قومی اسمبلی ، لوڈشیڈنگ ، پر اپوزیشن کا احتجاج ، تحفظ حقوق خواجہ سرا سمیت 6بل منظوری

قومی اسمبلی ، لوڈشیڈنگ ، پر اپوزیشن کا احتجاج ، تحفظ حقوق خواجہ سرا سمیت 6بل ...

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کاملک میں جاری لوڈشیڈنگ پر شدید احتجاج، سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی میں بھی خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کا بل منظور، تیزاب گردی یا آگ سے جلانے کی روک تھام کیلئے بل ترامیم کیساتھ منظور،جانوروں پر بے رحمانہ تشدد کی روک تھام،انسداد دہشت گردی (ترمیمی)بل 2018 ، انسٹیٹیوٹ آف سائنس و ٹیکنالوجی بہاولپور،سرسید انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اسلام آباد کے قیام کا بل، اسلام آباد امتناع ملازمت بچگان بل 2017 ،پاکستان بیت المال (ترمیمی)بل 2017 اور نیشنل سول ایجوکیشن کمیشن بل 2018 کی ایوان زیریں نے منظوری دے دی۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے ملک میں جاری لوڈشیڈنگ پر شدید احتجاج کر تے ہوئے کہا کہ حکومت نے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے جھوٹے دعوے کئے ،کے الیکٹرک نے کراچی والوں کو ذہنی اذیت میں ڈالا ہوا ہے ،سندھ میں سولہ سولہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے ،پینے کو پانی نہیں ‘ جنازوں کو نہلانے کے لئے پانی نہیں کس چیز پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ حکومت پورے پاکستان کی حکومت ہے۔ان خیا لات کا اظہار نکتہ اعتراض پر بات کر تے ہوئے ، رشید گوڈیل ، فہمیدہ مرزا اور شازیہ مری سمیت دیگر ارکان نے کیا ۔ خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ اور انکی فلاح و بہبود کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا۔بل کی جمعیت علماء اسلام (ف)اور جماعت اسلامی نے مخالفت کی۔بل کے تحت مخنث افرادقومی شناختی کارڈ،ڈرایوئنگ لائسنس،پاسپورٹ اور چالڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے،خواجہ سراؤں کواپنی جنس کا تعین کرنے کا اختیار حاصل ہوگا،جو شخص مخنث افراد کو زبردستی گداگری کیلئے ملازمت پر رکھے گا اسے 6ماہ قید یا 50ہزار جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی،مخنث افرادکو وراثتی جائیداد میں اپنی جنس کے مطابق حصہ ملے گا،خواجہ سراؤں کو ووٹ دینے اور عوامی عہد ے کا بھی حق حاصل ہوگا،قانون پورے ملک میں وسعت پذیر ہو گا۔ علاوہ ازیں تیزاب گردی یا آگ سے جلانے کی واقعات کی روک تھام کیلئے بل ترامیم کیساتھ منظور کر لیا ۔بل کے تحت جو کوئی تیزاب یا آگ سے جلانے کے حملہ کے جرم کا ارتکاب کرے اور اگر اس فعل سے کسی کی موت واقع ہو جائے تو اسے بامشقت عمر قید کی سز دی جائیگی ،ملزم کو 7سال قید اور5لاکھ روپے جرمانہ ہو سکے گا،متاثرہ شخص کا سرکاری ہسپتالوں میں فری علاج کیا جائیگا، تیزاب یا آگ سے جلانے کے حملوں کی تفتیش60دن کے اندر مکمل کی جائیگی، تیزاب گردی یا آگ سے جلانے کے مقدمات کی عدالت روزانہ کی بنیاد پر سماعت کریگی اور7دن میں مقدمے کا فیصلہ کرنے کی پابند ہوگی،بل کا اطلاق اسلام آباد کی حدود تک ہو گا۔ ماروی میمن نے بل کی منظوری پر پارلیمنٹ اور حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے بل کی سینٹ سے بھی متفقہ منظوری ہوگی۔ پیپلزپارٹی کے ر سید نوید قمر کی طرف سے سینیٹ سے منظور شدہ چھ متعدد بلز پیش کئے گئے جو کہ بغیر کسی ترمیم کے اتفاق رائے سے منظور کرلئے گئے۔سید نوید قمر کی طرف سے مخنث افراد کے حقوق کے تحفظ،امدادی اور بحالی بل2018ء،نیشنل سوک ایجوکیشن کمیشن بل2018ء،ضابطہ فوجداری ترمیمی بل2018ء دفعہ325،انسداد دہشتگردی ترمیمی بل2018ء،انسداد بے رحمی حیوانات ترمیمی بل2018ء فوجداری قوانین ترمیمی بل2017ء دفعہ510 اور پاکستان بیت المال ترمیمی بل2017ء جو کہ سینیٹ سے منظور ہوکر حتمی منظوری کیلئے قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے تھے۔

قومی اسمبلی

مزید : صفحہ آخر