لاہور ہائیکورٹ: توہین عدالت کی مختلف درخواستوں پر نوٹس جاری

لاہور ہائیکورٹ: توہین عدالت کی مختلف درخواستوں پر نوٹس جاری

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی مختلف درخواستوں پر نوٹس جاری کر دیئے۔ تفصیلات کے مطابق ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی نارووال ملک شہزاد اعوان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔ جسٹس شمس محمود مرزا نے سیف الرحمن سمیت 3شہریوں کی درخواستوں پر سماعت کی ،درخواست گزار وں کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزارڈیٹا انٹری آپریٹرز اور ڈرائیور کے طور پر کام کر رہے ہیں جبکہ محکمہ کی جانب سے ریگولر نہیں کیا جا رہا ہے۔وکیل نے نکتہ اٹھایا کہ عدالت ملازمین کو مستقل کرنے کا حکم دے چکی ہے ،عدالتی کے حکم کے باوجود ریگولر نہیں کیا جا رہاہے ۔دریں اثناء لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین کونسل اف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ ڈاکٹر شہزاد عالم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے ۔جسٹس شاہد کریم نے ڈاکٹر رؤف احمد کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار سائنٹیفک افسر کے طور پر ڈیوٹی کے فرائض سر انجام دے رہا ہے جبکہ درخواست گزار کوسینئرترین ہونے کے باوجود ترقی نہیں دی گئی ہے،درخواست گزار کے وکیل نے نشان دہی کی کہ عدالت نے درخواست گزار کی درخواست دادرسی کے لئے معاملہ چیئرمین کو بھجوا یا تھا،عدالتی حکم کے باوجود درخواست پر فیصلہ نہیں کیا جارہا ،دخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت ڈاکڑ شہزاد عالم کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مزید برآں لاہور ہائی کورٹ نے سیکرٹری فنانس پنجاب حامد یعقوب کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے ۔جسٹس شمس محمود مرزا نے ایڈشنل آئی جی پولیس پنجاب نسیم الزمان کی درخواست پر سماعت کی درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کمانڈنگ نیشنل پولیس اکیڈمی کے طور پر کام کر رہا ہے ، عدالت نے درخواست گزار کو انکریمنٹ دینے کا حکم دیا تھا،درخواست گزارکے وکیل نے عدالت نکتہ اٹھایا کہ عدالتی حکم کے باجود انکریمنٹ نہیں دیا جا رہا ہے۔علاوہ ازیں لاہور ہائی کورٹ نے چیف میٹرو پولیٹن افسر ایل ڈی اے شکیل عباس کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے ۔جسٹس شمس محمود مرزا نے سبحان گارڈن کے متاثرہ ابرار حسین کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سبحان گارڈن میں پلاٹ خریدا تھا لیکن ابھی تک سیوریج سے لے کر کوئی بنیادی سہولت نہیں دی گئی ہے ،عدالت سے رجوع کرنے پر محکمہ کی جانب سے انتقامی کاروائی کرتے ہوئے اس کاپلاٹ کینسل کر دیا گیا ہے جبکہ عدالتی حکم کے باجود سبحان گارڈن انتظامیہ کے خلاف کاروائی نہیں کی جا رہی ہے ۔اسی طرح لاہور ہائیکورٹ نے چیف سیکرٹری پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ زاہد سعید کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے ۔چیف سیکرٹری کے خلاف توہین عدالت درخواستوں کی تعداد 41ہوگئی ہے۔عدالت نے محکمہ ہائر ایجوکیشن کے کلرک کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ محکمہ ہائر ایجوکیشن میں بطور کلرک کے فرائض سر انجام دے رہاتھا کہ محکمہ کی جانب سے غیر حاضری کی بنیاد پر نوکری سے برطرف کردیا گیا ،وکیل نے نکتہ اٹھایا کہ عدالت نے چیف سیکرٹری کو موقف سن کر فیصلہ کرنے کا حکم دیا لیکن عدالتی حکم کی تعمیل نہیں ہوئی رہی ہے ،درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت چیف سیکرٹری کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کرے ۔

توہین عدالت پر نوٹسز

مزید : صفحہ آخر