احمد کی نظریاتی سیاست کو دفن کر دیا جماعت اسلامی کا یہ انداز سیاست کارکنوں کی سوچ پر منفی ا ثر ڈال سکتا ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اپنی پارٹی کیلئے آصف علی زرداری ثابت ہو جائیں ۔

بہر حال جماعت اسلامی کی حکومت سے علیحدگی کے بعد وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اسمبلی میں اپنی عددی اکثریت کھو بیٹھے ہیں یہاں تک کہ تحریک انصاف حکومت کی طرف سے 14مئی کو آخری بجٹ پیش کئے جانے کا معاملہ بھی مشکوک ہو گیا ہے مسئلہ صرف بجٹ پیش کرنے کا ہی نہیں بلکہ بجٹ کو اسمبلی سے پاس کرانا بھی ضروری ہے جس کیلئے حکومتی ارکان کی اکثریت لازمی ہوتی ہے ایسے حالات میں جب پارٹی کے ارکان کی اکثریت بھی اپنی حکومت سے ناراض ہے اوپر سے جماعت اسلامی بھی الگ ہو گئی یوں اب تحریک انصاف آئینی اور اخلاقی طور پر حکمرانی کا حق کھو بیٹھی ہے اس دوران عوامی نیشنل پارٹی سمیت ناراض ارکان نے گورنر کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کواعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کریں دوسری طرف پیپلز پارٹی میں حال ہی میں شمولیت اختیارکرنے والے ضیاء اللہ آفریدی سمیت بعض ارکان نے اسمبلی سیکرٹیریٹ میں سپیکر اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی پیپلز پارٹی نے مفاہمتی پالیسی اپناتے ہوئے اس تحریک اعتماد سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ضیاء اللہ آفریدی کاذاتی ہو سکتا ہے پارٹی پالیسی نہیں ہے وزیر اعلیٰ اور سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے باوجود گورنر اقبال ظفر جھگڑا اسمبلی اجلاس بلانے میں لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں بہر حال ان سطور کی اشاعت کے بعد حکومت کا سورج غروب ہونے میں18دن باقی رہ جائینگے اب دیکھنا یہ ہو گا کہ تحریک انصاف کی حکومت اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعفی ہوتی ہے یا اپنی ضد پر اڑی رہتی ہے تحریک انصاف کی حکومت کیلئے آخری بجٹ پیش اور منظور کرانا ایک بہت بڑا چیلنج ہے جو کہ بظاہر نا ممکن لگتا ہے مگر ہو سکتا ہے کہ حکومت اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے جاتے جاتے ہارس ٹریڈنگ کرلے ہارس ٹریڈنگ کیلئے جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی بھی پارٹی تیار نظر نہیں آتی تاہم پیپلز پارٹی حسب روایت مفاہمت اور جمہوریت کے نام پر بظاہر مخالفت اور درپردہ حکومت کی حمایت کر سکتی ہے آنے والے ہفتے میں تمام معاملات اور حالات کھل کر سامنے آ جائیں گے۔

ادھر وزیراعظم شاھد خاقان عباسی نے اصلاحات پر اسی ماہ عملدارامدکرانے کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت اکتوبر سے پہلے فاٹا میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے جبکہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا ٹائم فریم قومی رہنماؤں کی مشاورت سے طے کیا جائے گا حکومتی مدت ختم ہونے سے پہلے فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کر لیا جائے گا ایجنسی ڈویلپمنٹ فنڈ ختم کر دیا گیا اعلٰی عدالتوں کا دائرہ اختیار پہلے ہی فاٹا تک بڑھایا جا چکا ہے وزیر اعظم کے اس اعلان پر اسکے سب سے اھم اتحادی جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان کی طرف سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی نے فاٹا کے انضمام کی ہمیشہ مخالفت کرتے ہوئے اسے الگ صوبہ بنانے پر زور دیا ہے ان کی اس مخالفت کی وجہ سے فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد میں تا خیر ہوتی رہی وہ اب بھی بضد ہیں مگر اب اچانک وزیر اعظم کی طرف سے اعلان اور بقیہ دونوں ضدی بچوں کی خاموشی سے ظاہر ہوتا ہے کہ برداشت کرنے والی قوتوں نے اب مزید عدم برداشت کا اشارہ دیا ہے جسے نا چاہتے ہوئے بھی جڑواں بھائیوں نے خاموشی سے سہہ لیا ہے وزیر اعظم کے اس اعلان کے بعد فاٹا میں عوامی سطح پر سیاسی سرگرمیوں کا آغاز ہو گیا ہے وہاں کے عوام پہلی مرتبہ باقائدہ سیاست میں داخل ہونے کے لئے خاصے پر جوش ہیں پاکستان مسلم لیگ ن ایٹمی دھماکوں کی طرح فاٹا کے انضمام کا کریڈٹ بھی اپنے کھاتے میں ڈالنا چاہتی ہے حالانکہ یہ بات واضح ہے کہ فاٹا کا انضمام سرے سے سیاسی پارٹیوں کا ایجنڈا کبھی بھی نہیں رہا۔

مزید : ایڈیشن 1