مسئلہ کشمیر کے باوقار حل کی خاطر سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس بلایا جائے،چوہدری لطیف اکبر

مسئلہ کشمیر کے باوقار حل کی خاطر سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس بلایا ...

مظفرآباد(نمائندہ پاکستان) پاکستان پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے صدر سابق وزیرخزانہ و منصوبہ بندی ترقیات چوہدری لطیف اکبرنے مقبوضہ کشمیرمیں بدترین ریاستی دہشت گردی، قابض افواج کے مظالم ، قتل و غارت گری ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، بدنام زمانہ کالے قوانین ، خواتین کی عصمت دری ، حریت رہنماؤں کی بلاجواز گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے باوقار حل کی خاطر سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا ، اوروفاقی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ سفارتی لابنگ کے ذریعے کشمیریوں کے قتل عام ، ورکنگ باؤنڈری ، لائن آف کنٹرول پر بھارتی گولہ باری سے فوجی ، سول شہریوں کی شہادتوں ، عالمی قوانین کی خلاف ورزی ، جنیوا کنونشن کی سفارشات کو پاؤں تلے روندنے سمیت توسیع پسندانہ عزائم اور نیوکلیئر وار کے لئے حالات پیدا کر نے پر دنیا بھر کے ایوانوں میں کشمیر کے تاریخی پس منظر پر گرفت رکھنے والے تمام مکاتب فکر پر مشتمل وفود ارسال کئے جائیں اور جنگی جرائم اور انصاف کی عالمی عدالتوں میں بھارتی جارحیت کے خلاف مقدمات درج کروانے کا وقت آچکا ہے مسئلہ کشمیر اب یا کبھی نہیں کہ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے دو ایٹمی ممالک کے درمیان پائیدار تعلقات اور عالمی امن قائم کرنے ڈیڑھ کروڑ کشمیری عوام کو حق خود رادیت دینے کے لئے اقوام متحدہ سمیت بااثر غیر جانبدار ممالک کی ثالثی کا کردار ناگزیر ہو چکا ہے وہ گزشتہ روز اپنی رہائش گاہ پر مقبوضہ کشمیر کی تشویش ناک صورتحال اور 14 بے گناہ نہتے ، آزادی پسندوں کے قتل اور لاتعداد کو زخمی، حریت رہنماؤں کی گرفتاریوں پر اخباری نمائندوں سے خصوصی گفتگوکررہے تھے اس موقع پر مرکزی سیکرٹری ریکارڈ شوکت جاوید میر یوتھ کے مرکزی وائس چیئرمین کلیم قریشی ، خیبر پختونخواہ کے رہنماء اختیار اللہ بٹ ، اشتیاق چوہدری اور سابق سیکرٹری اطلاعات سی پی سی سید اعجاز کاظمی بھی موجود تھے ، چوہدری لطیف اکبر نے کہا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی مجرمانہ ذہنیت کا تسلیم شدہ عالمی دہشت گردہے جو سر تا پاء مسلمانوں سمیت اقلیتوں کے خون ناحق میں لت پت ہے کشمیریوں نے ہمیشہ پاک بھارت مذاکرات خوش آئند قرار دیتے ہوئے قربانیوں کا تسلسل جاری رکھا ، لیکن کمپوزٹ ڈائیلاگ ، اقدامات برائے بحالی اعتماد ، دو طرفہ تجارت ، وفود کے تبادلے بھی کشمیریوں پر ہونے والے انسانی سوز بدترین مظالم ذرابھی نہ تھم سکے آج بھی مقبوضہ کشمیر میں نہتے آزادی پسندوں پر پیلٹ گن کا استعمال ہو رہا ہے جوخطرناک جانوروں کے لئے ہوتی ہے کرفیو کا نفاذ میڈیا اور انٹر نیٹ پر پابندیوں کے باوجود بھارت کھوکھلے دعوئے کرتے شرمسار نہیں ہوتا کہ وہ دنیا کی کون سی بڑی جمہوریت اور سکیولر ازم کا داعی ہے ۔۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر