عدالت کسی رکن پارلیمنٹ کی رکنیت معطل کرنے کا اختیار نہیں رکھتی : رضا ربانی

عدالت کسی رکن پارلیمنٹ کی رکنیت معطل کرنے کا اختیار نہیں رکھتی : رضا ربانی

اسلام آباد (این این آئی)سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق اور سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے سپریم کورٹ کی طرف سے سینیٹر اسحاق ڈار کی رکنیت معطل کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ منگل کو سینیٹ کے اجلاس کے دوران راجہ ظفر الحق نے کہا کہ اسحاق ڈار شدید علیل ہیں اور وہ علالت کی وجہ سے عدالت میں بھی پیش نہیں ہوئے۔ عدالت نے ان کی رکنیت معطل کر دی ہے تاہم ہمیں تفصیلی فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا۔ سابق چیئرمین رضا ربانی نے کہا کہ عدالت کے پاس کسی رکن پارلیمنٹ کی رکنیت معطل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ رکنیت صرف اس صورت میں معطل کی جا سکتی ہے کہ جب کوئی رکن اپنے اثاثوں کے گوشوارے جمع نہ کروائے۔ انہوں نے چیئرمین سے درخواست کی کہ تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد اس معاملے کا جائزہ لیا جائے۔علاوہ ازیں اراکین سینیٹ نے کہا ہے کہ حکومت نے معیشت کو بہتر بنانے ،توانائی بحران کے خاتمے کیلئے مناسب اقدامات کئے ہیں، بجٹ میں اعلان کردہ اقدامات سے چھوٹے صوبوں اور پسماندہ علاقوں کے لوگوں کو بھی فائدہ ہونا چاہئے ،ادارے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں تو ملک میں جمہوریت مضبوط ہوگی اور عوام کے حقوق کا بھی تحفظ ہوگا،بجٹ میں تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبوں کو نظر انداز کیا گیا ہے،فاٹا کیلئے این ایف سی کے مطابق فنڈز فراہم کئے جائیں ،ایل این جی و دیگر منصوبوں کے بارے دعوے حقائق کے مطابق ہیں تو آج تک پارلیمنٹ کو ایل این جی کے معاہدے سے کیوں نہیں آگاہ کیا گیا۔ان خیالات کا اظہار سینیٹ اجلاس میں رانا افضل خان،عثمان کاکڑ، عائشہ رضا فاروق ، مہرتاج روغانی ، اورنگزیب خان ،سینیٹر محمد اکرم ، شیری رحمن، جہانزیب جمالدینی اور دیگر نے کیا۔دریں اثنا اجلاس کے دوران سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئر مین کے لئے راجہ ظفر الحق نے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کا نام چیئرمین کمیٹی کیلئے تجویز کیا جس کی کشو ربھائی نے تائید کی جس کے بعد تمام ارکان نے متفقہ طور پر سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کو چیئرمین کمیٹی منتخب کرلیا ۔

سابق چیئرمین سینیٹ

مزید : صفحہ آخر