کوئٹہ میں بنیادی سہولیات میسر نہیں ،ہمیں بلوچستان کی بہت فکر ہے: چیف جسٹس

کوئٹہ میں بنیادی سہولیات میسر نہیں ،ہمیں بلوچستان کی بہت فکر ہے: چیف جسٹس
کوئٹہ میں بنیادی سہولیات میسر نہیں ،ہمیں بلوچستان کی بہت فکر ہے: چیف جسٹس

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بلوچستان میں پانی کی قلت سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیے ہیں کہ کوئٹہ میں بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں ہمیں بلوچستان کی بہت فکر ہے، جنہوں نے کام نہیں کیاان پرذمہ داری عائدکرنی پڑے گی،نئے وزیراعلی کو تو آئے ابھی 2ماہ نہیں ہوئے ۔ چیف جسٹس نے اگلی سماعت پر آئی جی ایف سیز شمالی اور جنوبی سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران کو طلبی کے نوٹسز جاری کردیے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے بلوچستان میں پانی کی قلت سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی،سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور نواب ثنا اللہ زہری بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے ڈاکٹر عبدالمالک کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ صرف ایک کوئٹہ کا سول اسپتال ہے وہ بھی آپ سے سنبھالا نہیں گیا، ہسپتالوں میں سی سی یونہیں ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ حکومت کو فعال کرنے کی بہت کوشش کی، بلوچستان میں انتہا پسندی اور دہشت گردی عروج پر ہے۔ 2013 میں ہماری حکومت آنے کے بعد جرائم میں کمی ہوئی،آواران میںآج بھی شدت پسندی ہے۔

عمر کوٹ : ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج احمد صبا دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کرگئے

ڈاکٹر عبدالمالک سے مکالمہ میں چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ صوبے میں پانی کی صورتحال سے مطمئن ہیں؟ جھیلیں سوکھ گئیں ہیں، بجٹ کا ایشو ہے ایسا مت بولیے گا ، یہاں جو بھی آتاہے بجٹ کی کمی کا ہی کہتا ہے، جواب میں ڈاکٹر عبدالمالک کا کہنا تھا کہ اپنے دور میں کئی چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیمز پر کام شروع کر دیا تھا ، تعلیم کے بجٹ کو بھی 4 سے بڑھا کر24فیصد تک کیا تھا ہم نے تمام زندگی عدلیہ کی بالادستی کےلئے گزاری ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ثنااللہ زہری کا کہنا تھا کہ بلوچستان پتھر کے دورمیں چلاگیاتھا، سریاب کا نام لوگوں نے فضائی مٹی رکھ دیا تھا،میرے اورعبدالمالک کے آنے کے بعد حالات بہترہوئے، عدالت تعریف بھی کرے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جنہوں نے کام نہیں کیاان پرذمہ داری عائدکرنی پڑے گی،نئے وزیراعلی کو تو آئے ابھی 2ماہ نہیں ہوئے ،بتادیں کہ 5 سال میں پانی کامسئلہ حل ہوا؟آپ کاموقف یہی ہے کہ سب اچھا ہے، خداراجا کردیکھیں حالات کیا ہیں؟ تمام معاملات کواس وقت زیربحث نہیں لاسکتے، کل رات کوئٹہ رجسٹری میں سماعت کرلیتے ہیں، الیکشن میں ہماراکوئی کردار ہے تودیکھیں گے۔

چیف جسٹس نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کرتے ہوئے آئی جیز ایف سی شمالی اور جنوبی اورقانون نافذکرنیوالے اداروں کوطلبی کے نوٹس جاری کر دیے۔خیال رہے کہ میجر جنرل عابد لطیف خان آئی جی ایف سی جنوبی اور میجر جنرل محمد وسیم اشرف آئی جی ایف سی شمالی کے عہدے پر تعینات ہیں۔

مزید : اہم خبریں /قومی /جرم و انصاف /علاقائی /اسلام آباد