’’ اب ہم اپنے گاہکوں کو ٹریفک جام نہیں پھنسنے دیں گے بلکہ ۔۔۔ ‘‘ اوبر نے اعلان کردیا، ایسی ٹیکسیاں متعارف کرانے کا اعلان کردیا کہ شہری خوشی سے نہال ہوگئے

’’ اب ہم اپنے گاہکوں کو ٹریفک جام نہیں پھنسنے دیں گے بلکہ ۔۔۔ ‘‘ اوبر نے ...
’’ اب ہم اپنے گاہکوں کو ٹریفک جام نہیں پھنسنے دیں گے بلکہ ۔۔۔ ‘‘ اوبر نے اعلان کردیا، ایسی ٹیکسیاں متعارف کرانے کا اعلان کردیا کہ شہری خوشی سے نہال ہوگئے

  

نیویارک(ڈیلی پاکستان آن لائن )سائنس اور ٹیکنالوجی میں بڑھتی ہوئی ترقی کے باعث اب آنے والے پانچ سالوں میں اڑنے والی ٹیکسی کی سروس کا آ غاز کر دیا جائے گا۔اس حوالے سے اوبر نے ناسا کے ساتھ سپیس ایکٹ ایگریمنٹ پر سائن بھی کر دیا ہے جس میں ناسا مکمل نیا ائیر ٹریفک کنٹرول سسٹم بنائے گا۔

 موجودہ دور میں لوگ سفر میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے ،شہروں میں بڑھتی ہوئی ٹریفک کے مسائل نے عوام کی زندگی کو مشکلات سے دو چار کر دیا ہے ۔ٹریفک کے رش سے نجات کیلیے قیمتی وقت کو بچانے کی خاطر اب اڑنے والی ٹیکسی کے منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے اور 2023 تک یہ منصوبہ مکمل کر لیا جائے گا ۔

حال ہی میں اوبر کی ٹیکسی سروس نے حقیقت پر مبنی نمونہ اڑنے والی ٹیکسی کی شکل میں پیش کیاہے ، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ ممکن ہے پہلے ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔اوبر نے بجلی پر چارج ہونے والی اڑنے والی ٹیکسی کا نمونہ لاس اینجلس کی ایلیویٹ کانفرنس میں پیش کیا ۔ انہوں نے بتا یا کہ آغاز میں یہ گاڑیاں انسان خود چلائیں گے اور بعد میں یہ خود کار بنا دی جائیں گی ۔یہ اڑنے والی ٹیکسی 2000فٹ کی بلندی تک جا سکے گی اور یہ ٹیکسیاں 2023تک کافی شہروں میں آپریشنل ہو جائیں گی ۔

اوبر کے مطابق  ہر گھنٹے میں 200گاڑیاں اڑان بھریں گی اور اتریں گی ۔اوبر سروس نے ناسا کے ساتھ سپیس ایکٹ ایگریمنٹ پر سائن بھی کر دیا ہے جس میں ناسا نیا ائیر ٹریفک کنٹرول سسٹم متعارف کروائے گا ۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اوبر کے ہیڈ آف پراڈکٹس جیف ہولڈن کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی اگلی دہائی تک کئی شہروں میں مہیا کی جاسکتی ہے۔ یہ گاڑیاں ایسی موٹروں سے لیس ہوں گی جس کے باعث انہیں افقی طور پر بلند ہونے اور نیچے آنے میں مدد ملے گی، اس ٹیکنالوجی کو VTOLکا نام دیا گیا ہے۔جیف ہولڈن نے ایک کانفرنس میں بتایا کہ اب لوگ اڑنے والی گاڑی میں بیٹھ کر اپنے کام کرنے جائیں گے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /سائنس اور ٹیکنالوجی