جدید علوم کا اردو زبان میں ترجمہ ہونا وقت کی ضرورت ہے : ڈاکٹر نظام الدین

جدید علوم کا اردو زبان میں ترجمہ ہونا وقت کی ضرورت ہے : ڈاکٹر نظام الدین

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)چیئرمین پنجا ب ہائیر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر محمد نظام الدین نے کہا ہے کہ جدید علوم کا اردو میں زبان میں ترجمہ کرانا وقت کی ضرورت ہے کیونکہ جو قومیں ترقی کر رہی ہیں وہ اپنی زبانوں میں سائنسی علوم کا ترجمہ کرکے ترقی کر رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج کے شیرانی ہال (اولڈ کیمپس )میں منعقدہ تیسرے جلسۂ عطائے اسناد میں کیا۔اس موقع پروائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ناصرہ جبیں ، ڈین فیکلٹی آف اورینٹل لرننگ پروفیسر ڈاکٹر سلیم مظہر ،رجسٹرار ڈاکٹر محمد خالد خان، پرنسپل کالج پروفیسر ڈاکٹر فخر الحق نوری ، سینئر فیکلٹی ممبران اور طلباؤ طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب سے خطاب کر تے ہوئے چئیرمین پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر محمد نظام الدین نے کہا کہ چین، ترکی ، ایران اور کوریا کے تعلیمی اداروں میں ذریعہ تعلیم ان کی قومی زبانیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایران میں ہر ماہ 7400تراجم کرائے جاتے ہیں تاکہ اپنی زبان میں تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعلیم کے معیار کو بہتر کرنے کے لئے تراجم کرنے والے اداروں کو مزید موثر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن اعلیٰ تعلیمی اداروں کی طرف سے ایسی سرگرمیوں کیلئے تعاون جاری رکھے گا۔اپنے خطاب میں وائس چانسلر ڈاکٹر ناصرہ جبیں نے کہا کہ مشرقی اور مغربی اقدار میں توازن کیلئے جدید اور روایتی دونوں انداز میں طریقہ تعلیم کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادب بہترین انسان پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان ملک کا مستقبل اور قیمتی اثاثہ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ قوم اپنے ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے نوجوانوں سے بہت پر امید ہے۔

انہوں نے گرایجوئیٹس کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگیوں میں کالج میں سیکھے گئے اقدار کا خیال رکھیں گے، ملک کے ساتھ وفادار رہتے ہوئے کبھی بھی منفی سیاست کا حصہ نہیں بنیں گے۔ تقریب میں 2015اور 2016سیشن کے اردو ، عربی، فارسی، پنجابی اور کشمیریات ماسٹرز ڈگری پروگرام کے 194اور 5ایم فل کے طلبہ میں ڈگریاں تقسیم کی گئیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 4