یوسف رضا گیلانی نے موجودہ حالات کا ذمہ دار مسلم لیگ(ن) کو قرار دیا کہ میثاق جمہوریت پر عمل نہیں کیا

یوسف رضا گیلانی نے موجودہ حالات کا ذمہ دار مسلم لیگ(ن) کو قرار دیا کہ میثاق ...

سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے مرکزی وائس چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی نے ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ ن پر ’’میثاق جمہوریت‘‘ پر عملدرآمد نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے موجودہ سیاسی حالات کو اس کی وجہ قرار دے دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اگر ن لیگ ’’میثاق جمہوریت پر عمل کرتی رہتی تو یہ حالات نہ دیکھنے پڑتے پارلیمنٹ کی یوں بے توقیری نہ ہوتی اور حالات یکسر مختلف ہوتے تاہم انہوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ ’’میثاق جمہوریت‘‘ مخصوص ملکی حالات کی وجہ سے ہوا تھا جس کا مقصد سیاسی معاملات آپس میں مل بیٹھ کر اور پارلیمنٹ کے اندر حل کرنا تھا۔یہی وجہ تھی کہ پیپلز پارٹی نے کبھی اداروں کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا بلکہ ہم نے افہام و تفہیم کی سیاست کو فروغ دینے کی کوشش کی جمہوریت کی بقاء کیلئے ترامیم کر کے 1973کے آئین کو اصل شکل میں بحال کیا انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی بانی ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے سرائیکی خطے کی محرومیوں کیلئے جدوجہد کر رہی ہے بے نظیر بھٹو کے دور میں بھی اس پر کام ہوا اور میری وزارت عظمیٰ کے دوران سینٹ میں دو تہائی اکثریت کے علیحدہ صوبہ کا بل پاس ہوا انہوں نے جنوبی پنجاب صوبہ بناؤ محاذ کیلئے کام کرنے والوں کو ’’اپنا‘‘ قرار دیا اب سابق وزیراعظم کی یہ بات کس حد تک درست ہے یہ تو ’’محاذ‘‘ بنانے والے خود ہی بتا سکتے ہیں اور انہوں نے علیحدہ سرائیکی صوبہ کے قیام کیلئے کیا کچھ کیا کہ جس کا نتیجہ آج تک سامنے نہیں آ سکا حالانکہ ان کے دور میں معروف اٹھارویں ترمیم بھی اکثریت کے ساتھ منظور ہوئی جس میں صوبوں کو خود مختاری دی گئی اور کئی دوسرے معاملات شامل تھے حالانکہ اس ترمیم پر تحفظات بھی تھے لیکن پیپلز پارٹی یہ کر گزری اور اب وہ ایک مرتبہ پھر عام انتخابات سے پہلے سرائیکی صوبے کے قیام کیلئے سیاسی نعروں تک متحرک نظر آئی ہے۔ تاہم ایک بات انہوں نے بڑی اہم کی کہ عام انتخابات وقت پر ہوں گے او رپیپلز پارٹی کسی بھی جماعت سے سیاسی اتحاد نہیں کرے گی۔ اگر یہ وہ کہہ رہے ہیں تو درست ہو گی ورنہ سینٹ کے الیکشن میں جو کچھ ہوا اس سے تو اس بات پر خدشات ہی سامنے آ سکتے ہیں ۔

ادھر پنجاب کی تقسیم اور الگ صوبے کے قیام کے حوالے سے پنجاب کی ن لیگی حکومت ایک مرتبہ پھر پرانے جال کے ساتھ متحرک ہو گئی ہے جس میں پہلا تو یہ کہ فوری طور پر جنوبی پنجاب کو انتظامی طور پر ایک الگ انتظامی سیکرٹریٹ بنا کر کام شروع کر دیا جائے جس کیلئے ایک ایڈیشنل چیف سیکرٹری ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس اور مختلف محکموں سیکرٹری یا ایڈیشنل سیکرٹری یہاں تعینات کر دئیے جائیں جبکہ شنید یہ بھی ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں جنوبی پنجاب کا 20فیصد نوکریوں کا کوٹہ بھی بحال کر دیا گیا ہے لیکن اس پر بھی سیاسی و قوم پرست رہنماؤں کے تحفظات ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی حکومت انتظامی یونٹ کا جھانسہ گزشتہ چار سال سے دے رہی ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا اس حوالے سے معروف سیاستدان اور مسلم لیگ ن کے سابق قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اس خطے میں الگ صوبے کو ہی مسائل کا حل قرار دیا ہے۔جبکہ انتظامی یونٹ کو محض لالی پوپ قرار دیا ہے انہوں نے زور دیا کہ انتظامی یونٹ کی بجائے خود مختار صوبہ بنایا جائے انہوں نے نواب آف بہاولپور صلاح الدین عباسی اور سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہر انتخابات کے موقعہ پر بہاولپور صوبہ یاد آ جاتا ہے پھر نہ ہمارا صوبہ بننے دیتے ہیں او رنہ ہی اپنا صوبہ بحال کروا سکتے ہیں مخدوم جاوید ہاشمی نے نیب پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ایک فراڈ ڈرامہ قرار دیا ہے جس کا مقصد مسلم لیگ ن کو ختم کرنا ہے اس کے 70فیصد سٹاف ریٹائرڈ فوجی ہیں جن کو دوبارہ پر کشش نوکریاں دی جاتی ہیں انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کو بھی عدلیہ کے آڈٹ کا مشورہ دیا اور مطالبہ کیا کہ احتساب کے مصنوعی نظام کو درست کیا جائے ملک کے ایٹمی اثاثوں کو امریکہ سے خطرہ ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ فوج بیرکوں میں واپس جائے انہوں نے ملتان سے قومی اسمبلی کے دو حلقوں این اے 155اور این اے 158 سے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان بھی کیا۔ دوسری طرف نواب آف بہاولپور صلاح الدین عباسی نے سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی اور طارق چیمہ سمیت دوسرے سیاسی رہنماؤں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں حکومت کو صوبہ بہاولپور کی بحالی کے لئے 30مئی تک کی ڈیڈ لائین دے دی ،ورنہ احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان بھی کیا ہے کہ اگر حکومتی مدت ختم ہونے سے پہلے صوبے کی اسمبلی کا اعلان نہ ہوا تو اس کے خلاف مہم شروع کی جائے گی ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ صوبہ بحالی کا عمل محض تین دن میں ممکن ہے حکمرانوں نے ہمارے ساتھ کئے وعدے پورے نہیں کئے اب بہاولپور کے عوام اپنا الگ صوبہ چاہتے ہیں کیونکہ یہ قائداعظم محمد علی جناح کا وعدہ تھا اس فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے خطہ بہاولپور کے عوام کو پہچان واپس کی جائے یہ اس خطے کا آئینی قانونی اور تاریخی حق ہے اگر 30مئی سے پہلے اس پر عملدرآمد نہ ہوا تو گلی کوچوں میں مسلم لیگ ن کے خلاف مزاحمتی تحریک شروع کی جائے گی انہوں نے جنوبی پنجاب صوبہ میں بہاولپور کی شمولیت پر نہ صرف اپنے بلکہ عوام کے تحفظات کا بھی اظہار کیا اور الگ انتظامی یونٹ کے قیام پر بھی سخت تنقید کی تنقید تو ان کے علاوہ دوسرے سیاسی رہنماء بھی کر رہے ہیں جنہوں نے الگ انتظامی یونٹ اور 20فیصد نوکریوں کے کوٹے کو انتخابی سٹنٹ قرار دیا اور الگ صوبے کے قیام کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا اب اس پر جانے والی حکومت کیا کر سکتی ہے یہ تو آئے والا وقت ہی بتائے گا لیکن بظاہر یہی نظر آ رہا ہے اس وقت جو تمام سیاسی واقعات نمودار ہو رہے ہیں اس قسم کی ’’فلم 2013ء کے انتخابات کے قبل بھی دیکھنے کی ملی تھی لیکن وہ بھی فلاب ہو گئی تھی اور اب یہ بھی فلاپ ہی ہوتی نظر آ رہی ہے کیونکہ ’’محاذ‘‘ والے خود انتخابات میں حصہ لینے کیلئے کسی ’’سایہ دار‘‘ کی تلاش میں ہیں جو کسی بھی طور پر نا کامی نہیں بلکہ کامیاب ہوئی پارلیمنٹ تک جانا چاہتے ہیں کیونہ ان کا اول آخر گول یہی ہے۔اب ایسی صورت میں بہتری کی کیا توقع ہو گی یہ تو واضع نظر آ رہا ہے ۔

تحریک انصاف کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود حسین قریشی نے میاں نواز شریف کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اداروں پر تنقید کی بجائے اپنی اصلاح کریں اپنے ہی وزیراعظم سے کہہ دیں کہ ان قوتوں کے بارے میں اظہار فرمائیں جن سے ان کو خطرہ یا خدشہ ہے لگتا ہے خاقان عباسی ابھی تک اپنے آپ کو وزیراعظم نہیں سمجھتے دوسری طرف سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں میں خطاب کیے اور ان میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے قائدین پر بھرپور تنقید کی کہ وہ قوم سے مذاق کر رہی ہے ہمارے سامنے عمران خان اور آصف علی زرداری کوئی شے نہیں، ہمارا مقابلہ کسی اور سے ہے اس لئے جنوبی پنجاب کا دل ہمارے ساتھ جاگ رہا ہے اب یہ بات کہاں تک درست ہے اس کا فیصلہ تو آئندہ انتخابات میں ہو گا لیکن ادھر جنوبی پنجاب میں گندم کے کاشتکار جو پریشان حال ہیں اس پر حکومت پنجاب فوری طور پر کوئی قدم نہیں اٹھا رہی بلکہ گندم خریداری کے ہدف میں 25فیصد کمی کر دی ہے اور اس کا بہانہ یہ بنایا جا رہا ہے کہ بار دانہ میسر نہیں ہے جو کاشتکاروں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے جنوبی پنجاب کا شتکار پہلے شوگر ملز مافیا کے ہاتھوں لٹ چکا تو اب پنجاب حکومت انہیں گندم نہ خرید کر برباد کرنے پر تلی ہوئی ہے کیونکہ اس وقت موسم کی تبدیلی جھکڑ آندھی اور بارش سے کسان گندم سنبھال ہی نہیں پا رہے ایسے میں وہ حکومت پنجاب کے مثبت جواب کے منتظر ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1