بی آر ٹی وزیر اعلیٰ کی سیاسی مہم جوئی اور خود غرضی کی وجہ سے تباہی کا منصوبہ ہے:لقمان قاضی

بی آر ٹی وزیر اعلیٰ کی سیاسی مہم جوئی اور خود غرضی کی وجہ سے تباہی کا منصوبہ ...

نو شہرہ (بیور ورپورٹ )جماعت اسلامی کے سینٹر ل ایگز یکٹو کو نسل کے رکن آصف لقما ن قاضی نے بی آر ٹی پشاور منصو بہ وزیر اعلی کی سیا سی مہم جوئی اور خو د غر ضی کی وجہ سے خیبر پختونخوا اور با لخصو ص پشاور کے عوام کے لئے تبا ہی کا منصو بہ قر ار دیتے ہو ئے کہا ہے کہ وزیر اعلی پر ویز خٹک حکومت کی کر پشن کی صند و قیں کھلنا شرو ع ہو گئی ہیں بی آر ٹی منصو بے کی صند وق پہلے کھل گئی اور کر پشن کی دیگر صند و قیں بہت جلد کھو ل دی جائیں گی وزیر اعظم پر پانامہ میں مقد مہ چل سکتا ہے تو وزیر اعلی خیبر پختو نخو اکے خلاف بی آر ٹی منصوبے میں بے ضا بطگیو ں میں مقد مہ کیو ں نہیں چل سکتا جماعت اسلامی کے وزرا ء سمیت کوئی بھی کرپشن میں ملو ث ہوتو ان سب کا بھی غیر جانبد ار احتساب ہو نا چا ہیے بی آرٹی پشاور کے منصوبہ وزیر اعلی کی سیاسی مہم جوئی اور خو د غر ضی کی وجہ سے خیبر پختونخوا عوام کے لئے تبا ہی کا منصوبہ بن چکا ہے ان خیالا ت کا اظہار انہو ں نے نو شہرہ پر یس کلب میں پر یس کانفر نس سے خطاب کر تے ہوئے کیا اس موقع پر متحد ہ مجلس عمل نو شہرہ کے رہنما الحاج پرویز خان خٹک ون ، انجیئنر امیر عالم خان ، حاجی عنا یت الرحمان ، افتخار احمد خان بھی موجود تھے آصف لقما ن قاضی نے کہاکہ ہم نے کئی ما ہ قبل وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرو یزخٹک کی کر پشن کی سات صند و قوں کا ذکر کیا تھا اس میں پہلا صند و ق جو کھلا ہے وہ بی آرٹی کی کر پشن ہے کیو نکہ بغیر ایشین ڈویلپمنٹ بنک سے 40ارب روپے کا قرض پسماند ہ صوبے کے عوام لا د ا گیا ہے تاکہ وزیر اعلی جھو ٹی شان دکھا سکیں 49ارب روپے کا ابتد ا ئی تخمینہ وزیر اعلیٰ کی من مانی کی وجہ سے آج 70ارب روپے تک پہنچ گیا ہے واضح رہے کہ یہ وہی منصوبہ ہے جس کے با ر ے میں پی ٹی آئی کے وا ئس چیئر مین اور رکن پارلمینٹ اسد عمر ٹی وی پرو گرا ما ت میں کہہ چکے ہیں کہ ہم اس پر اجیکٹ کو 9ارب روپے میں مکمل کر کے دکھا ئیں گے لاہو ر اور رو الپنڈ ی میں پنچا ب حکومت کے اسی قسم کے پر اجیکٹ کا پی ٹی آئی کے چیئر مین عمرا ن خان اپنے جلسو ں میں جنگلہ بس کہتے رہے ہیں عوام یہ سوال کر نے میں حق بجانب ہیں کی اگر یہ جنگلہ بس تھی تو پشاور میں اس پرا جیکٹ کو شروع کر نے کی ضرورت کیا تھی اور وہ بھی اپنی حکومت کے آخری چند مہینوں میں اگر اسد عمر بی آر ٹی کو 9ارب روپے میں بنا سکتے تھے تو غریب عوا م کی کمر پر 70ارب روپے کا قرض کیو ں لاد اگیا جو کہ اس صوبے کی تار یخ کا سب سے بڑ ا قر ضہ ہے انہوں نے مزید کہا کہ واضح رہے کہ لا ہو ر اورروالپنڈ ی کے بی آرٹی منصو بے پنجا ب حکومت نے اپنے وسا ئل کی تکمیل سے پہنچا ئے اور عوام پر قر ض کا بو جھ نہیں لاد ا گیا اس منصو بے کی ناقص منصو بے کی وجہ سے صوبے کے عوام کا ہر سال سات ارب رو پے بی آرٹی کے خسا ر ے کی مد میں بھر نا پڑ یں گے جس کی وجہ سے تعلیم اور صحت کے شعبہ جات متا ثر ہو ں گے وزیر اعلیٰ صوبہ خیبر پختونخوا خو د ایک ٹھیکید ار ہیں اور بخو بی جانتے ہیں نامکمل ڈایز ین کے ساتھ منصوبہ شرو ع کر نے کا نتیجہ کیا ہو تا ہے منصوبے کے ڈا ئز ین میں 33بار تبد یلیا ں کر کے ٹھیکید ار کو من مانی رقم وصول کر نے کا موقع فراہم کیا گیا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا خو د کہہ رہے ہیں یہ منصو بہ دنیا میں آٹھ ماہ میں مکمل نہیں ہو ا ما ہر ین کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل کے لئے منا سب وقت تین سال ہے سوا ل یہ ہے کہ وزیراعلیٰ نا معقول شیڈ ول دیتے رہے جو عملا ناممکن تھا اور با لآخر سارا ملبہ پرا جیکٹ آفسرا ن پر ڈالا گیا اور ان کی توہین کی گئی جس کی وجہ سے انہیں مستفی ہو نا پڑ ا بور ڈ آف ڈا ئریکٹر کی مٹینگز کی رو داد ان امو ر کی گوا ہی دیتی ہے خیبر پختونخوا حکومت کی کمپنی ٹرا نس پشاور کے افسرا ن پر قوا عد اور ضوابط کو نظر اند ا ز کر نے کے لئے دبا ؤ ڈالا گیا ایک قومی منصو بے کی صرف اس وجہ سے تبا ہی سے دوچار کر وایا جا رہا ہے کہ وزیراعلی خیبر پختونخوا اس کا سیاسی کر یڈ یٹ لے سکیں ترقیا تی منصوبو ں کی سیاسی مہم جوئی کے لئے استعما ل کر نا ایک قومی جر م ہے سیاسی مقا صد کے لئے پشاور کو ایک وسیع اور عر یض کھڈ ے میں تبد یل کر دیا گیا جس وجہ سے شہر یو ں کو بے پنا ہ مشکلا ت کا سامنہ ہے وزیر اعلیٰ خیبر پختو نخوا پرو یز خٹک قومی خزا نے کو سیاسی مقاصد کے لئے استعما ل کر نے کا وسیع تجر بہ رکھتے ہیں اور نانی جی کا فاتحہ ہمیشہ حلو ائی کی دکان پر پڑھتے رہے ہیں ایک طویل عرصے سے تر قیا تی فنڈ ز اور سرکاری ملا زمتیں اپنے سیاسی لا ڈلو ں میں تقسیم کر تے رہے ہیں بی آر ٹی کے لئے جس کمپنی کا انتخاب کیا گیا وہ نا قص کا رکر دگی کے لئے قبل ازیں پنچا ب میں اورنج لائن میں نا قص کار کر دگی کی وجہ سے بلیک لسٹد ڈ قرار پا چکی ہے ایک ایسی کمپنی کا انتخاب کر نا اور اس سے جلد بازی میں پر اجیکٹ کی تکمیل کروا نے کا انجا م سب لو گ سمجھ سکتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ بی آر ٹی پشاور میں جس اند از میں شروع کیا گیا اور جس اندا ز میں اس کی تکمیل کرو ائی جا ررہی ہے یہ صوبائی درالحکومت پشاور کے ساتھ ایک ظلم اور صوبے کی معیشت کے ساتھ کھیلو اڑ ہے خیبر پختونخوا ایک پسماند ہ صوبہ ہے اور پندر ہ بر س سے دہشت گردی کا شکا ررہا ہے وزیرا علیٰ کی من مانی صوبے کی معیشت کے تبا ہ کن ثابت ہو گی ہم چیف جسٹس سپر یم کو رٹ سے اپیل کر تے ہیں کہ وہ خیبر پختونخوا کے دورے کے موقع پر صوبے کے عوام کے ساتھ کیے گئے تا ریخی ظلم کا نو ٹس لیں جس طر ح وفاقی حکومت کی کر پشن پر گر فت کی ہے اس طرح وزیرا علیٰ خیبر پختونخوا کی نا اہلی من ما نی اور بد عنوا نی پر گر فت کر یں اور از خو د نوٹس لے کر نیب کو وزیر اعلیٰ کی بد عنوا نی اور مجر ما نہ رویے کے خلاف تحقیقات کر نے کا حکم دیں جن افسروں کو معز و ل کیاگیا عدا لت ان کو بلا کر ان کا موقف سنے تا کہ انصاف ہو تاہو ا نظرآئے ہم عوام کووزیراعلی کی کر پشن کے خلا ف بیدار اور منظم رکھیں گے اور مجر ما ن کو کیفر کر دار تک پہنچا ئیں گے

مزید : پشاورصفحہ آخر