قانون کی حکمرانی کیلئے ججو ں ، جرنیلوں سمیت تمام طبقات کا احتساب ہونا چاہئے : فرحت اللہ بابر

قانون کی حکمرانی کیلئے ججو ں ، جرنیلوں سمیت تمام طبقات کا احتساب ہونا چاہئے : ...

کراچی (این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور معروف پالیمنٹرین فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ جب تک ملک میں جج ، جنرل سمیت تمام طبقات کا یکسر احتساب نہیں ہوگا، قانون کی حکمرانی نہیں ہو سکتی۔ ریاست کے اندر ریاست قائم کردی گئی ہے، کشمیر پر ہمارے اصولی موقف کے باوجود ہمیں بھارت سمیت تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے ہونگے، پڑوسی کے ساتھ بہتر تعلقات کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں منگل کے روزپاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبراینڈ ریسرچ کی جانب سے دو روزہ ملک گیر قومی کانفرنس برائے انسانی و لیبر حقوق اور ان پر عمل درآمد کی صورتحال سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کے کئی سیشن منعقد کیے گئے جس سے ملک بھر سے آئے مزدور رہنما، انسانی حقوق پر کام کرنے والے رہنمااور سول سواسائٹی کے عمائدین اور اکابرین نے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں فرحت اللہ بابر نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنے انتخابی منشور میں انسانی حقوق کا ایک چیپٹر ضرور شامل کرلیں۔ انسانی حقوق کے معروف سماجی رہنما آئی اے رحمان نے ملک میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں منصفانہ سما عت کے لیے موجودہ قوانین ناکافی ہیں، بنیادی حقوق کے لیے بھی ہمیں مزید قانون سازی کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے حقوق کے لیے جاندار اور مضبوط آواز اٹھانے کی ضرورت ہے ، پائلر کے ڈائریکٹر کرامت علی نے محنت کشوں کی ابتر صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ان کا کہنا تھاکہ قیام پاکستان کے وقت جو محنت کشوں کو حقوق حاصل تھے اب ان کا دس فیصد بھی حاصل نہیں ہے۔ پاکستان میں مزدوروں کا صرف ایک فیصد حصہ یونین سازی سے منسلک ہے جبکہ باقی نناوے فیصد شہری یونین سازی کے بنیادی حق سے محروم ہیں۔ سندھ ہومین رائیٹس کمیشن کے چیئرپرسن جسٹس (ر)ماجدہ رضوی نے کہا کہ انسان کی زندگی میں سب سے اہم حق جینے کا حق ہوتا ہے، بدقسمتی سے ہمارے ملک میں معلومات کا حق بھی حاصل نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے کے تمام شعبہ جات میں مساوات نہیں ہے اس لیے حکومت کے اچھے اقدامات پر بھی عمل درآمد نہیں کیا جا سکتا۔چیئرمین نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس جسٹس علی نواز چوہان نے کانفرنس سے خطاب میں کہاکہ جب تک مو ثر طور پر دباو نہیں ڈالا جائے گا ریاست سے حقوق نہیں مل سکتے ہیں۔کنٹری ڈائریکٹر اوپن سوسائٹی فاو نڈیشن ڈاکٹر صبا گل خٹک نے کہا فاٹا اور بلوچستان میں نوجوان سوشل میڈیا پر اپنے حقوق کے لیے مضبوط آواز بلند کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اموات کے معاوضے کی شرح مختلف علاقوں میں مخلتف ہے۔ سول اور فوجی عملداروں کی شرح مختلف ہے، اور ایک صوبے میں ایک ہے تو دوسرے میں دوسری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا میں یہ شرح سب سے کم ہے۔کانفرنس سے معروف قانون دان سروپ اعجاز، چیئرپرسن پنجاب کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن فوزیہ وقار، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان بلوچستان کے جسٹس رظہور شاہوانی، لیبررائٹس کے ماہر افتخار احمد، انٹرنیشنل لیبر فیڈریشن کے سعد گیلانی، پاکستان ورکرز فیڈریشن کے خورشید احمد، فصیح الکریم صدیقی، ، سلطان خان سمیت دیگر رہنماو ں نے بھی خطاب کیا۔

فرحت اللہ بابر

مزید : علاقائی