وہ خاتون جس نے کینسر کی دوا ایجاد کرلی، لیکن پھر اس کے ساتھ حکومت نے کیا سلوک کیا؟ جانئے

وہ خاتون جس نے کینسر کی دوا ایجاد کرلی، لیکن پھر اس کے ساتھ حکومت نے کیا سلوک ...
وہ خاتون جس نے کینسر کی دوا ایجاد کرلی، لیکن پھر اس کے ساتھ حکومت نے کیا سلوک کیا؟ جانئے

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک بھارتی نژاد خاتون سائنسدان، جس نے کینسر کی دوا ایجاد کی، کے اکاﺅنٹنٹ کی ایک معمولی غلطی کی وجہ سے حکومت نے اس کے ساتھ ایسا سلوک کر ڈالا ہے کہ سن کر ہر کوئی افسردہ رہ جائے۔ دی میٹرو کی رپورٹ کے مطابق نشا موہت نامی یہ خاتون سائنسدان بھارتی شہر ممبئی کی رہائشی ہے اور کئی سالوں سے برطانیہ میں مقیم ہے۔ اس نے کچھ عرصہ قبل دیگر برطانوی سائنسدانوں کے ساتھ مل کر کینسر کی دوا ایجاد کی تھی۔ نشا کے اکاﺅنٹنٹ نے دفتر داخلہ کو نشا کی ملازمت سے پہلے کی آمدنی کے بارے میں نہیں بتایا تھا اور اس ٹیکس کی تفصیلات فراہم نہیں کی تھیں جو وہ ادا کر چکی تھی۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں ویزہ کی مدت ختم ہونے پر جب نشا موہت نے دوبارہ ویزے کی درخواست دی تو ہوم آفس نے ”برے کردار“ کے باعث اس کی درخواست مسترد کر دی۔ ہوم آفس کا کہنا تھا کہ ”نشا نے اپنی آمدنی ظاہر نہیں کی اور 15ہزار300پاﺅنڈ(تقریباً24لاکھ روپے) کا واجب الادا ٹیکس ادا نہیں کیا۔نشا کی درخواست مسترد ہونے کے باعث نہ صرف نوکری سے ہاتھ دھونے پڑے بلکہ وہ گھر سے بے گھر ہو گئی اور اس کی جمع پونجی بھی ضبط کر لی گئی ہے۔ اس حوالے سے نشاکا کہنا ہے کہ ”میں نے 2013ءمیں نیا اکاﺅنٹنٹ رکھا تھا، جس نے میری پہلے کی آمدنی اور ٹیکس کی تفصیلات ہوم آفس میں جمع نہیں کروائیں۔ اس کی یہ چھوٹی سی غلطی مجھے سڑک پر لے آئی ہے۔اب ہوم آفس والے کہتے ہیں کہ میرا کردار ٹھیک نہیں، حالانکہ برطانیہ آنے سے لے کر آج تک میں نے ایک ایک پاﺅنڈ کا حساب حکومت کو دیا ہے اور تمام ٹیکس ادا کیا ہے۔میں اس وقت ایسی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکی ہوں کہ بعض اوقات میرے ذہن میں خودکشی کے خیالات آتے ہیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ