تلاوت اورنعت پڑھنے والوں کو کتنا معاوضہ لینا چاہئے ؟ ایسا شرعی جواب کہ سب سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے 

تلاوت اورنعت پڑھنے والوں کو کتنا معاوضہ لینا چاہئے ؟ ایسا شرعی جواب کہ سب ...
تلاوت اورنعت پڑھنے والوں کو کتنا معاوضہ لینا چاہئے ؟ ایسا شرعی جواب کہ سب سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے 

  

لاہور( ایس چودھری ) یہ سوال پرانا ہے اور ہر دور میں نئی نسل کے سامنے اٹھایا جاتا رہا ہے کہ کیا دین کی خدمت کے نام پر پیسے لینے چاہئیں۔خاص طور پر آج کے زمانہ میں جب نعت گوئی کاروبار بن چکا ہے ۔ جیسے ایک محفل نعت میں کسی نعت خواں کو بلایا جائے تو کم از کم 2 لاکھ اس کا ریٹ اور باقی پھینکے یا لٹائے جانے والے پیسے منہ سے مانگتے ہیں۔ یا پھر وہ ٹی وی پر بیٹھ کر درس دیتے ہیں اور ساتھ ہی ہر شو پر ٹی وی کو چارج کرتے ہیں؟ اس بارے میں دین اور شریعت کیا جواب دیتی ہے ۔اس بارے میں ممتاز عالم دین ومفتی محمد شبیر قادری کا کہنا ہے کہ تلاوت، نعت اور وعظ و نصیحت کے لیے سودے بازی کرنا قطعی طور پر ممنوع ہے۔ یہ خدمتِ دین نہیں، بلکہ دین کی خرید و فروخت اور کاروبار ہے۔ قراء ، نعت خواں اور مقررین حضرات کو آمد و رفت کے اخراجات مہیا کرنا اور صرف کردہ وقت کا معاوضہ دینا محافل کے منتظمین کی ذمہ داری ہے۔ لیکن تلاوت و نعت اور وعظ و نصیحت کے لیے ہزاروں لاکھوں روپوں کا مطالبہ کرنا، پیشگی رقم وصول کرنا صریحاً ناجائز ہے۔ 

مزید : روشن کرنیں