انتخابات سے پہلے کڑا احتساب نا گزیر 

انتخابات سے پہلے کڑا احتساب نا گزیر 
انتخابات سے پہلے کڑا احتساب نا گزیر 

  

اللہ پاک نے ہمیں یہ پاک دھرتی  بے پناہ قربانیوں کے بعد عطا کی ہے ۔  ہمارے پیارے وطن پر کرم در کرم فرماتے ہوئے اس کو بے پناہ وسائل بھی عطا فرمائے ، قائد اعظم  کی صورت میں اتنے عظیم لیڈر کے ہاتھوں اس کی تشکیل اس طرح سےہوئی کہ اس عظیم لیڈر نے اس پاک دھرتی کی بنیاد اتنی مضبوط بنائی کہ آج تک اندرونی اور بیرونی دشمن چاہتے ہوئے بھی اس پاک دھرتی کی بنیادوں کو ہلا نہیں پائے ۔۔۔

اس ملک کو رب ذوالجلال نے بے حساب قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ  ٹیلنٹ کی نعمت بھی عطا فرمائی، لیکن ہم نے اس نعمت کی قدر نہیں کی اور اس کی باگ ڈور نا اہل اور لٹیروں کے ہاتھوں میں نہ چاہتے ہوئے بھی دے دی ۔ نہ چاہتے ہوئے اس لیے کہا کہ بیچاری عوام بھی ہمارے کرپٹ انتخابی نظام کے ہاتھوں مجبور ہو کر ان لٹیروں کو اقتدار پر بٹھا دیتی ہے۔

ایک دفعہ پھر انتخابات کی بازگشت سنائی دے رہی ہے ۔ ہر بڑا ،وڈیرا ،جاگیردار ، دوبارہ پارٹیاں بدل رہا ہے ۔۔ انتخابات سے   میری قوم  نے دوبارہ امید لگا لی ہے ، لیکن تیری اس خوش فہمی کو دفن کرنے کے لیے یہ وڈیرے پارٹیاں تبدیل کر رہے ہیں ۔ یہ اپنے مفاد ،لوٹ مار کی خاطر پارٹیاں تبدیل کر رہے ہیں ۔۔

یاد آیا ہمارے پیارے وطن کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان اس لیے رکھا گیا تا کہ اس دھرتی پر اسلام نافذ ہو سکے ۔ اور اسلام کا ایک قانون چور کی گرفت کرنا بھی ہے ۔ جتنے بھی امید وار دوبارہ ہم پر مسلط ہونے کے لیے اپنا پیسہ لگا رہے رہیں ۔۔ان میں بہت سے  چور اور ڈاکو ہی تو ہیں ۔ میں محسوس کر رہا ہوں کہ اس بلاگ کو پڑھنے والا قاری دل میں مجھے کہ رہا  ہوگا کہ جناب سب تو چور نہیں ہیں ۔ درست کہا ۔۔۔ سب چور نہیں ہیں ،،،،، یہ چیک کرنے کے لیے کہ کون چور ہے ،اس گتھی کو سلجھانے کے لیے ہمارے پاس  ایک ہی راستہ ہے 

اوراس راستے کا نام ہے ،کڑا اور بے رحم احتساب 

اگر ہم واقعی  اس دھرتی سے پیار کرتے ہیں تو ہمیں اس دفعہ انتخابات سے پہلے کڑا احتساب کرنا ہو گا ۔ جو واقعی  چور نکلے اس کا ایسا احتساب ہو کہ آئیندہ وہ اس ملک کو لوٹنے کے بارے میں صرف سوچے تو بھی اس کی روح کانپ اٹھے ، اس کڑے احتساب کی چھلنی سے گزر کر جو ایماندار شخص آگے آئے گا وہ جس بھی پارٹی سے ہوا ملک کے لیے مخلص ہو گا، اگر اس دفعہ بھی کڑے احتساب اور انتخابی اصلاحات کے بغیر انتخابات ہو گئے تو ،، دوبارہ ہم برے حالات کا رونا روتے رہیں گے ، 

23 دسمبر 2012 کے جلسے کے بعد سے لے کر آج تک ڈاکٹر طاہر القادری صاحب اسی بات پر زور دے رہے ہیں کہ امیدواروں کو جب تک کڑے احتساب سے نہیں گزاریں گے تب تک کوئی تبدیلی نہیں آئے گی ۔ 2013 کے انتخابات سے پہلے قادری صاحب نے دھرنا بھی اسی مقصد کے لیے دیا تھا کہ ادارےامیدواروں کا پہلے احتساب کریں  پھر جو صاف ہوں ان کو ہی الیکشن لڑنے کا موقع دیا جائے ۔لیکن کرپٹ عناصر کی ملی بھگت سے اس چیز پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے ۔ اس دفعہ بھی اگر الیکشن کڑے احتساب اور انتخابی اصلاحات کے بغیر ہوئے تو کوئی تبدیلی نہیں آئے گی ۔

 ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک حدیث پاک کے اندر ارشاد فرمایا کہ میری بیٹی فاطمہ بھی اگر چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا ، دیکھا قارئین محترم پھر اسی پاکباز فاطمہ رضہ اللہ کے صدقے ہمیں حضرت امام حسین رضی اللہ  ملے ، پھر اسی حسین نے ہمارے  دین کو بچایا ،۔۔۔ آج بھی اسی فارمولا کو اپنانا ہو گا ، جس نے بھی اس ملک کو لوٹا ہے ،اس کو کڑی سے کڑی سزا دیے بغیر دوبارہ منتخب کر لیا گیا تو ہمارے نصیب میں پچھتانے کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔

 ۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

 

 

 

 

مزید : بلاگ