”عثمان ڈار کے والد نے خواجہ آصف پر احسان کیا لیکن سابق وزیر خارجہ نے احسان فراموشی کی جس کے بعد عثمان ڈار نے اپنے والد کی تضحیک کا بدلہ لینے کیلئے ۔۔۔ “ سینئر صحافی نے بڑے راز سے پردہ اٹھادیا

”عثمان ڈار کے والد نے خواجہ آصف پر احسان کیا لیکن سابق وزیر خارجہ نے احسان ...
”عثمان ڈار کے والد نے خواجہ آصف پر احسان کیا لیکن سابق وزیر خارجہ نے احسان فراموشی کی جس کے بعد عثمان ڈار نے اپنے والد کی تضحیک کا بدلہ لینے کیلئے ۔۔۔ “ سینئر صحافی نے بڑے راز سے پردہ اٹھادیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی حبیب اکرم کا کہنا ہے کہ 1999 میں مارشل لا لگا تو عثمان ڈار کے والد امتیاز الدین ڈار نے نہ صرف مسلم لیگ کیلئے کام کیا بلکہ خواجہ آصف کو بھی سہارا دیا لیکن 2002 کے الیکشن میں خواجہ آصف نے انہیں ایم پی اے کا ٹکٹ نہیں دیا جس کے بعد مخالفت شروع ہوئی اور اسی مخالفت میں پہلے امتیاز الدین ڈار سیالکوٹ کے ناظم بنے جس کے بعد انہوں نے اپنے بیٹے عثمان ڈار کو خواجہ آصف کے مقابلے میں الیکشن لڑایا۔ عثمان ڈار نے الیکشن ہارنے کے باوجود خواجہ آصف کے خلاف نہ جانے کہاں کہاں سے ثبوت ڈھونڈ کر انہیں نااہل کراکے اپنے والد کی بے عزتی کا بدلہ لیا۔

حبیب اکرم نے اپنے کالم میں لکھا ’سیالکوٹ کے عمر ڈار عثمان ڈار کے والد امتیاز الدین ڈار مسلم لیگ ن کے پرانے کارکن تھے، جماعت سے ان کی وابستگی کا سب سے بڑا امتحان 1999 میں اس وقت آیا جب جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی دوسری حکومت برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ جمالیا۔ پورے ملک کی طرح سیالکوٹ کے پیرس روڈ پر مسلم لیگ ن کا دفتر بھی بند ہوگیا، خواجہ آصف کبھی روپوش ہوجاتے، کبھی نظر بند ہوجاتے ، کبھی چھوڑ دیے جاتے۔ اس زمانے میں خواجہ آصف کو کسی شخص نے سہارا دیا تو وہ امتیاز الدین ڈار تھے، ایک کاروباری شخصیت ہونے کے باوجود انہوں نے اتنی جرات دکھائی کہ مسلم لیگ ن کے دفتر کی بندش کے بعد سیالکوٹ کے مہنگے ترین علاقے میں اپنے ایک بنگلے کو جناح ہاﺅس کا نام دے کر مسلم لیگ ن کے دفتر میں بدل ڈالا۔ دفتر بنانے کا مطلب تھا جنرل پرویز مشرف کی براہ راست مکالف اور مسلم لیگ ن سے وابستگی کی وجہ سے مشکل میں آئے کارکنوں کی اخلاقی ، مالی اور قانونی امداد۔

نااہلی معطل کرنے سے متعلق خواجہ آصف کی استدعا مسترد،فریقین کو نوٹس جاری

امتیازالدین ڈار نے نہ صرف یہ تینوں کام کیے بلکہ یہ بھی کیا کہ نواز شریف کے جدہ منتقل ہوجانے کے بعد رمضان المبارک میں آٹے کے تھیلے بانٹنا شروع کردیے جن پر نواز شریف کی تصویر چھپی ہوئی تھی، اپنے پیسے سے خریدے گئے آٹے اور بنوائے گئے تھیلوں کے بارے میں یہ پروپیگنڈا بھی کیا کہ یہ تھیلے سعودی عرب سے خصوصی طور پر نواز شریف کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ ابتلا کے اسی دور میں 2002 کا الیکشن آیا تو امتیاز الدین ڈار نے خواجہ آصف سے صوبائی اسمبلی پر الیکشن لڑنے کیلئے ٹکٹ مانگا۔ خواجہ آصف کو نظر آرہا تھا کہ اپنی قربانیوں اور سیاسی داﺅ پیچ کی اچھی فہم رکھنے کی وجہ سے امتیازالدین ڈار ریاستی مخالفت کے باوجود یہ الیکشن جیت جائیں گے اور آگے چل کر انہی کیلئے پریشانی کا باعث بن جائیں گے، ایک ہوشیار سیاستدان کی طرح خواجہ آصف نے امتیازالدین ڈار کو ٹکٹ دینے کی بھرپور مخالفت کی ، ٹکٹ نہ ملنے پر ڈار کو معلوم ہوگیا کہ سیالکوٹ میں مسلم لیگ ن دراصل خواجہ آصف لیگ ہے اور اس لیگ میں ان کی کوئی جگہ نہیں ۔

خواجہ آصف وفادارآدمی ہیں، نوازشریف سے وفا نبھائی ہے: مریم نواز

مسلم لیگ ن کا ٹکٹ نہ ملنے پر امتیازالدین سیالکوٹ کے ناظم بنے اور ق لیگ کا حصہ بن گئے۔ 2013 کے انتخابات میں عثمان ڈار کو انہوں نے خواجہ آصف کا مقابلہ کرنے کیلئے میدان میں اتارا اور اس کی جیت کیلئے دن رات ایک کردیا لیکن الیکشن سے چند روز پہلے ان کا انتقال ہوگیا، جب امیدوار کو میدان میں ہونا چاہیے عثمان ڈار اپنے والد کی آخری رسومات میں مصروف تھے۔ الیکشن ایک بار پھر خواجہ آصف جیت گئے مگر عثمان ڈار نے بھی ہار نہیں مانی اور اپنے والد کی بے عزتی کا بدلہ لینے کیلئے مسلسل متحرک رہے ۔ نجانے کہاں کہاں سے انہوں نے خواجہ آصف کے خلاف ثبوت تلاش کیے اور آخر کا ر انہیں تاحیات نا اہل کرانے میں کامیاب ہوگئے۔ وہ شخص جسے خواجہ آصف نے عزت کا مستحق نہیں سمجھا تھا ، مر کر بھی انہیں شہہ مات دے گیا تھا۔ خواجہ آصف کی بیرون ملک نوکری، چھپایا گیا بینک اکاﺅنٹ ، وصول کی گئی تنخواہ اور قانونی دلائل سب کچھ اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ انہیں اپنے رویے کی سزا ملی ہے، ایسا رویہ جو عام طور پر وہ صرف اپنے سے چھوٹوں کے ساتھ روا رکھتے ہیں، وہ رویہ جو جمہوری ہے نہ شائستگی کے معیار پر پورا اترتا ہے۔

مزید : سیاست /علاقائی /پنجاب /سیالکوٹ /لاہور