فیکٹریوں کی گیسوں سے فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا،پروفیسر شاہد ثمینی

فیکٹریوں کی گیسوں سے فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا،پروفیسر شاہد ...

لاہور(حافظ عمران انور) دنیا بھر میں صنعتی ترقی کے جہاں بنی نوع انسان کو بہت سے فوائد ملے ہیں وہاں فیکٹریوں اور صنعتی اداروں کی جانب سے چھوڑی جانے والی گیسوں کی وجہ سے فضائی آلودگی میں بے تحاشہ اضافہ ہو اہے اور ان زہریلی گیسوں کے اخراج کی وجہ سے سورج کی الٹرا وائلٹ شعاؤں سے زمین کو محفوظ رکھنے والی اوزون کہ تہہ کو کافی حد تک نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں موسمیاتی تغیرات ظہور پذیر ہوئے ہیں اور اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے دنیا بھر میں گلوبل وارمنگ جس سطح پر پہنچ چکی ہے اس کی وجہ سے مستقبل قریب میں گرمی میں شدت دیکھنے کو ملے گی اور موسنم گرما طویل ہونے کا خدشہ ہے۔ان خیالات کا اظہار پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ جیالوجی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر شاہد ثمینی نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ موسمی تغیرات ایک تو اوزون کی تہہ میں شگاف پڑنے کی وجہ سے ہیں اور دوسرا پاکستان میں پری مون سون ذرا جلدی آرہا ہے جس کی وجہ سے یہاں بارشیں کھل کر نہیں ہو پا رہیں ۔اس کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں گلیشیئرز اپنی حدود سے جتنا آگے بڑھے تھے وہ اپنی حدود میں واپس آ رہے ہیں جس کی وجہ سے پوری دنیا اور پاکستان میں بھی اس کا اثر ہو ہے ۔1960 کی دہائی میں پاکستان میں گلیشئرز کی جو پیمائش کی گئی تھی اس وقت ان کی چوڑائی میں بہت حد تک اضافہ ہو اتھا ان میں اب کمی آئی ہے اور ہمارے پاکستان میں گلیشئرز بہت زیادہ پگھلے ہیں اور ابھی تک پگھل رہے ہیں ۔دوران گفتگو انہوں نے کہا کہ دوسرے ترقی یافتہ ملکوں میں صنعتی ٹاکسک گیسوں کو جس طرح ٹریٹمنٹ کے مراحل سے گزارا جارتا ہے اس سے اوزون کی تہہ کو بہت کم نقصان پہنچتا ہے لیکن ہمارے ہاں صنعتی گفیسوں کو ٹریٹ کرنے کے بغیر ہی چھوڑ دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے فضائی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور اس سے اوزون کی تہہ کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔۔دنیا کے بیشتر ممالک میں اپریل کے مہینے میں ٹمپریچر 46سے 48تک نہیں جاتا لیکن ہمارے ہاں ٹمپریچر 48تک جاتا ہے۔

آلودگی

مزید : میٹروپولیٹن 1