میگا پراجیکٹس ،صوبائی حکومت مالی بحران کا شکار،فنانس ڈیپارٹمنٹ نے ادائیگیاں روک دیں

میگا پراجیکٹس ،صوبائی حکومت مالی بحران کا شکار،فنانس ڈیپارٹمنٹ نے ...

ملتان (اعظم ملک سے) پنجاب میں جاری میگا پروجیکٹس کی وجہ سے صوبائی حکومت ایک مرتبہ پھر شدید مالی بحران کا شکار ہوگئی ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران اس بحران کو کنٹرول کرنے کیلئے متعدد کوششیں کی گئیں۔ پہلے صوبہ بھر میں 10 کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگیوں پر پابندی عائد کی گئی‘ صورتحال نہ سنبھلنے پر ترقیاتی پروجیکٹس کے فنڈز سرنڈر بھی کئے گئے لیکن مالی بحران بڑھتا رہا۔ گزشتہ روز صورتحال اس نہج پر پہنچ گئی کہ فنانس ڈیپارٹمنٹ نے فوری طورپر صوبہ بھر میں ترقیاتی اور غیرترقیاتی پروجیکٹس کی ادائیگیاں روک دیں‘ اس سلسلے میں ملتان سمیت صوبہ بھر کے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس کو پیغامات موصول ہوگئے۔ صوبہ بھر کے ضلعی فنانس افسران کو صرف تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کرنے کی ہدایات جاری کردی گئیں جبکہ سرکاری افسران اور ملازمین کو بقایا جات کی ادائیگی بھی روک دی گئی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ماہرین اس وقت مالی بحران کو کنٹرول کرنے کیلئے سرجوڑ کر بیٹھے ہیں۔ صوبائی حکومت کے احکامات پر ملتان میٹرو بس پرجیکٹ‘ لیہ روڈ‘ خانیوال‘ لودھراں‘ ڈیرہ غازی خان‘ مظفر گڑھ روڈ پر کام کرنے والے کنٹریکٹرز کو ادائیگیاں روک دی ہیں۔ صرف ملتان میں گزشتہ روز 50کروڑ روپے سے زائد مالیت کے کیسز پر کارروائی روک دی گئی ہے۔ فنانس ڈیپارٹمنٹ نے محکمہ صحت میں صرف ایمرجنسی پرچیز کی اجازت دی ہے جبکہ دیگر ادائیگیوں پر پابندی لگا دی ہے۔ فنانس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے سرکاری ملازمین کو بقایا جات ادا کرنے سے روک دیا۔ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس ملتان نے گزشتہ روز ایک سو زائد افسران اور ملازمین کو بقایا جات دینے سے انکار کردیا۔ بتایا گیا کہ فنانس ڈیپارٹمنٹ نے محکمہ صحت میں ترقیاتی کاموں کی ادائیگیوں پر بھی پابندی عائد کردی ہے جس کی وجہ سے صوبہ بھر میں جاری منصوبے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوچکا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حکومت کے اختتامی دن قریب آنے پر مالی بحران پیدا ہونا حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ فنانس ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے ادائیگیوں پر پابندی کے زبانی احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ مخالف سیاسی جماعتوں کے ایکشن سے بچنے کیلئے ان احکامات کو تحریری طورپر جاری نہیں کیا گیا۔ فنانس ڈیپارٹمنٹ پنجاب دوسرے مرحلے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود چیکس روکنے کے پلان پر عمل کرنا چاہتا ہے تاکہ خزانہ کی صورتحال بہتر ہوسکے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس مالی بحران کی بنیادی وجہ اندھا دھند شروع کئے جانے والے میگا پروجیکٹس ہیں اور ان منصوبوں پر دی جانخے والی سبسڈی بھی ایک اہم فیکٹر ہے۔

صوبائی حکومت مالی بحران

مزید : کراچی صفحہ اول