امریکہ نے ایران سے نیوکلئیرمعاہدہ دراصل کیوں توڑا؟

09 مئی 2018 (14:35)

ڈاکٹر رشید گِل( کینیڈا)

امریکی صدر ڈو نلڈ ٹرمپ نے اپنے ا نتخابی وعدے کے مُطابق ایران کے ساتھ جوہر ی معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان کر دیاہے۔ انہوں نے معاہدے سے نکلنے کی کئی وجوہا ت بیان کی ہیں۔ اُنہوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو گلا سڑا اور فرسودہ قرار دیا۔ جو کہ ایران کو جوہری سرگرمیوں سے باز رکھنے میں بالکُل ناکام رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ معاہدہ شروع ہی سے غلط مفروضات اور جھوٹے شواہد پر مبنی تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایران نے اس معاہدے کی آڑ میں کھربوں ڈا لرز کما ئے اور اپنے منصوبے کے مُطابق یورینم کی افزودگی کو چوری چھُپے جاری رکھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معا ہدہ امریکی مُفادات کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ ایک تباہ کُن معاہدہ ہے۔ جس سے امریکہ کو فائدے کی بجائے اُلٹا نُقصان ہوُا ہے۔ یاد رہے کہ کہ مذکورہ معاہدہ ۲ امئی کو ختم ہو رہا ہے۔ اُدھر ایران نے کہا کہ امریکہ کو معاہدہ ختم کر کے پچھتانا پڑے گا۔

قارئین کی دلچسپی کے لئے یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ مذکورہ معاہدے میں امریکہ کے اتحادی ممالک بر طانیہ، فرانس اور جر منی بھی شامل تھے۔ اور ان تمام ممالک کی کوشش رہی کہ کہ امریکہ کو منا لیا جائے کہ وُہ مذکورہ معاہدے کی تو ثیق کر دے لیکن یورپین ممالک کی تمام تر کو ششیں ناکام ہو گئیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے مذکورہ معاہدے کو ختم کر دیا لیکن ساتھ ہی عندیہ بھی دیا ہے کہ وُہ ایران کے ساتھ نئی شر ا ئط پر معاہدہ کرنے کو تیار ہے لیکن ایران نے دوبارہ کسی قسم کامعاہدے کرنے کی پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے۔ ایران کے صدر نے کہا کہ ایران کے پاس متبادل منصوبہ موجود ہے۔ ایران کو معاہدے ختم ہو جانے کی صورت میں کوئی خاطر خواہ فرق نہیں پڑے گا۔ بلکہ انہوں نے الزام دیا امریکہ کے صدر نے یہ فیصلہ اسرائیل کے بہکاوے میں آ کر کیا ہے جس سے اُسکو آنے والے دنوں میں پچھتاوا ہو گا۔ تاہم امریکی صدر کے اعلان پر اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکہ کے صدر کے فیصلے کو سراہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادے سلمان نے امریکہ کی مکمل حمائت کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر نے اس معاہدے کو ختم کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے اس معاہدے کی بدولت کھربوں ڈالرز کمائے لیکن ایران نے یہ خطیر رقم اپنے عوام پر خرچ کرنے کی بجائے دہشت گردی کو بھیلانے اور علاقے میں اپنے اثر و رسوخ کو غلط انداز میں بڑھانے کے لئے استعمال کیا ہے۔ لہذا امریکہ ایران کو اپنے مذموم ارادوں سے روکنے کے لئے سخت سے سخت اقتصادی پانیدیا ں عائد کرے گا۔تاکہ ایران دوسرے ممالک میں اپنی دخل اندازی بند کرے اور دہشت گردی کو روکے۔

عام خیال ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ میں یمن کے حو ثی قیبیلہ سے تعلق رکھنے والے مسلح گروہوں کی اقتصادی اور فوجی مدد کر رہا ہے تاکہ وُہ سعودی عرب پر اپنے حملے جاری رکھیں۔ ایران کے مز ائیلوں کی وجہ سے سعودی عرب کی سر زمین پر آ ئے دن حملے کئے جاتے ہیں ۔ ایران سعودی عرب کو اپنا حریف سمجھتا ہے اور باہمی عداوت کی وجہ سے وُہ سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات کو ایران کے لئے نُقصان دہ سمجھتا ہے ۔ اس لئے وُہ سعودی عرب کو زچ کرنے کے لئے نئے ڈھنگ سے حملہ آور ہوتا ہے۔ مزید براں، ایران اپنے مسلک کی تبلیغ کے لئے سعودی عرب سے وابسطہ لوگوں کو سعودی عرب کی حکومت کے خلاف بھڑ کاتا ہے۔ یاد رہے کہ کہ شعیہ مسلک سے تعلق رکھنے والے سعودی باشندوں کی قا بلِ لحاظ آبادی سعودی عرب کے مشرقی حصوں میں میںآباد ہے جہاں کے خام تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ لہذا سعودی حکام ایران کی ہر چال پر گہری نظر رکھتے ہیں اور اپنے مُفادات کی حفاظت کے لئے چوکنا ہیں۔ مختصر الفاظ میں اتنا کہنا ہی کافی ہو گا کہ علاقے میں اپنی اپنی بر تری قایم کرنے کے لئے دونوں ممالک، ایران اور سعودی عرب اپنی اپنی پا لیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ جبکہ سعودی عرب نے خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر حوثیوں کے خلاف جنگ برپا کر رکھی ہے۔ ایران ایک منصوبے کے تحت یمن کی ہر طرح سے مدد کرکے سعودی حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ ایران نے سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کو اپنے انداز میں بڑھاوا دے کر قطر میں اپنا مستقل ٹھکانہ بنا لیا ہے۔قطر کے مُشکل حالات میں مدد کرکے ایران نے قطری حکومت کے دل میں اپنا مستقل مقام بنا لیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تجارتی معاہدے کرکے مالی اور سیاسی فائد حال کئے ہیں۔ جبکہ سعودی عرب نے ایک طاقتور مُلک قطر کو گنوا لیا ہے۔ قطر پر الزام تھا کہ وُہ در پردہ ایران کے ساتھ مل کر یمن کے حو ثی قبیلے کی مدد کرتا تھا اور سعودی اتحاد کی خفیہ جنگی حکمت عملی کی خبریں ایران اور یمن کو بہم پہنچاتا تھا۔ اِس صورتحال سے نمٹنے کے لئے سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک نے قطر سے تمام قسم کے تعلقات کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ترکی اور ایران نے مشکل حالات میں قطر کی حکومت کا ساتھ دیا اور خلیجی ممالک اور سعودی عرب کے بائیکاٹ کے اثرات سے بچانے کے لئے دونوں ممالک نے قطر کی فوجی اور سیاسی طور پر مدد کی ۔ علاوہ ازین، غذا کی فراہمی میں بے مثال کردار اداکیا۔ تاہم سیاسی طور پر ایران نے اِس صورت حال سے کما حقہ فائدہ اٹھایا۔مذکورہ بالا وجوہات کی بدولت، سعودی اور ایرانی تعلقات میں خاصی سرد مہری پائی جاتی ہے۔ مستقبل قریب میں ان ممالک کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا بعید از قیاس لگتا ہے ۔ تاہم ناممکن ہر گز نہیں۔ کیو نکہ سیاست میں کچھ بھی حتمی طور پر کہنا نہایت دوبھر ہے۔

ایران ا ور سعود ی عرب خطے میں اپنی اپنی بر تری دکھانے کے لئے ہر قسم کا خطرہ مول لینے کے لئے تیار ہیں۔ ایران اسرائیل کو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لئے شام کی مدد کرتا ہے۔ شامی فو جوں کی مدد کرنے کے لئے مالی امداد کے ساتھ لبنان میں موجودہ شیعہ تنظیم کو اسرائیل کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ لہذا امریکہ ایران کی ان سرگرمیوں کو کلی طور پر بند کرنا چاہتا ہے۔سعودی عرب اور خلیجی ممالک کا امریکہ سے تقاضا رہا ہے کہ وُہ ایران کی طرح ایٹمی ہتھیار بنانے میں اُن ممالک کی مدد کرے یا اُن ممالک کو فوجی امداد فراہم کرے تاکہ وُہ ایٹمی حملے سے بچ سکیں۔لیکن امریکہ ان ممالک کو ایٹمی ہتھیار فراہم نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی خطے میں ایٹمی بم بنانے کی اجازت دینا چاہتا ہے۔ تاہم امریکہ نے ایران اور دوسرے مُلکوں کی جارحیت کو روکنے کے لئے مذکورہ ممالک سے فوجی معاہدے کر رکھے ہیں۔ کیونکہ امریکہ اپنے مُفاد میں ان ممالک کو گنوانا نہیں چاہتا۔امریکہ ان ممالک کو کروڑوں ڈالرز کا ہر سال اسلحہ بیچتا ہے اور اقوام متحدہ میں ان ممالک کی پشت پناہی کرتا ہے۔امریکہ ان ممالک کی مدد کی آڑ میں اقتصادی اور سیاسی فوائد حاصل کرتا ہے۔ علاوہ ازیں، ایران سے نمٹنے کے لئے علاقے میں اپنے حلیف ممالک کو جنگ میں مدد فراہم کرنے کے لئے آمادہ رکھتا ہے۔ اس لئے یہ بات امریکہ کے مُفاد میں جاتی ہے کہ وُہ اپنے مُفاد میں ایران کے ساتھ اپنے جوہری معاہدے کو ختم کرکے سعودی عرب اور وسرے خلیجی ممالک کی خوشنودی حاصل کرے اور ایران کے خلاف علاقے میں اپنی پوزیشن کو فوجی اور سیاسی طور پر مضبوط کرے۔

۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں