چارسدہ ہسپتال کے ایم ایس کیخلاف مقدمہ میں حکومت سے جواب طلب

چارسدہ ہسپتال کے ایم ایس کیخلاف مقدمہ میں حکومت سے جواب طلب

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس یحی آفریدی اور جسٹس سید ا فسرشاہ پرمشتمل بنچ نے انٹی کرپشن کی خصوصی عدالت کوچارسدہ ہسپتال کے ایم ایس کے خلاف مقدمے کی سماعت سے روکتے ہوئے صوبائی حکومت سے جواب مانگ لیاہے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے یہ احکامات درخواست گذار ڈاکٹرمحمدخان آفریدی کی جانب سے دائررٹ پرجاری کئے اس موقع پر ان کے وکیل خالدانورآفریدی نے عدالت کو بتایاکہ درخواست گذار گریڈ19میں چارسدہ ہسپتال میں بطورمیڈیکل سپرنٹنڈنٹ تعینات تھا اوراس پرالزام عائد کیاگیاکہ رمضان المبارک کے دوران مریضوں کی افطاری کے فنڈ میں17لاکھ روپے خوردبرد کئے ہیں جبکہ کسی کے خلاف گمنام خط پرانکوائری شروع نہیں کی جاسکتی اوردرخواست گذار کے خلاف گمنام خط کی بنیاد پرانکوائری شروع کی گئی ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ قوانین کے مطابق جب انکوائری شروع کرنی ہوتو متعلقہ حکام سے اجازت لینی ہوتی ہے اور جب چالان پیش کرناہوتاہے اس کے لئے بھی اجازت درکارہے جبکہ تاخیرکی صورت میں بھی وجہ بتاناہوگی تاہم یہ تمام ضابطے پورے نہیں کئے گئے ا س کے باوجود ماتحت عدالت نے 265کے کی درخواست خارج کی ہے لہذادرخواست گذار کو مقدمے سے بری الذمہ قرار دیاجائے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے انٹی کرپشن کی عدالت کو مقدمے کی مزید سماعت سے روکتے ہوئے صوبائی حکومت سے جواب مانگ لیاہے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر