پاکستان کی خبر پر ایکشن ، جونیئر افسروں کی سینئر پوسٹوں پر تعیناتی ، اضافی چارج کے احکامات واپس

پاکستان کی خبر پر ایکشن ، جونیئر افسروں کی سینئر پوسٹوں پر تعیناتی ، اضافی ...

لاہور(سٹاف رپورٹر) روزنامہ پاکستان میں ہاؤسنگ اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے محکمے میں بے ضابطگیوں، بدعنوانیوں اور گھپلوں کی داستان شائع ہونے کے بعد اُوپر سے نیچے تک کھلبلی مچ گئی اور اعلیٰ افسروں نے اپنی من پسند کارروائیوں پر پردہ پوشی کا سلسلہ شروع کردیا۔ گزشتہ ماہ چھپنے والی تحقیقاتی خبروں کے بعد محکمے کے سیکرٹری نے چیف سیکرٹری کے احکامات اور محکمانہ سنیارٹی لسٹ کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے جونیئر افسروں کی سینئر پوسٹو ں پر تعیناتی اور اضافی چارج کے احکامات واپس لینا شروع کر دیئے جبکہ دوسری جانب نیب لاہور بھی مذکورہ محکمے میں ہونیوالی بے ضابطگیوں پر سرگرم ہو گیا ۔ صاف پانی پراجیکٹ میں گھپلوں پر کل کمپنی کی سربراہ کو طلب بھی کر لیا گیا ہے۔ روزنامہ پاکستان کو ملنے والی تفصیلات کے مطابق سیکرٹری ایچ یو ڈی اینڈ پی ایچ ای ڈی خرم آغا نے ’’ پاکستان ‘‘میں خبر کی اشاعت کے بعد 4 مئی کو پوسٹنگ ٹرانسفر کا ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں تحت 19 اپریل کو روزنامہ پاکستان کی خبر میں سنیارٹی لسٹ کے حوالے سے کی گئی نشاندہی کی بنیاد پر متعدد اعلیٰ افسران کو اُن کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا جبکہ کئی ایک سے اضافی چارج بھی واپس لے لئے گئے گریڈ 18 کے ایکسین بہاولپور فیض الرحمن کو فوری طور پر تبدیل کر کے او ایس ڈی بنا دیا گیا جبکہ بہاولنگر میں تعینات گریڈ 18 کے ایکسین محمد منیر اختر شیخ کو فیض الرحمٰن کی جگہ ایکسین بھاولپور تعیناتی کیا گیا۔پی ایچ ای سرکل ملتان اکرام احمد ہاشمی )گریڈ (18سے سپرنٹنڈنگ انجینئر کا اضافی چارج واپس لے لیا گیا اور انہیں منیر شیخ کی جگہ ایکسین بھاولپور بنا دیا گیا انہیں بھاولپور سرکل کے ایس ای کا اضافی چارج بھی دیا گیا ہے۔ اسی طرح گریڈ 19 کے ایم ڈی واسا ملتان راؤ محمد قاسم کو ایس ای پی ایچ ای کا اضافی چارج بھی دیا گیا ہے ۔ اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ محکمے کے سیکرٹری نے ان نئے تبادلوں کی ایس اینڈ جی اے ڈی سے منظوری بھی حاصل نہیں کی جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل سلمان یوسف کے پاس ڈائریکٹر ڈیزائن نارتھ کا اضافی چارج تاحال موجود ہے اور یہ دونوں اہم عہدے محکمے کے اندر بھی موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔اِن مناصب کے خلاف کئی انکوائریاں بھی زیر تکمیل ہیں جبکہ بھاولپور میں لگائے جانے والے 108 فلٹریشن پلانٹس کے ایس بی نامی جس کمپنی کو دیئے گئے تھے اُس کا کیس بھی نیب میں زیر سماعت ہے اس کی ذمہ داری بھی مذکورہ عہدوں پر عائد کی گئی ہے۔صاف پانی کمپنی کیس میں نیب ان عہد وں پر تعینات افسروں کے خلاف ریفرنس کی تحقیقاتکررہا ہے۔ایک اعلیٰ افسر محمد ایوب کی جگہ پر تعیناتی کے لئے تین افسروں محمد شاہد اظہر غلام قاسم خان نیازی وغیرہ کے نام وزیر اعلیٰ پنجاب کو ارسال کئے گئے ہیں یہ افسر بھی محکمے کی سنیارٹی لسٹ میں نچلے نمبروں پر آتے ہیں راؤ محمد قاسم جو ایم ڈی واسا تعینات ہیں وہ 10 ویں نمبر پر ہیں۔ اس حوالے سے ’’پاکستان ‘‘کو معلو م ہوا ہے کہ جونیئر افسروں کی تعیناتی اور محکمانہ بے ضابطگیوں پر پی ایچ ای ڈی اور ایچ یو ڈی میں خاصی تشویش اور بددلی پائی جاتی ہے۔ سٹاف ممبران نے چیف جسٹس پاکستان اور چیئرمین نیب سے اپیل کی ہے کہ گھپلوں کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دے کر قومی خزانے کو پہنچائے گئے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔

پاکستان کی خبر پر ایکشن

مزید : صفحہ اول