ثمر باغ بجلی ایکسپریس لائن پر کا م کی بندش ، بجلی کی غیر اعلا نیہ لوڈ شیڈنگ

ثمر باغ بجلی ایکسپریس لائن پر کا م کی بندش ، بجلی کی غیر اعلا نیہ لوڈ شیڈنگ

تیمرگرہ( بیورورپورٹ )ثمر باغ بجلی ایکسپریس لائن پر کا م کی بندش ، بجلی کی غیر اعلا نیہ لوڈ شیڈنگ ، بھاری بھر کم بلز اور جرمانوں کے خلاف ضلع کونسل لویردیر کے ممبران سراپا احتجاج بن گئے ممبران کا اجلاس سے واک آوٹ ممبران نے الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ اگر دو دنوں کے اندر اندرثمربا غ ایکسپرین لائن پر کام شروع نہ ہواتو ڈپٹی کمشنر اور ضلع نا ظم کے دفاترکو تالے لگائینگے اور واپڈاچئیر مین کے دفتر کا سا منے اس وقت تک دھرنا دینگے جس تک مذکورہ ایکسپریس لائن پرکام شروع نہیں کیا جاتا ضلع کونسل لویر دیر کا اجلاس قائم مقام ضلع نائب ناظم صا حب زادہ سیف الاسلام کی صدارت میں منعقد ہوا جس مین ممبران مولا نا عمران الجندولی، شاد نواز خان ، رفیع اللہ جان ، رحیم شاد باچا، نظیر احمد ،حاجی فضل قادر، غلام حسین، عزیز سرہندی، ودیگر نے اظہار خیال کرتے ہوئے واپڈا کی ناقص کارکردگی پر برس پڑے اور کہا کہ تحصیل ثمر باغ کے بجلی ایکسپریس لائن کے لئے آمیر جماعت اسلامی پاکستان سنیٹر سراج الحق نے دس کروڑ کی منظوری دی تھی جس کے لئے سا مان بھی خریدا گیا ہے لیکن اس پر ابھی تک کام شروع نہ ہوسکا اس حوالے سے انھوں نے دوماہ قبل واپڈا چیف سے پشاور میں ملاقات کرچکے تھے جنہوں نے ایک ہفتہ کے اندر اندر کام شروع کرنے کا یقین دلایا تھا لیکن دو ماہ گزرنے کے با وجود اس فیڈر پر کام شروع نہ ہوسکا جبکہ عوام نے اپنی مدد اپ کے تحت چندہ اکٹھا کرکے پچاس ہزار روپے کی لاگت سے بجلی کے 20کھمبے نصب کرچکے ہیں انھوں نے کہا کہ واپڈا سفید ہاتھی بن چکاہے اگر مزکورہ فیڈر پر دو دنوں کے اندر اندر کام شروع نہ ہوسکا توبطور احتجاج بجلی کے میٹر اور کھمبے اکھاڑ دیں گے انھوں نے کہا کہ تحصیل ثمرباغ ملک کی واحد تحصیل ہے جہاں بجلی نمبر داری پر ہے ایک دن بجلی ہوتی ہے اور دوسری روز بند ہوتی ہے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے ممبر شاد نواز خان نے کہا کہ واپڈا نے صارفین کا جینا حرام کر دیا ہے عوام بجلی کی ٹرانسفا مر اپنی مدد اپ کے تحت مرمت کرنے پر مجبور ہے یونین کونسل رباط میں کئی ٹرانسفار مر خراب ہے جبکہ واپڈا اسے مرمت نہیں کرتی انھوں نے کہا کہ جلے ہوئے ٹرانسفار مر اگر تین دنوں کے اندر اندر مرمت نہ کئے گئے تو واپڈا دفاتر کا گھراو کرینیگے انھوں نے کیمسٹوں کی جانب سے ہڑتال سے مریضوں اور عوام کو مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ملاکنڈ دویژن پسماندہ علاقہ ہے حکومت کیمسٹوں کے ساتھ نرمی کرکے ان کے کیٹگری سی کے لا ئیسنس بحال کی جائے تاکہ کیمسٹ ہڑتال ختم کرے انھوں نے کہا کہ پراجیکٹ سی ڈی ایل ڈی کے بعض انجنئیر ٹھیکداروں سے کمیشن لینے کے لئے انہیں بلیک میل کر رہے ہیں شاد نواز خان نے کہا کہ ان کے یو سی رباط مین اتشزدگی سے تین مکانات جل گئے جس سے لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے صوبائی حکومت، مخیر حضرات اور ضلعی انتظامیہ متا ثرین کے ساتھ مالی تعاون کریں ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر