وہ جو ایک کلبھوشن تھا

وہ جو ایک کلبھوشن تھا
وہ جو ایک کلبھوشن تھا

  

بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو میاں نواز شریف کے دور حکومت میں پکڑا گیا اور اسکی گرفتاری کے بعد بلوچستان اور کراچی میں امن و امان کی صورتحال کافی بہتر ہوئی ہے مگر کچھ عرصے سے بلوچستان پھر سے کسی اور کلبھوشن کی پلاننگ کے نشانے پر ہے۔

خفیہ اداروں کے جال میں پھنس کر کلبھوشن یادیو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھ آگیا تو تانے بانے بہت دور تک گئے

غیر تصدیق شدہ ذرائع بتاتے ہیں کے کلبھوشن کی گرفتاری پنجاب کی شوگر مل میں کام کرنے والے کسی بھارتی شخص سے رابطے کے بعد سامنے آئی ۔

یہ وہی شوگر مل ہے جس میں ڈاکٹر طاہرالقادری کے بیان کے فوراً بعد آگ لگ گئ تھی ۔شنید ہے کہ بھارتی ملازمین کا ریکارڈ بھی نذر آتش ہوگیا تھا۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے میڈیا پر چیلنج دیا تھا کہ اگر میرا بیان غلط ہے تو مجھے عدالت میں طلب کر لیں مگر حکمرانوں کی جانب سے لولے لنگڑے بیانات کے بعد مکمل خاموشی رہی حالانکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کو لے کر ڈاکٹر طاہرالقادری حکومت کے لیئے مسلسل خطرہ بنے تھے اور حکومت کے لیئے اچھا موقع تھا کہ بڑے ہرجانے کا دعویٰ کر کے عدالتوں کے چکر لگوائے جاتے۔

سوال تو آپکے ذہنوں میں بھی اٹھ سکتا ہے کہ اس سارے معاملے میں کلبھوشن کہاں ہے ۔

اگر کسی نے کبھی میاں نواز شریف کے منہ سے کلبھوشن یادیو کا ذکر خیر بھی سنا ہو تو بتا دے ۔بات صرف اتنی ہے کے نیب نے میاں صاحب کو تقریباً پانچ بلین ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے ہندوستان بھجوانے پر نوٹس بھیج دیا ہے۔اس بات کی اصل حقیقت تو تحقیقات کے بعد ہی پتہ چلے گی مگر میاں صاحب کے خلاف مسلسل مقدمات بتا رہے ہیں کہ مسئلہ خلا کا نہیں خاک کا ہے،کلبھوشن یادیو کے معاملے کو لے کر بھارتی حکومت کے خلاف مضبوط کیس بنایا ہی نہیں گیا اسی وجہ سے عالمی عدالت نے پھانسی پر عملدرآمد رکوایا ہوا ہے

۔ جس عالمی عدالت کو بھارت نے کشمیر سمیت کسی بھی معاملے کیلئے تسلیم ہی نہیں کیا ہم وہاں بھارت کی ایک بے جواز درخواست کے ساتھ بندھے ہوئے پہنچ جاتے ہیں اور جوابدہی بھی کرتے ہیں ۔ بھارت نے کتنے ہی افراد کو پاکستان کے جاسوس قرار دیکر سزائے موت سے لیکر مختلف سزائوں پر عمل کر ڈالا، ہم کو تو نہ عالمی عدالت انصاف یاد آئی اور نہ ہی بھارت نے کلبھوشن کے معاملے کی طرح کبھی پاکستان کو ایسی شاندار رسائی دی۔بھارت کے ساتھ آگے بڑھ کر پاکستان کے نرم سلوک کو ہمیشہ بھارت نے پاکستان کی کمزوری سمجھا۔

عالمی عدالت کے ذریعے کلبھوش یادیو کی سزائے موت پر عملدرآمد کا فیصلہ تاخیر کا شکار تو ہو سکتا ہے مگر عالمی عدالت اس فیصلے کو منسوخ نہیں کروا سکتی ۔

ملک پاکستان کے تیزی سے بدلتے ھوئے سیاسی حالات اور بعض حصوں میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے یوں لگتا ہے کے اس جاسوس کو کیفرکردار تک نہ پہنچایا گیا تو سانپ نئے سنپولیوں کو جنم دیتے رہیں گے

پاکستان کے عوام منتظر ہیں اس دن کہ جب وہ فخر سے کہہ سکیں گے

ہاں ایک کلبھوشن ہوا کرتا تھا

حکمرانوں کے ذاتی تعلقات بھارتی حکمرانوں کے ساتھ ڈھکے چھپے نہیں ہیں تجارت کے نام پر ذاتی مفادات کو تحفظ دیا گیا اور اسکی قیمت معصوم عوام اپنے خون سے چکانی پڑی ۔

اجمل قصاب کو قونصلر رسائی دیئے بغیر پاکستانی بتا کر پھانسی دے دی گئی اور پاکستان میں دہشتگردی کرنے والے عالمی عدالت انصاف کی آڑ لے رہے ہیں ۔کلبھوشن کا فیصلہ خلائ مخلوق کرے یا خاکی مخلوق جل از جلد

یہ فیصلہ نافذ العمل ہو کر رہے گا

۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ