آزاد کشمیر اور گلگت بلستسان کو بجٹ سے حصہ دی جائے ، کل جماعتی کشمیر مشاورتی کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ

آزاد کشمیر اور گلگت بلستسان کو بجٹ سے حصہ دی جائے ، کل جماعتی کشمیر مشاورتی ...

اسلام آباد(آئی این پی) جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق کی میزبانی میں کل جماعتی کشمیرمشاورتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان سمیت آزادکشمیر ،مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے قائدین نے شرکت کی ،کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہاکہ کشمیرکی آزادی کے لیے خون کے آخرے قطرے اور زندگی کے آخری سانس تک لڑیں گے کشمیری تکمیل پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں ، حکومت پاکستان کشمیریوں کی غیر فوجی امداد کرے ،ایک مستقل نائب وزیر خارجہ کا تقررکرے جس کا کام صرف مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا ہو ۔ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کو بجٹ میں حصہ دیا جائے ،گلگت بلتستان ہو گا تو سی پیک ہو گا مقبوضہ کشمیر آزاد ہو گا تو پاکستان کی سلامتی محفوظ ہو گی۔ وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہاکہ آزادکشمیر کو با اختیار اور با وقار بنایا جائے تا کہ ہم مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرسکیں کشمیری اپنے حصے کی قربانیاں پیش کررہے ہیں اب پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کو منزل تک پہنچائے ۔ کشمیری قیادت آزادی کے ون پوائنٹ ایجنڈے پر متحد اور متفق ہے۔ڈاکٹر خالد محمود خان نے کہاکہ کشمیر سے بہنے والے دریاؤں میں شہداء کا خون شامل ہے ،مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے میڈیا کانفرنس کی جائے تا کہ یہاں کا میڈیا مظالم اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں کشمیری نہ گھبرائے ہیں اور نہ پریشان ہیں وہ آزادی کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ عبدالرشید ترابی نے کہاکہ کل جماعتی کشمیر رابطہ کونسل اپنے پلیٹ فارم سے مسئلہ کو اجاگر کرنے کے لیے سرگرمیاں جاری رکھے گی اور مشاور ت کے ساتھ جو سرگرمیاں طے ہوئی ہیں ان پر عمل کیا جائے گا ۔صغیر چغتائی، مولانا امتیاز صدیقی، مولانا امتیاز عباسی،غلام محمد صفی،فیض نقشبندی،رفیق ڈار،مولانا عبدالسمیع ،نورالباری سمیت دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا ۔جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ کانفرنس مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر میں مسلسل بھارتی ریاستی دہشت گردانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کرتی ہے جس کے نتیجے میں صرف گزشتہ ایک ماہ میں درجنوں نوجوانوں کو شہید کر دیاگیا اور سرچ آپریشن کے نام پر مکانات اور اثاثے لوٹے اور نذر آتش کیے جا رہے ہیں ۔ کانفرنس اقوا م متحدہ ، او آئی سی اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت کو ریاستی دہشت گردی کا عمل روکنے کے لیے مجبور کریں اور کالے قوانین کے خاتمے ، حریت کانفرنس اور محبوس نوجوانوں کی رہائی اور فوجی انخلاء کے عمل کو یقینی بنانے کا اہتمام کریں۔آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کو بجٹ میں سے بھرپور حصہ دیا جائے تا کہ یہ خطے تحریک آزادی کے لیے رول ماڈل بن سکیں۔بین الاقوامی رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے اہم دارلحکومتوں میں وفود بھیجنے کا اہتمام کیا جائے ۔لندن ، برسلزاور نیو یارک میں بین الاقوامی کانفرنسوں کا اہتمام کیا جائے ۔

کشمیر کانفرنس

مزید : صفحہ آخر