چیف جسٹس کا موبائل فون ٹیکسز پر ازخود نوٹس لیکن یہ رقم دراصل جاتی کہاں ہے ، کون کتنا پیسہ ’کھا‘ رہاہے؟ بالآخر تفصیلات سامنے آگئیں

چیف جسٹس کا موبائل فون ٹیکسز پر ازخود نوٹس لیکن یہ رقم دراصل جاتی کہاں ہے ، ...
چیف جسٹس کا موبائل فون ٹیکسز پر ازخود نوٹس لیکن یہ رقم دراصل جاتی کہاں ہے ، کون کتنا پیسہ ’کھا‘ رہاہے؟ بالآخر تفصیلات سامنے آگئیں

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک)چیف جسٹس آف پاکستان نے موبائل فون ٹیکسز پر ازخود نوٹس لے لیا لیکن 100 روپے کا موبائل کارڈ لوڈ کروانے پر کٹنے والے 40 روپے آخر کہاں جاتے ہیں، معمہ حل ہوگیا۔ بی بی سی کے مطابق پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے عہدیدار محمد عارف سرگانہ نے بتایا کہ 100 روپے کے بیلنس پر حکومت کے ٹیکسز 25 روپے 62 پیسے ہیں جبکہ باقی رقم موبائل کمپنیوں کو ملتی ہے۔ان کے مطابق ان ٹیکسوں میں ساڑھے 19 فیصد جنرل سیلز ٹیکس ہے تو ساڑھے 12 فیصد ود ہولڈ نگ ٹیکس۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس کے علاوہ دس فیصد نیٹ ورک کمپنی خدمات کی مد میں وصول کرتی ہے اور ایک کٹوتی نیٹ ورک کی جانب سے کال سیٹ اپ کے نام پر کی جاتی ہے وہ یوں کہ کال ملتے ہی پندرہ پیسے بیلنس میں سے منہا کر لیے جاتے ہیں۔صارفین کا کہنا ہے کہ کٹوتیوں کی بدولت مہینے کے لیے مختص فون کے پیسے ایک ہفتے میں ہی خرچ ہو جاتے ہیں۔

ایک گھریلو خاتون مسز فیض  کا کہنا تھا کہ نیٹ ورک کمپنیوں کا اتنے پیسے کاٹنا زیادتی اور دھوکہ ہے اور فون کے اخراجات کے باعث گھر کا بجٹ ضرور آئوٹ ہوتا ہے،ٹیکسوں کی یہ کٹوتی طلبہ کی جیب پر بھی بھاری پڑتی ہے۔غلام نبی کا کہنا ہے کہ 30 یا 50 کا ایزی لوڈ کرواتا ہوں لیکن ٹیکسز اور ایڈوانس لیے گئے بیلنس کی وجہ سے وہ بھی کٹوتی ہوجاتے ہیں اور حساب برابر رہتا ہے لہٰذا بیلنس رکھنا ہی چھوڑ دیا، جس کو کام ہو، خود ہی فون کرلے ۔

شہناز نامی طالبہ کے خیال میں بھی یہ کٹوتی ناانصافی ہے،شروع شروع میں یہ سات یا 9 روپے سے شروع ہوا تھا ، یہ تو بہت ناانصافی ہے۔‘

مزید : علاقائی /اسلام آباد /بزنس