شکار۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 3

شکار۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 3
شکار۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 3

  

گاؤزرد کے شکار کی مجھے اجازت ملی تو میں نے وہی تالاب مناسب سمجھا جہاں یہ جانور پانی پینے آتے تھے ..... لیکن مجھے تالاب پر کسی جانور کی ہلاکت کرنا یا فائر کرنا ہر گز گوارا نہیں تھا ..... تالاب کے کنارے جو مچان بنائی گئی تھی وہ شہزادہ رضا کے لیے تھے ..... وہ بھی سال میں صرف ایک بار اس مچان پر بیٹھے اور چند جانور شکار کئے ..... میں نے سوچا اس مچان کو نکلوا دوں تاکہ کسی پانی پینے والے جانور کو نہ مارا جا سکے لیکن مجھے ایسا کرنے کی جرأت اس لئے نہیں ہوئی کہ وہ شہزادے کی مچان تھی ..... نہ جانے اس کے حاشیہ بردار اس نیک کام کو کس رنگ میں شہزادے کے گوش گزر کریں ..... یوں بھی مجھے ان کے شکار پر اعتراض کا حق نہیں تھا..... 

شکار۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 2 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

تالاب جس وادی میں تھا وہ سطح ضرور تھی لیکن بلندی پر واقع تھی ..... غالباً ڈیڑھ میل مربع رہی ہوگی تین طرف پہاڑیاں ..... چوتھی جانب مغربی سمت تھی زمین یکبار گی نشیب کی طرف ڈھل گئی تھی ۔یہ ڈھلان کوئی سوگز نشیب میں جا کر ایک اور وادی میں ختم ہوتا تھا جس میں چھدرا جنگل تھا یہ سارا علاقہ پہاڑی تھا ..... بعض بلند پہاڑیوں کی چوٹی پر گرمیوں میں بھی برف کی ہلکی تہہ جابجا نظر آتی تھی.....

تہران شہر ہی تقریباً تین سے ساڑے تین ہزار فٹ کی بلندی پر ہے ..... شہر کے بعض علاقے ..... مثلاً نیا وران ..... شمیران ..... وغیرہ پانچ چھ ہزار فٹ بلند ہیں.....سعد آباد اور عباس آباد کا علاقہ چار ہزار پر تھا ..... شکار گاہ چار ہزار فٹ کے قریب ہے..... 

میں کئی سال گاؤزرد کے تالاب پر آنے جانے کے راستوں کو دیکھتا رہا تھا ..... اور جانتا تھا کہ ان کی آمد تو پہاڑی کی طرف سے ہوتی ہے ..... لیکن واپسی کے وقت نرنچلی گھاٹی کی طرف جاتے تھے اور مادائیں کچھ تو پہاڑی کی طرف ..... اور کچھ وادی کی طرف .....

جس طرف یہ گاؤزرد آتے ،ادھر بیٹھنا میری نظم میں ظلم کے برابر تھا ..... ان کو ریاست کے حکمران کا اس طرح سر راہ رک کر مجھے پہچان لینا ‘ خیریت پوچھنا اور میری نانی صاحب کے بارے میں دریافت کرنا ان کی انتہائی شرافت کی دلیل ہے ..... مجھے وہ اس وجہ سے پہنچانتے تھے کہ میں کبھی کبھی نانی صاحبہ کے ساتھ احمد باد کے محل پر جاتا رہتا تھا ..... نانی صاحب ان کی پیرنی تھیں اور نہ صرف آفتاب بیا بلکہ محل کی اور خواتین بھی ان کی معتقد تھیں ..... 

نواب عبداللہ خاں کا سارا خاندان ..... میری مراد وہ خود ..... بیگم بھوپال ..... اور ان کے والدین وغیرہ ..... نہ ہی رجحان اور اسلامی شعائر کے احترام کرنے والے تھے ..... حمیداللہ خاں کی اولاد میں مذہب کا وہ احترام باقی نہیں رہا ..... 

حمیداللہ خاں ایک تعلیم یافتہ حکمران تھے ..... اور اپنی رعایا کی فلاح و بہبود کا بڑا خیال رکھتے تھے ..... ہندوستان میں سب سے بڑی اسلامی ریاست حیدر آباد دکن ہوا کرتی تھی ..... اور نظام دکن اگرچہ بذات خود مذہبی نہیں تھے لیکن انھوں نے اپنی بے انتہا ثروت کی اسلامی ارادوں کے لیے وقف کر رکھا تھا ..... بھوپال کا دکن کے بعد دوسرا نمبر تھا ..... اور نواب صاحب اپنی وسعت کے مطابق ہزار ہا افراد کی پرورش کرتے تھے ..... کتنے ہی اسلامی تعلیمی اور مذہبی اداروں کی مالی امداد کرتے تھے اور خاص خاص موقعوں پر عطیات دیتے رہتے تھے..... 

بھوپال کو اللہ تعالیٰ نے ایسی پُر بہار‘ جانفزا اور صحت افزا مقام پر آباد کیا تھا ..... جہاں دلکشی وحسن ‘ رنگینی اور لطافت نے اپنا مرکز بنا رکھا تھا.....

بھوپال ..... بہاروں کا نام تھا .....!

بھوپال ..... زندگی کی رنگینی کا نام تھا .....!

شہر بھوپال کو عروس البلاد کہنا نہ صرف درست بلکہ عین صحیح تھا .....’’عروس البلاد‘‘ کا لقب ہی اس شہر کے لیے اختراع کیا گیا ..... شاداب درخت ..... ذرے ذرے سے بھوٹتا ہوا سبزہ ..... جابجاہ شفاف اور شیریں پانی کے چشمے ..... 

بھوپال میں جب ہمارے گھر قربانی کے لیے جانور آتے تھے تو ذبح سے قبل ان کو پانی ضرور دکھایا جاتا تھا۔ اکثر جانور پیاسے ہوتے تھے اور پانی پی لیتے تھے ..... میں نے اسی زمانے میں یہ بات گرہ میں باندھ لی تھی کہ کسی جانور کو پیاس کی حالت میں ہلاک کرنا گناہ ہے.....میں بار ہا پانی کے کناروں پر مختلف علاقوں میں چیتل ‘ سانبھر‘ چیتے اور شیر کے شکار میں بیٹھا ہوں لیکن ہمیشہ یہ خیال رکھا کہ جانور پانی اچھی طرح پی کر واپس جانے لگے تب اس پر فائر کیا جائے ..... ایک دلچسپ واقعہ کا تذکرہ کرنا نا مناسب نہیں ہوگا .....

بھوپال میں مشرقی علاقے کا ایک مشہور مقام گڈھی سانبھر کے شکار کے لیے مشہور تھا ..... گڈھی سے میرے خالو ..... رحیم الدین حسن صاحب نے بہت بڑا سانبھر شکار کیا تھا جس کے سینگوں کا بہت دن چرچا رہا ..... رحیم الدین خالو بھوپال پولیس میں سرکل انسپکٹر تھے اور گڈھی ان کے علاقے کا ایک حصہ تھا ..... میں ان دنوں حمید یہ کالج بھوپال میں فرسٹ ایر میں تعلیم حاصل کر رہا تھا ..... میرے پھوپھی ذات بھائی عظٰیم الدین ان دنوں گڈھی کے قریب ایک جگہ بنام دیہ گاؤں کے تھانے پر متعین اور سب انسپکٹر انچارج ہوا کرتے تھے ..... وہ کسی جرم کی تفتیش کے سلسلے میں کسی مقام پر جاتے ہوئے جنگل کے ایک حصے سے گزر رہے تھے کہ تھوڑے فاصلے پر انھیں وہ سانبھر نظر آیا جس کا کئی گاؤں والے ان سے نذکرہ کر چکے تھے ..... بہت بڑے سینگوں والا یہ سانبھر جس کو سب نے سانڈ کے برابر بتایا تھا ..... وہ جب تھانے واپس آئے تو ایک سپاہی کو بھوپال بھیجا اطلاع دے اور ساتھ ہی لے آئے ..... میں سہ پہر کو کالج سے واپس آیا تو سپاہی یہاں دروازے پر ہی سلیوٹ کر کے مسکرائے..... 

’’خیریت ..... آپ کیسے آئے.....؟‘‘

‘‘تھانیدار صاحب نے آپ کو بلایا ہوگا.....؟‘‘

’’کیوں ..... ؟ ‘‘

انھوں نے سانبھر کی ساری تفصیلات بیان کردیں..... 

میرے شکار کا سامان تو گویا ہمہ وقت آمادہ رہتا تھا ..... والد صاحب سے اجازت طلب کی جو فوراً ہی مل گئی ..... والدہ صاحبہ سے رخصت ہوا ..... رائفلیں اور بندوق سپاہی پر لادیں اور تانگے پر بیٹھے کر بیرون بدھوارہ دروازہ آپہنچے جہاں سے گڈھی جانے والی بسیں ملتی تھیں ..... (جاری ہے )

شکار۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 4 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /شکاری